مقامی وقت کے مطابق 22 دسمبر کو ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے لیے خصوصی ایلچی کی تقرری کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بیان دیا کہ ہمارے اتحادی ہمیں مشکل صورتحال میں ڈال رہے ہیں۔میٹ فریڈرکسن نے کہا کہ گرین لینڈ فروخت نہیں کیا جائے گا، اور اس کے مستقبل کا فیصلہ اس کے باشندے کریں گے۔ انہوں نے اور گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینس فریڈرک نیلسن نے اس دن مشترکہ طور پر ایک بیان پر دستخط کیے، جس میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ ڈنمارک کی علاقائی سالمیت کا احترام کیا جائے گا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے اسی دن کہا کہ آرکٹک سیکورٹی یورپی یونین کی اولین ترجیح ہے۔ علاقائی سالمیت اور خودمختاری بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول ہیں، اور یورپی یونین مضبوطی سے ڈنمارک اور گرین لینڈ کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے۔
اسی روز امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کو اہم معدنی وسائل کے لیے نہیں بلکہ قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ نے 21 دسمبر کو امریکی ریاست لوزیانا کے گورنر جیف لینڈری کی گرین لینڈ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی کے طور پر تقرری کا اعلان کیا تھا۔ لینڈری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کیا کہ وہ گرین لینڈ کو امریکہ کا حصہ بنانے کے لیے کام کریں گے۔



