15 اکتوبر 2026 (پیپلز ڈیلی آن لائن)پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز اینڈ میڈیا ریسرچ کے صدر یاسر حبیب خان نے چین کے دیہات کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چین کے متعدد دیہاتوں میں رپورٹنگ کے لیے جا چکے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہاں کے لوگوں کی زندگی بہت آرام دہ اور سہل ہے نیز لوگ بہت پرامید ہیں۔ یاسر حبیب 2015 کے بعد سے کئی بار چین آئے اور گوانگ شی، جی لین اور سنکیانگ وغیرہ کے دیہی علاقوں کا دورہ کیا یہی وجہ ہے کہ چین کی دیہی سیاحت اور خصوصی صنعتوں کی ترقی کے بارے میں ان کا مشاہدہ بہت گہرا اور خیالات بہت واضح ہیں۔
رواں سال گرمیوں میں، یاسر حبیب خان، "سلک روڈ اکنامک بیلٹ کے مرکزی علاقے میں داخل ہوں" کے موضوع پر ایک رپورٹنگ ٹیم کا حصہ تھے۔ سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے کے شہر تورپان کی ڈسٹرکٹ گاوچھانگ کے گاؤں شین چینگ شی من میں، ان سمیت دیگر غیر ملکی صحافیوں نے ایک دیہی مہمان خانے میں میزبان کی خود بنائی ہوئی آئس کریم اور گھر کے خشک میوے کھائے قومی گیت اور مقامی رقص بھی دیکھا۔ یاسر حبیب خان کا کہنا ہے کہ مہمان خانے کی خاتون مالک نے فخریہ انداز میں بتایا کہ ہر گرمیوں کے سیاحتی موسم میں وہ اپنے ہوم سٹے سے ماہانہ 25,000 یوآن کما لیتی ہیں۔
یاسر حبیب کے مطابق، چین کے دیہی علاقوں میں ایسے مناظر نایاب نہیں ہیں۔ چین کی دیہی سیاحت پھل پھول رہی ہے اور مختلف علاقے مقامی حالات کے مطابق خصوصی صنعتوں کو ترقی دے رہے ہیں، جیسے گوانگ شی کے لیموں، سنکیانگ کی کپاس، جی لین کی جنسنگ وغیرہ سے کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
یاسر حبیب خان کا کہنا ہے کہ چین کے مختلف دیہاتوں کی اپنی منفرد خوبصورتی ہے اور بہت سی مشترکہ خصوصیات بھی ہیں، جیسے جدید زراعت کی ترقی، مضبوط انفراسٹرکچر اور صاف ستھرا خوشگوار ماحول۔ دیہی زندگی بہتر ہوتی جا رہی ہے اور زیادہ سے زیادہ لوگ دیہات میں واپس آنا چاہتے ہیں۔ صوبے جی لین کے ایک دیہہ میں رپورٹنگ کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ گاؤں کی چھوٹی سی دکان کی ماہانہ آمدن بھی 10,000 یوآن تک ہو جاتی ہے، جس کی وجہ دیہی آبادی کی بڑھتی ہوئی قوت خرید ہے۔
یاسر حبیب کی رائے میں، چین اپنی ہر پالیسی میں عوام کو مرکزیت دیتا ہے نہ صرف معاشی ترقی پر توجہ دیتا ہے بلکہ انسانی وقار اور مستقبل کے لیے ان کی امیدوں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ چین کے دیہات میں رہتے ہوئے انہوں نے لوگوں میں کامیابی کے حصول کا فخر اور بہتر زندگی کی خواہش کو محسوس کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے زراعت اور دیہی کاموں میں چین کی طرح عوام کی فلاح و بہبود کو اپنے کام کے اہم نقطہ آغاز کے طور پر لینا قابل تقلید ہے۔



