25 اگست 2025 (پیپلز ڈیلی آن لائن)2012میں ہونے والی سی پی سی کی اٹھارویں قومی کانگریس کے بعد سے ،چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان کی کاونٹی دونگ شان کا گاوں آوجیاو ، خوشحالی کی ایک نئی راہ پر گامزن ہوا ہے ۔ تین طرف سے سمندر سے گھرے ہوئے اس گاوں نے تسلی بخش ماحولیاتی صورتٰ حال کو یقینی بناتے ہوئے، سمندری ماہی گیری، آبی زراعت، سمندری خوراک کی پروسیسنگ، ای کامرس، اور دیہی سیاحت جیسی پانچ اہم صنعتوں کو ترقی دی
یہ زبردست تبدیلی اس امر کا ثبوت ہے کہ شفاف پانی اور سرسبز پہاڑوں کی طرح نیلے سمندر اور صاف ساحل بھی قیمتی اثاثے ہیں۔
15 اگست 2005 کو مشرقی چین کے صوبے جی جیانگ کی کاؤنٹی آن جی کے گاوں یوٹسون کا دورہ کرتے ہوئے، شی جن پھنگ نے پہلی مرتبہ ، "شفاف پانی اور سرسبز پہاڑ قیمتی اثاثے ہیں" کا تصور پیش کیا تھا، اس وقت وہ سی پی سی ، جی جیانگ کی صوبائی کمیٹی کے سیکرٹری تھے۔
چینی صدر، جو سی پی سی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری اور مرکزی فوجی کمیشن کے صدر بھی ہیں،انہوں نے بارہا اس تصور کی وضاحت بھی پیش کی ہے۔
آوجیاو گاؤں کی پائیدار ترقی ایک آسان عمل نہیں تھا، اس کی راہ میں کئی چیلنجز بھی تھے۔ اقتصادی ترقی کے تیز حصول کے دوران، ابتدائی عرصے میں گاؤں نے ماحولیاتی تحفظ کو نظر انداز کیا۔ ساحلِ سمندر کے قریب آبی زراعت کی ترقی کے دوران، کچھ کسانوں نے مقدار اور پیمانے کو ترجیح دی، ساحلی علاقے میں بلا اجازت تعمیرات کی گئیں نیز فضلے اور گندے پانی کو براہِ راست سمندر میں چھوڑ ا گیا۔
مقامی حکومتوں نے ماحولیاتی بحالی کی فوری ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ، صنعتی اور گھریلو فضلے کو ٹھکانے لگانے کا ایک مربوط نظام قائم کیا۔ گاؤں کے پارٹی چیف اور دیہی کمیٹی کے صدر لِن حواجونگ کے مطابق ، مقامی حکام اور مختلف محکمے آوجیاو گاؤں کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے باضابطہ طور پر صنعتی اداروں کا معائنہ کرتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات کو ختم کیا جا سکے۔
گندے پانی کامسئلہ حل کرنے کے لیے ، ہر گلی میں فضلہ جمع کرنے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ گندے پانی کو گھریلو فضلے کے ٹریٹمنٹ پلانٹ میں بھیجا جاتا ہے جہاں اسے کاؤنٹی کے متحدہ نظام کے ذریعے پروسیس کیا جاتا ہے تاکہ یہ اخراج کے معیار پر پورا اتر سکے ۔
لِن حواجونگ کہتے ہیں کہ آلودگی کی روک تھام اور ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کے ذریعے، آوجیاو گاؤں میں شاندار ماحولیاتی بحالی کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔یہ تبدیلی سمندری حیات کی تولید میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور مقامی لوگوں کے لیے معاشی طور پر بھی معاون ہے۔
15 اکتوبر 2024 کو، صدر شی جن پھنگ نے آوجیاو گاؤں کا معائنہ جاتی دورہ کیا، جہاں انہوں نے گاؤں کی گودی پر خشک سمندری خوراک اور ماہی گیری کی مصنوعات کا جائزہ لیا اور دیہی بحالی کی پیشرفت کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
انہوں نے تاکید کی کہ دیہی بحالی کو فروغ دینے کے لیے، گاؤں کو اپنے وسائل اور صلاحیتوں کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور بحری امور کی ترقی میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔
آوجیاو کے رہائشیوں نے بتدریج، سمندری وسائل کے ساتھ ہم آہنگی سے رہنے کا ایک نیا طریقہ تشکیل دیاہے۔
گاؤں میں ماہی گیری کے لیے ، سٹیل کے ڈھانچے والی مختلف سائز کی 640 کشتیاں ہیں، جن کی سالانہ آوٹ پٹ ویلیو 330 ملین یوان (تقریباً 45.98 ملین ڈالر) ہے۔ یہاں آبی زراعت کے 138 جدید فارمز ہیں جن کی پیداواری قدر 2024 میں 3.7 بلین یوان تھی۔
اوجیاو میں سمندری خوراک کی پروسیسنگ سادہ ،بنیادی آپریشنز سے جدید آپریشنز کی طرف بڑھ چکی ہے، جس میں پروسیسنگ کی 38سہولیات شامل ہیں، ان میں فوجیان دونگ شان ہائی یوان ایکویٹک پراڈکٹس کمپنی، لمیٹڈ بھی شامل ہے، جس کا آوٹ پٹ 2024 میں 500 ملین یوان رہا۔ اس گاؤں میں ای کامرس پر مبنی 117 کاروبار ہیں جہاں 532 تکنیکی پروفیشنلز کو ملازمت کا موقع ملا ہے۔ انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کے ذریعےسمندری خوراک پر مشتمل مصنوعات کی فروخت 350 ملین یوان سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔ صرف یہی نہیں اس گاوں میں 700 سے زائد بستروں پر مشتمل ، 41 بی اینڈ بی ہوٹلز بھی ہیں جو سیاحوں کے قیام کو پرسکون اور خوشگوار بناتے ہیں۔
شی جن پھنگ کا کہنا ہے کہ چینی جدیدیت کے فروغ کے لیے دیہی بحالی کو تیز کرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں جس میں پہلی توجہ صنعتوں پر ہونی چاہیے۔
صدر شی جن پھنگ کی جانب سے ملنے والی اسی رہنمائی میں ، اوجیاو گاؤں کے ماہی گیر، آبی زراعت کے آپریٹرز اور کاروباری افراد نے گاؤں کی غیر معمولی قدرتی خوبیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ، ماہی گیری، آبی زراعت، پروسیسنگ، ای کامرس اور سیاحت کے انضمام سے ایک ماحول دوست اقتصادی نظام تشکیل دیا ہے ۔
فوجیان دونگ شان ہائی یوان ایکویٹک پراڈکٹس کمپنی، لمیٹڈ کے پروڈکشن مینیجر وو بن کہتے ہیں کہ ، سمندری وسائل، آوجیاو کے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرتے ہیں، جبکہ پروسیسنگ کے ادارے خام مال کی بروقت اور باسہولت فراہمی سے مستفید ہوتے ہیں، جس سے ماہی گیری سے برآمدات تک ایک مکمل صنعتی چین بنتی ہے۔
ووبن ، 2013 میں اپنے آبائی شہر واپس آئے تھے اور انہوں نے یہاں ، سمندری خوراک کی پروسیسنگ اور فروخت کا کاروبار شروع کیا تھا ۔ ووبن بتاتے ہیں کہ خام مال کے طور پر مقامی کیکڑوں کو منتخب کیا جاتا ہے، انہیں دھونے، بھاپ دینے، گوشت نکالنے، اور ڈبوں میں بند کرنے کے بعد ، معیار کو یقینی بنانے کے لیے پیسچرائزیشن کی جاتی ہے۔ کیکڑوں کے گوشت کی ڈبہ بند مصنوعات یورپی، امریکی اور جنوب مشرقی ایشیا کی مارکیٹس میں برآمد کی جاتی ہیں۔
سمندر کے کنارے ترقی کے مدارج طے کرتا آوجیاو ،ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی جدت کو ایک ساتھ لے کر چلنے کی ایک روشن مثال ہے جو اس امر کا بین ثبوت ہے کہ شفاف پانی اور سرسبز پہاڑوں کی طرح ، نیلے سمندر اور صاف ساحل بھی قیمتی اثاثے ہیں۔