• صفحہ اول>>ثقافت و سیاحت

    تھو قومیت کی  مخصوص  کڑھائی جو  ایک بھرپور ترقی پذیر  صنعت بن گئی

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-10-14

    14 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)شمال مغربی چین کے صوبے چھنگ ہائی کے شہر حائی دونگ کی خود اختیار کاونٹی حو جو تھو میں، تھو قومیت کی ایک مخصوص انداز کی کڑھائی ، ایک ہزار سال سے نسل در نسل منتقل ہوتی آرہی ہےاور آج یہ 27 ملین یوان (تقریباً 4.03 ملین ڈالر) سالانہ سے زائد مالیت کی ایک منفرد اور تیزی سے پھلتی پھولتی صنعت میں تبدیل ہو گئی ہے ۔

    لی فاشیو ، کئی ٹانکوں پر مبنی کنڈلی کے انداز سے کی جانے والی اس پیچیدہ کڑھائی کی ماہر ہیں ۔انہوں نے 7 سال کی عمر سے یہ کڑھائی سیکھنی شروع کی اور تقریباً 70 سال بعد، وہ اس فن کی قومی سطح کی نمائندہ وارث ہیں اور دان ما ٹاون میں غیر مادی ثقافتی ورثے کی ورکشاپ سے کام کر رہی ہیں۔

    دستکار خواتین ،لی فاشیو کی ورکشاپ میں کام کر رہی ہیں ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن ۔ کھوانگ یو)

    دستکار خواتین ،لی فاشیو کی ورکشاپ میں کام کر رہی ہیں ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن ۔ کھوانگ یو)

    1995 میں، لی فاشیو اپنی دستکاریاں لے کر بیجنگ میں منعقدہ خواتین کی چوتھی عالمی کانفرنس میں پہنچیں اور یہاں نمائش میں ان کے کام نے اتنی توجہ حاصل کی کہ ان کا تمام کام فروخت ہوگیا۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے لگتا تھا کہ ہماری یہ کڑھائی محض صندوق میں رکھی ہوئی وہ خاص چیز ہے جو دلہن کے جہیز کا حصہ ہوتی ہے لیکن بعد میں مجھے احساس ہوا کہ یہ ایک اچھا ذریعہ روزگار بھی بن سکتی ہے۔

    تاہم اس وقت، ان کے گاؤں کے بہت سے نوجوان کام کے لیے دوسرے علاقوں میں جا چکے تھے اور جو خواتین پیچھے رہ گئی تھیں ان کے پاس کھیتی باڑی کے علاوہ پیسے کمانے کا کوئی اور خاص ذریعہ نہیں تھا۔ لی نے سوچا کہ وہ انہیں اس سوئی اور دھاگے کی طرف کیسے واپس لا ئیں جو انہوں نے صندوقوں میں بند کر دیئے ہوئے تھے ۔ جن دنوں کھیتی باڑی نہیں ہو رہی ہوتی تھی تب وہ گاؤں گاؤں جا کر مفت میں یہ کڑھائی کرنا سکھانے لگیں، کچھ وقت گزرا تو انہوں نے غیر مادی ثقافتی ورثے کی ایک ورکشاپ قائم کی جہاں اب 50 سے زیادہ مقای کشیدہ کار اپنی سہولت کے مطابق وقت نکال کرآتے ہیں اور ان کو ایک ایک پارچے کے حساب سے ادائیگی کی جاتی ہے۔

    2007 میں چین نے تھو کڑھائی کے لیے ایک مخصوص کمپنی قائم کی۔ سترہ سال بعد، اس نے اس فن کے لیے ایک صنعتی بنیاد بنائی۔ کوائلڈ ایمبرائیڈری انڈسٹریل بیس کے سربراہ ، حا چھینگ چھنگ کہتے ہیں کہ کمپنی اور بیس ،پراڈکٹ ڈیزائن اور مارکیٹ ڈویلپمنٹ کو سنبھالتے ہیں، جب کہ پوری کاؤنٹی میں پھیلے ہوئے دستکار پروڈکشن کے ذمہ دار ہیں۔

    اس کاؤنٹی نے اب تک کوائلڈ ایمبرائیڈری کے 75 وارث تیار کیے ہیں ، ساتھ ہی 5,300 کل وقتی اور 3,000 سے زیادہ جز وقتی کڑھائی کرنے والے بھی موجود ہیں۔

    لی فاشیو  کڑھائی کا ایک نمونہ دکھا رہی ہیں ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن ۔ کھوانگ یو)

    لی فاشیو کڑھائی کا ایک نمونہ دکھا رہی ہیں ۔ (پیپلز ڈیلی آن لائن ۔ کھوانگ یو)

    حا چھینگ چھنگ کے مطابق یہ پروگرام، دیہی خواتین کی آمدن بڑھانے میں مدد دے رہاہے۔خواتین زیادہ سےزیادہ 40,000 سے 50,000 یوآن (5,937 سے 7,421ڈالر ) سالانہ کے درمیان کما لیتی ہیں۔یہ مرکز جامعات اور ڈیزائن سٹوڈیوز کے ساتھ کام کرتے ہوئے روایتی کوائلڈ ایمبرائیڈری ڈیزائنز کو جدید مصنوعات مثلاً ڈیزائنر کھلونوں، بلائنڈ باکس چارم اور دیگر اشیا میں شامل کرتا ہے۔یہاں آٹھ مختلف زمروں میں 100 سے زیادہ ثقافتی مصنوعات تیار کی گئی ہیں، جن کی سالانہ فروخت 3 ملین یوآن سے زائد ہے۔

    لی فاشیو کہتی ہیں کہ جب اس روایتی کڑھائی کو سکولز میں سکھایا جاتا ہے، تو تمام جماعتوں اور ہر عمر کے طلبہ اسے سیکھنے میں بے حددلچسپی ظاہر کرتے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ آج کے نوجوان تعلیم یافتہ اور ذہین ہیں، وہ اس فن کو زندہ رکھنے، نئے خیالات سامنے لانے اور اس فن کے فروغ میں مدد دے سکتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ یہ فن آنے والی نسلوں کو بھی سکھائیں گے۔

    ویڈیوز

    زبان