مقامی وقت کے مطابق 22دسمبر کو بیلجیئم کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ ماکسیٖم پرووو نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کیا ،جس میں اسرائیل کی طرف سے مغربی کنارے میں 19 بستیوں کے قیام اور انہیں قانونی حیثیت دینے کے اعلان کی مذمت کی گئی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی ایک اور صریح خلاف ورزی ہے ، جو کہ ناقابل قبول ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اقدام "دو ریاستی حل" کی دانستہ مخالفت ہے، جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان دیرپا سلامتی کو یقینی بنانے کا بہترین اور واحد انتخاب ہے۔
اسی روز، غزہ کی پٹی کے میڈیا آفس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل پر الزام لگایا کہ اس نے جنگ بندی معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد 73 دنوں کے دوران کل 875 بار خلاف ورزیاں کی ہیں ،جن کے نتیجے میں شدید جانی نقصان ہوا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے خیموں، موبائل گھروں اور پناہ گزینوں کے سامان کے داخلے پر پابندی عائد کرنے کے باعث ، حالیہ سردی کی لہر میں مزید اموات واقع ہو سکتی ہیں۔ بیان میں عالمی برادری، اقوام متحدہ، جنگ بندی معاہدے کے ضامنوں اور متعلقہ ثالثوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنا ئیں کہ اسرائیل اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح ادا کرتے ہوئے بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے جواب میں عام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔



