• صفحہ اول>>چین پاکستان

    پاکستان کے دریائے کنہار پر واقع سکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبہ

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-12-19

    پاکستان کے دریائے کنہار پر واقع سکی کناری ہائیڈرو پاور ڈیم منصوبے کا منظر ۔ (دَنگ ہائی لونگ

    پاکستان کے دریائے کنہار پر واقع سکی کناری ہائیڈرو پاور ڈیم منصوبے کا منظر ۔ (تصویر: دَنگ ہائی لونگ)

    19دسمبر(پیپلز ڈیلی آن لائن)پاکستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقے میں بلند پہاڑوں کے درمیان تیز بہاؤ والا دریائے کنہار بہتا ہے۔ اسی دریا پر قائم سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ہزاروں گھرانوں تک بجلی پہنچا رہا ہے۔ ستمبر 2024 میں کمرشل آپریشن کے آغاز سے اب تک یہ منصوبہ پاکستان کو 3 ارب کلو واٹ گھنٹے سے زائد صاف توانائی فراہم کر چکا ہے، جو تقریباً 13 لاکھ گھرانوں کی ایک سال کی بجلی کی ضرورت کے برابر ہے۔

    سکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبے کی تعمیر 2017 میں شروع ہوئی۔ اس میں سرمایہ کاری چائنا انرجی انجینئرنگ گروپ اوور سیز انویسٹمنٹ کارپوریشن نے کی، جبکہ تعمیراتی کام گہ جوبا تھرڈ انجینئرنگ کمپنی اور گہ جوبا الیکٹرو مکینیکل کمپنی نے سر انجام دیا۔ علاقے کے پیچیدہ جغرافیائی حالات اور دریائے کنہار کے آبی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لیے اس منصوبے میں ہائی ہیڈ، طویل سرنگ پر مبنی واٹر ڈائیورژن پاور سٹیشن ماڈل اختیار کیا گیا۔

    دریائے کنہار کے کنارے ایک پہاڑی چوٹی پر 22 میٹر قطر کا ایک بڑا سوراخ ہے جو کنویں جیسا دکھائی دیتا ہے۔ اسی مقام پر چینی اور پاکستانی ماہرین نے پاور اسٹیشن کے پریشر شافٹ کی کھدائی کے لیے دن رات کام کیا۔ چینی ٹیم کے تیار کردہ انٹیلی جنٹ سینسنگ لفٹنگ سسٹم کی مدد سے اوپر ، برج کرین کے کنٹرول روم میں موجود عملے اور سینکڑوں میٹر نیچے کام کرنے والے مزدوروں کے درمیان فوری وائرلیس رابطہ ممکن ہوا۔ ایک ہی وقت میں سرنگ کے اندر درجنوں افراد کام کرتے رہے، مگر مجموعی تعمیراتی عمل زیادہ منظم اور محفوظ رہا۔ یہ نظام نشیبی صورتحال بروقت محسوس کرتا ہے اور سرنگ کی دیواروں کے ساتھ نصب خودکار ریل سسٹم کے ذریعے سامان نیچے پہنچاتا جبکہ ملبہ باہر منتقل کرتا ہے۔

    ہائیڈرو پاور میں پریشر شافٹ بجلی پیدا کرنے کے عمل کا ایک بنیادی حصہ ہوتا ہے۔ یہ عمودی بلندی کے فرق کی مدد سے پانی کی ممکنہ توانائی کو دباؤ والی توانائی میں تبدیل کرتا ہے، تاکہ ٹربائن تک پہنچنے سے پہلے پانی مطلوبہ ہائی پریشر حاصل کر لے۔ اسی لیے پریشر شافٹ کی گہرائی اور ڈیزائن انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔ چینی ٹیم نے انٹیلی جنٹ سینسنگ لفٹنگ سسٹم کو روایتی ریورس بورنگ مشین اور توسیعی کھدائی کی تکنیک کے ساتھ ملا کر تعمیراتی رفتار میں 40فیصد اضافہ کیا۔ نتیجتاً 22 میٹر قطر کے مرکزی شافٹ کے ساتھ 6 میٹر قطر کے چھ پریشر شافٹس پہاڑ کے اندر آپس میں جوڑے گئے، جن کی مجموعی عمودی بلندی کا فرق 737.94 میٹر ہے۔ یہ فرق تقریباً 240 منزلہ عمارت کے برابر بتایا جاتا ہے، اور اسے ہائیڈرو پاور صنعت میں پریشر شافٹس کے عمودی فرق کے حوالے سے عالمی ریکارڈ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

    سکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبے کے مرکزی کنٹرول روم میں چینی اور پاکستانی انجینئرز یونٹس کی آپریشنل صورت حال کی نگرانی کر رہے ہیں(تصویر: دَنگ ہائی لونگ)

    سکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبے کے مرکزی کنٹرول روم میں چینی اور پاکستانی انجینئرز یونٹس کی آپریشنل صورت حال کی نگرانی کر رہے ہیں(تصویر: دَنگ ہائی لونگ)

    پاکستانی انجینئر حسنین جو اس منصوبے کی تعمیر میں شریک رہے، بتاتے ہیں کہ پیچیدہ جغرافیائی حالات میں پہاڑ کی چوٹی سے عمودی طور پر نیچے پریشر شافٹ کھودنا نہایت مشکل اور اعلیٰ تکنیکی مہارت کا کام تھا۔ ان کے مطابق انٹیلی جنٹ سینسنگ لفٹنگ سسٹم کے علاوہ، چینی ٹیم نے مختلف مراحل میں ضرورت کے مطابق بے دو اور انرشیل نیویگیشن پر مبنی مشترکہ پوزیشننگ ٹیکنالوجی اور تھری ڈی لیزر سکیننگ کو بھی کامیابی سے استعمال کیا۔ اسی طرح پہلی بار درجہ وار گراؤٹنگ اور سٹیل آرچ سپورٹ پر مبنی ایک خصوصی تعمیراتی طریقۂ کار اپنایا گیا۔ جب شافٹ کے اندر فالٹ پریشر، چٹانوں کے ٹوٹنے سمیت دیگر مشکلات سامنے آئیں تو ٹیم نے زیر زمین کھدائی کے دوران غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کی اپنی تکنیک میں بھی مزید بہتر کی۔

    حسنین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں استعمال ہونے والی پریشر شافٹ کی تعمیراتی ٹیکنالوجی پاکستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں آئندہ منصوبوں کے لیے بھی کارآمد ہو سکتی ہے۔ اس نے ملک میں اسی نوعیت کے منصوبوں کے لیے قیمتی عملی تجربہ فراہم کیا ہے۔

    آج مستحکم انداز میں چلنے والا سکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبہ شمال مغربی پہاڑی علاقوں کے لیے " گرین انجن" بنتا جا رہا ہے۔ اس کے پریشر شافٹس کو ایک “واٹر سلنگ شاٹ” سے تشبیہ دی جاتی ہے، جو دریائے کنہار کے پانی کو تیز رفتاری سے ٹربائن جنریٹرز تک پہنچاتا ہے اور صارفین کو نسبتاً مستحکم اور قابل اعتماد صاف بجلی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کے مطابق یہ منصوبہ ،بجلی کی کمی پر قابو پانے ، توانائی کے ڈھانچے میں بہتری، روایتی ذرائع پر انحصار گھٹانے اور قومی توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ چین اور پاکستان کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی ایک نمایاں مثال بھی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان