تحریر: معز فاروق (ایگزیکٹو ایڈیٹر ،پاکستان اکنامک نیٹ ورک اور روزنامہ اتحاد میڈیا گروپ )

10 اگست 2026 کو چین کے شہر شینزن کی شین زن بے بندرگاہ پر اپیک 2026 کے حوالے سے نصب کیے گئے تشہیری بینرز کا منظر۔ (تصویر: شنہوا)
کچھ شہر اپنے آپ کو آہستہ آہستہ متعارف کراتے ہیں۔شین زن اسی لمحے اپنے آپ کو متعارف کرواتا ہے جب آپ ہوائی جہاز سے اترتے ہیں۔ ہوائی اڈے سے ہی، مجھے ہر طرف APEC دیکھنے کو مل رہا تھا ۔ یہ شہر ہر آنے والے مہمان کو، بغیر بولے ، یہ پیغام دے رہا تھا کہ وہ ایشیا پیسیفک کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
یہ تیاریاں محض نمائشی نہیں ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر چین کی بڑھتی ہوئی اہمیت اور عالمی تعاون کے فروغ میں اس کے کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔ شین زن، رواں سال نومبر میں ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون تنظیم کے 33ویں سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اس سے قبل 2001 میں شنگھائی اور 2014 میں بیجنگ ، اس اہم اجلاس کی میزبانی کر چکے ہیں ۔ شین زن پہنچ کر مجھے محسوس ہوا کہ یہ شہر نہ صرف اس عالمی اجتماع کی اہمیت سے بخوبی آگاہ ہے بلکہ اپنے مہمانوں کو ایک یادگار تجربہ فراہم کرنے کے لیے بھی پُرعزم ہے۔
آج شین زن کی بلند و بالا عمارات ، جدید شاہراہوں اور ٹیکنالوجی سے آراستہ ماحول کو دیکھ کر محض چار دہائیاں قبل کے اس شہر کی صورتِ حال کا تصور کرنا مشکل ہے ۔ چین کے ابتدائی خصوصی اقتصادی زونز میں شامل شین زن نے مختصر عرصے میں دنیا کے لیے ترقی کی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔ آج یہ شہر جدید صنعتوں، ٹیکنالوجی، اختراعات اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی تیاری کا عالمی مرکز بن چکا ہے۔ یہاں کی ترقی کا اندازہ لگانے کے لیے اعداد و شمار کی ضرورت نہیں پڑتی، شہر کی عمارات، منظم ٹریفک، جدید انفراسٹرکچر اور شہریوں کا اعتماد خود اس کی کامیابی کی داستان بیان کرتے ہیں۔

5 ستمبر 2026 کو چین کے صوبہ گوانگ ڈونگ کے شہر شین زن میں منعقدہ ایشیا پیسیفک میڈیا فورم میں پاکستانی صحافی معز فاروق خطاب کر رہے ہیں۔
میرے شین زن آنے کا بنیادی مقصد چھئین ہائی انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں 5 ستمبر کو منعقد ہونے والے ایشیا پیسیفک میڈیا فورم 2026 میں شرکت کرنا تھا۔ چینی میڈیا کی دعوت پر مجھے اس اہم فورم کے مرکزی اجلاس میں بطور مقرر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا۔ ایک پاکستانی صحافی کی حیثیت سے میرے لیے یہ نہایت اعزاز کی بات تھی کہ میں ایشیا پیسیفک خطے کے ممتاز میڈیا نمائندوں کے سامنے اپنے خیالات پیش کر رہا تھا۔
فورم کا مرکزی موضوع ،ایشیا پیسیفک برادری کی مشترکہ خوشحالی کے لیے راستے ہموار کرنا اور اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کے اتفاق رائے اور عملی کردار کو فروغ دینا تھا۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے میڈیا اداروں کے سربراہان اور صحافی ایک ہی چھت تلے جمع تھے تاکہ موجودہ عالمی حالات میں ممالک اور معاشروں کے مابین اعتماد پیدا کر نے کے لیے میڈیا کے کردار پر تبادلہِ خیال کیا جاسکے ۔ میرے نزدیک اس گفتگو کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ آج معلومات اور بیانیے تجارت سے بھی زیادہ تیزی سے سرحدیں عبور کرتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ ، قوموں کے مابین فاصلے بڑھا بھی سکتے ہیں اور اگر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو مختلف معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا مؤثر ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔
تاہم کسی شہر کی اصل پہچان صرف کانفرنس ہالز، سرکاری تقریبات یا بلند عمارات سے نہیں ہوتی۔ کسی بھی شہر کی حقیقی روح کو سمجھنے کے لیے اس کی گلیوں، بازاروں اور عام شہریوں سے ملنا ضروری ہوتا ہے۔ خوش قسمتی سے شین زن میں مجھے ایسے میزبان میسر آئے جنہوں نے شہر کو محض ایک سیاح کی نظر سے نہیں بلکہ ایک دوست کی حیثیت سے دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔

معز فاروق (بائیں) چین کے شہر شین زن کی ہواچھیانگ نارتھ الیکٹرانکس مارکیٹ کے دورے کے دوران۔
چینی میڈیا کی ٹیم مجھے شہر کی مشہور الیکٹرانکس مارکیٹ ہواچھیانگ نارتھ لے گئی۔ اس مارکیٹ کے بارے میں برسوں سے سن رکھا تھا کہ یہ دنیا میں الیکٹرانکس اور ٹیکنالوجی کی مصنوعات کے سب سے بڑے مراکز میں شمار ہوتی ہے، لیکن وہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ اس کی وسعت اور اہمیت میرے تصور سے کہیں زیادہ ہے۔
متعدد منزلوں پر پھیلی ہوئی اس مارکیٹ میں ہزاروں دکانیں اور کاروباری مراکز موجود ہیں جہاں الیکٹرانکس کے چھوٹے سے چھوٹے پرزے سے لے کر جدید ترین آلات تک تقریباً ہر چیز دستیاب ہے۔ یہاں ٹیکنالوجی کی ایک جامع اور وسیع دنیا نظر آتی ہے۔ تاہم جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ مارکیٹ کا حجم نہیں بلکہ وہاں کاروبار کرنے والے لوگوں کا رویہ تھا۔
دکاندار اپنے کام میں مہارت رکھتے تھے، صارفین کے سوالات کا تسلی بخش جواب دیتے تھے اور مصنوعات کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرتے تھے۔ مجھے کہیں غیر ضروری دباؤ، دھوکا دہی یا زبردستی خریداری پر آمادہ کرنے کا رجحان محسوس نہیں ہوا۔ ہر شخص اپنے کام پر فخر کرتا دکھائی دیا۔ یہ ایک ایسی کاروباری ثقافت تھی جس میں گاہک کا احترام بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
درحقیقت ہواچھیانگ نارتھ مارکیٹ، شین زن کی غیر معمولی ترقی کو سمجھنے کی بہترین مثال ہے۔ دنیا کے بیشتر حصوں میں کسی نئے خیال کو عملی مصنوعات میں تبدیل کرنے کے لیے مختلف شہروں اور ممالک کے صنعتی مراکز سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، لیکن شین زن میں اس عمل کے تقریباً تمام مراحل ایک ہی جگہ مکمل کیے جا سکتے ہیں۔ یہاں کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کے لیے ضروری پرزے، ماہرین، صنعتیں اور کاروباری سہولتیں ایک دوسرے کے قریب ہی دستیاب ہیں۔
پاکستان سے آنے والے ایک نوجوان کی حیثیت سے یہ تجربہ میرے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا۔ ہمارے ملک میں بے شمار باصلاحیت نوجوانوں کے نت نئے کاروباری تصورات ہیں اور وہ اپنی مصنوعات تیار کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ شین زن کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب حکومت، صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروباری طبقہ ایک مربوط نظام کے تحت کام کریں تو نوجوانوں کے خواب حقیقت کا روپ دھار سکتے ہیں۔
لیکن شین زن کے اس دورے کی سب سے یادگار بات نہ کوئی جدید ٹیکنالوجی تھی، نہ بلند عمارت اور نہ ہی کسی بڑی کاروباری شخصیت سے ملاقات، میرے لیے سب سے خوبصورت لمحہ ایک دس سالہ چینی بچے سے ملاقات کا تھا۔
ہواچھیانگ نارتھ کی مصروف مارکیٹ میں ایک کم عمر بچہ میرے پاس آیا اور نہایت اعتماد کے ساتھ انگریزی زبان میں گفتگو شروع کر دی۔ اس کا انگریزی پر عبور، خود اعتمادی اور ایک غیر ملکی سے بلا جھجھک بات کرنے کا انداز دیکھ کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔ہماری گفتگو نہایت دلچسپ رہی۔ اس بچے میں جاننے اور سیکھنے کا غیر معمولی شوق تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے خود ہی مجھے خریداری میں معاونت کی پیشکش کر دی۔ وہ پوری سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ مجھے مختلف دکانوں پر لے گیا اور خریداری میں رہنمائی کرتا رہا۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے وہ برسوں سے یہ کام کر رہا ہو۔

معز فاروق شین زن میں۔
نومبر میں جب ایشیا پیسیفک خطے کے رہنما شین زن پہنچیں گے تو یقیناً ان کی توجہ عالمی معیار کے انتظامات، جدید کانفرنس سینٹرز، بلند عمارات اور شہر کی حیرت انگیز ترقی پر مرکوز ہوگی۔ لیکن میری خواہش ہے کہ وہ اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر ہواچھیانگ نارتھ مارکیٹ کا دورہ بھی کریں، وہاں کے عام لوگوں سے ملیں اور اس شہر کی اصل روح کو سمجھنے کی کوشش کریں اور کیا ہی خوب ہو اگر انہیں بھی وہاں وہ دس سالہ بچہ مل جائے جو ایک اجنبی کی مدد کے لیے بے ساختہ آگے بڑھا تھا۔کیونکہ شین زن کی اصل کامیابی صرف اس کی ترقی کی رفتار میں نہیں بلکہ اس محبت، خلوص اور انسان دوستی میں بھی پوشیدہ ہے جو اس کے شہریوں کے رویوں سے جھلکتی ہے۔
شین زن واقعی ایک ایسا شہر ہے جہاں ترقی کی رفتار اور انسانی محبت ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔



