
19 دسمبر (پیپلز ڈیلی آن لائن) دنیا کے بجلی کے سب سے بڑے صارف چین میں اب ، ہر تین میں سے ایک کلو واٹ گھنٹہ بجلی "سبز" ذرائع سے پیدا ہو رہی ہے۔ یہ بجلی ایک طرف روزمرہ زندگی کو توانائی فراہم کر رہی ہے، تو دوسری طرف قومی اور عالمی سطح پر چین کے توانائی و صنعت کے نقشے کو بھی نئے سرے سے ترتیب دے رہی ہے۔
چین کے شمال مغربی علاقوں جیسے چھنگ ہائی، سنکیانگ اور ننگشیا نے دھوپ سے جھلستے، تیز ہواؤں والے صحراؤں کو سبز بجلی کے بڑے ذخائر میں بدل دیا ہے۔ ان علاقوں میں سورج اور ہوا کے وافر وسائل ہیں، جبکہ زمین کی لاگت بھی نسبتاً کم ہے۔
صحرا اور سمندر سے بجلی
ننگشیا کا قصبہ مِن نِنگ کبھی صحرائے گوبی کے کنارے واقع ایک پسماندہ علاقہ تھا، مگر اب یہ سبز توانائی کے ایک نمائشی زون کی صورت اختیار کر چکا ہے۔مِن نِنگ ٹاؤن شپ کے پاور سپلائی سٹیشن کے ڈپٹی ہیڈ ماؤ جی یوآن کے مطابق یہ علاقہ ہر سال 55 کروڑ کلو واٹ گھنٹہ سے زائد سبز بجلی پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 1,88,300 ٹن کمی آتی ہے۔دن کے وقت جب شمسی پینلز زیادہ بجلی پیدا کرتے ہیں تو نئی توانائی کے سٹوریج سسٹمز اضافی بجلی محفوظ کر لیتے ہیں، جبکہ رات کے وقت ہوا سے پیدا ہونے والی بجلی اور ذخیرہ شدہ توانائی سے نظام چلتا ہے۔
اب یہی سبز بجلی خوراک کی پروسیسنگ، گارمنٹس کی تیاری اور سخت سردیوں میں 11 ہزار سے زائد گھرانوں کے لیے حرارت فراہم کر رہی ہے ۔ مِن نِنگ کی مثال ننگشیا کےنیو انرجی کے تیزی سے فروغ پاتے شعبے اور اس کے ذریعے مقامی لوگوں کو ملنے والے عملی فوائد کی جھلک پیش کرتی ہے۔
ننگ شیا ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن کے مطابق یکم جنوری 2026 سے ننگشیا میں کم طلب کے اوقات کے دوران گھروں کی گرمائش کے لیے بجلی کی قیمت تقریباً 0.25 یوآن یعنی تقریباً 3.5 امریکی سینٹ فی کلو واٹ گھنٹہ مقرر کی جائے گی، جو یورپی یونین کے مقابلے میں کم ہے۔
مِن نِنگ کے رہائشی یانگ جی کا کہنا ہے کہ ایک دہائی پہلے یہاں کے لوگ زیادہ تر چولہوں پر ہی انحصار کرتے تھے۔ اب" کلین ہیٹنگ" کی سہولت ہے تو بجلی کے خرچ کی اتنی فکر بھی نہیں ہوتی ہے۔
دوسری جانب گوانگ دونگ، جیانگ سو اور شان ڈونگ جیسے ساحلی صوبے، بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے آف شور ونڈ پاور کلسٹرز کو تیزی سے پھیلا رہے ہیں، جس سے انفراسٹرکچر اور ٹرانسمیشن کے اخراجات بھی کم ہوتے ہیں۔
قابلِ تجدید توانائی کا مربوط نظام
چائنا سدرن پاور گرڈ کمپنی لمیٹڈ کے تحت انرجی ڈیویلپمنٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے محقق یاؤ شانگ ہِنگ کے مطابق چین نے قابلِ تجدید توانائی کا دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ مربوط نظام قائم کیا ہے، جس کی صنعتی سپلائی چین بھی مکمل ہے۔ ان کے مطابق پی وی پولی سلیکون، ویفرز اور سیلز کی چین کی پیداوار مجموعی عالمی پیداوار کا تقریباً 90 فیصد بنتی ہے، جبکہ ماڈیولز کی پیداوار تقریباً 85 فیصد کے قریب ہے۔اسی صنعتی بنیاد پر چین جدید ٹیکنالوجی میں بھی پیش رفت کر رہا ہے۔ حال ہی میں شنگھائی کی ایک سٹارٹ اپ کمپنی نے ہوابازی کے پائیدار ایندھن کی تیاری میں ایک نئی پیش رفت کا اعلان کیا۔



