20ستمبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن) اسلام آباد میں ،پاک-چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے حوالے سے، دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے کے سلسلے میں، تعلیم اور عوامی روابط جیسے شعبوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، سیدال خان ناصر نے کہا کہ بین الاقوامی اور علاقائی حالات میں تبدیلیوں کے باوجود، پاک-چین تعلقات مضبوط اور مستحکم رہے ہیں اور چین نے مشکل وقت میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اور گوادر بندرگاہ کو دوطرفہ تعاون کے اہم ثمرات قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اب زراعت، صحت، تعلیم اور کھیلوں سمیت مختلف شعبوں تک پھیل چکا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہونے پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، چین کے ترقیاتی تجربے، بالخصوص تعلیم کے شعبے میں چین کی پیش رفت سے استفادہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر بھی زور دیا کہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

پاکستان میں چینی سفارتخانے کے ناظم الامور شی یوان چیانگ، پاک-چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے ہیں۔(پیپلز ڈیلی/سید حنان گیلانی)
پاکستان میں چینی سفار تخانے کے ناظم الامور شی یوان چیانگ نے کہا کہ چین، تعلیمی اداروں، تھنک ٹینکس، میڈیا اور دیگر شعبوں کے مابین تبادلوں اور تعاون کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے اور پاکستانی طلبہ کو چین میں اعلیٰ تعلیم کے حصول میں معاونت فراہم کرنے کے لیے وظائف، گرانٹس اور تربیتی پروگرامز کو مزید مؤثر طور پر بروئے کار لایا جائے گا۔ شی یوان چیانگ نے کہا کہ دونوں ممالک سی پیک 2.0 کو آگے بڑھاتے ہوئے صنعت، زراعت اور کان کنی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کریں گے، جب کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات بھی تلاش کیے جائیں گے۔
دی ملینیم ایجوکیشن گروپ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر چوہدری فیصل مشتاق نے نوجوان نسل کے درمیان روابط مضبوط بنانے میں تعلیم اور چینی زبان سیکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے سی پیک صرف چین-پاکستان اقتصادی راہداری نہیں ہے، بلکہ یہ چین-پاکستان تعلیمی راہداری بھی ہے۔ ڈاکٹر فیصل مشتاق نے انسانی سرمائے، تحقیق، انکیوبیشن اور علم پر مبنی معیشت میں زیادہ سرمایہ کاری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاک-چین تعلقات کو صرف حکومتوں کی سطح تک محدود رکھنے کی بجائے تعلیم، زبان، ثقافت، کاروباری مواقع اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان براہ راست روابط کے ذریعے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ سی پیک کے اگلے مرحلے میں، عوامی روابط اور صنعتی تعاون پر زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کی جامعات ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کر سکتی ہیں۔ ان کی رائے میں، تعلیمی اور تحقیقی روابط مضبوط بنا کر پاکستان اور چین کے درمیان ایک "علمی راہداری" کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

اسلام آباد میں، پاک-چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب کے دوران اسکول کے طلبہ پرفارم کر رہے ہیں۔(پیپلز ڈیلی/سید حنان گیلانی)
دی سینٹورس گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سردار یاسر الیاس خان نے ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری، بالخصوص ٹیکنالوجی کی منتقلی کے شعبے میں زیادہ تعاون پر زور دیا اور سیاحت کے شعبے میں موجود مواقع کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی، مینوفیکچرنگ اور مقامی برینڈز کی ترقی کے حوالے سے چین کے تجربات سے استفادہ کر سکتا ہے۔

پاکستان میں چینی سفارتخانے کے ناظم الامور شی یوان چیانگ تقریب کے دوران روایتی ملبوسات میں موجود بچوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔(پیپلز ڈیلی/سید حنان گیلانی)
سیمینار کے دوران اسکول کے بچوں نے ثقافتی پرفارمنسز پیش کیں جب کہ پاک-چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کی مناسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔



