• صفحہ اول>>ثقافت و سیاحت

    زمانہ قدیم کے چینی لوگ  شدید سردیوں میں خود کو کیسے گرم رکھتے تھے ؟

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-12-24

    24دسمبر(پیپلز ڈیلی آن لائن)ایک ایسے وقت میں جب چین بھر میں شدید سرد موسم کا آغاز ہو چکا ہے اور لوگ بجلی یا گیس کے ہیٹر جلا کر گھروں کو گرم کر رہے ہیں ،جدید انداز کے ہلکے لیکن نہایت گرم لباس اور جوتے پہن کر موسم کی شدت سے خود کو محفوظ کر رہے ہیں تو ایسے میں کیا آپ نے کبھی سوچا کہ آج تو ہمارے پاس موسم کی اس سختی کو کم کرنے کی بہت سی سہولیات ہیں لیکن جب یہ سب سولیات نہیں ہوتی تھیں تو لوگ خود کو اور اپنے گھروں کو اس شدید سرد موسم میں کیسے گرم رکھتے تھے ؟

    تو چلیے آئیے ،ذرا ایک نظر وقت کے جھروکے سے اس پار ، ماضی کی جانب ڈالتے ہیں ۔

    قدیم دور میں سرد موسم کے دوران استعما ل کیے جانے والا لباس 

    منک کی کھال کا استعمال کرتے ہوئے  بادلوں اور اژدھے کے نقش و نگار سے مزین  پیلے رنگ کا ساٹن کا  چغہ ۔ (پیلس میوزیم کی سرکاری ویب سائٹ سے لی گئی تصویر )

    منک کی کھال کا استعمال کرتے ہوئے بادلوں اور اژدھے کے نقش و نگار سے مزین پیلے رنگ کا ساٹن کا چغہ ۔ (پیلس میوزیم کی سرکاری ویب سائٹ سے لی گئی تصویر )

    ڈاؤن جیکٹس اور پیڈڈ کوٹ سے بہت پہلے، قدیم چین کے لوگوں نے سردیوں کا ایک ایسا لباس تیار کیا جو بقا اور فیشن کے درمیان توازن قائم کرتا تھا۔

    عام خاندانوں کے لیے، شہتوت کی چھال یا کاغذی ریشوں سے بنے لباس ہوتے تھے جنہیں جی چیو کہا جاتا تھا ، جب تک روئی عام نہیں ہوئی تھی یہ گرم رہنے کا ایک سہل اور باکفایت طریقہ تھے ۔ بارش یا برف باری کے دوران ، تنکوں سے بنی برساتی پانی سے محفوظ رکھتی تھی اور جسم کو تیز ہوا سے بچاتی تھی۔

    امرا میں چغے سادہ پروں والے لباس سے ترقی کرتے ہوئے اون سے بھرے ہوئے گرم فیشن ایبل ملبوسات میں تبدیل ہو گئے جن پر نفیس کڑھائی کی جاتی تھی اور یہ لباس کے اوپر پہنے جاتے تھے ۔

    تاہم، سخت سردی کے خلاف سب سے مؤثر تحفظ اون کے ملبوسات تھے جو کہ مختلف سماجی طبقات میں پہنے جاتے تھے ، ان کے علاوہ عیش و عشرت کی علامت مانے جانے والے لومڑی اور سبل کے ساتھ ساتھ بھیڑ اور ہرن کی کھالیں بھی شامل تھیں۔

    خود کو گرم رکھنے کے لیے وہ کیا کھاتے پیتے تھے؟

    شانشی میوزیم میں موجود روایتی جن ہو وینڈنگ۔ (تصویر :شانشی میوزیم کی سرکاری ویب سائٹ سے)

    شانشی میوزیم میں موجود روایتی جن ہو وینڈنگ۔ (تصویر :شانشی میوزیم کی سرکاری ویب سائٹ سے)

    سردیوں کے یخ بستگی میں، گرم کھانے اور گرم مشروبات سے لطف اندوز ہونے سے بڑھ کر خوشگوار تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جدید ہاٹ پاٹ سے بہت پہلے، قدیم چین میں لوگ وینڈنگ کا استعمال کرتے تھے، جو کانسی کا ایک گرم کیا گیا برتن تھاجسے آج کے سروس ہاٹ پاٹ کا جد امجد کہا جا سکتا ہے۔

    شانشی میوزیم میں موجود جن ہو وینڈنگ اس کا ایک کلاسیکی نمونہ ہے، جس میں اوپر کھانے کا برتن اور نیچے ٹرے میں دہکتے کوئلے رکھے جاتے تھے ، اس ٹرے میں ہوا کے لیے سوراخ رکھے گئے تھے جو شعلے کو برقرار رکھنے کے لیے بنائے جاتے تھے۔

    ایک سفید چمکدار ،خربوزے  سے مشابہہ،  مشروب کو مسلسل گرم رکھنے والا جگ نما برتن  ۔ (تصویر : ڈاتھونگ میوزیم کی سرکاری ویب سائٹ سے لی گئی ہے)

    ایک سفید چمکدار ،خربوزے سے مشابہہ، مشروب کو مسلسل گرم رکھنے والا جگ نما برتن ۔ (تصویر : ڈاتھونگ میوزیم کی سرکاری ویب سائٹ سے لی گئی ہے)

    گرم مشروب سردیوں کی ایک اور اہم ضرورت تھی۔ لیاو اور جن شاہی ادوار (916-1234) کے دوران، شمالی چین کے لوگ نیم گرم مشروب پسند کرتے تھے ۔ ڈاتھونگ میوزیم میں ایک سفید چمکدار ،خربوزے کی طرز کا جگ نما برتن دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سخت سردی میں مشروب کو ہر وقت گرم کیسے رکھا جاتا تھا۔ ایک پیالے میں گرم پانی ڈالا جاتا تھا، اور پھر مشروب سے بھرا برتن اس کے اندر رکھ دیا جاتا تھا تاکہ وہ گرم رہے۔ یہ موسم کی شدت سے بچاو کے لیے ایک عملی حل بھی تھا اور کھانے پینے کی اشیا کے لطف کو بھی بڑھاتا تھا۔

    ہیٹر نہیں تھے تو قدیم چین کے لوگ سردی سے بچاو کے لیے کون سے طریقے اپناتے تھے؟

    "بادل اور ڈریگن" کی مینا کاری سے مزین ،ہاتھ گرم کرنے والا انگیٹھی کی طرز کا برتن ۔ (پیلس  میوزیم کی سرکاری ویب سائٹ سے لی گئی تصویر )

    "بادل اور ڈریگن" کی مینا کاری سے مزین ،ہاتھ گرم کرنے والا انگیٹھی کی طرز کا برتن ۔ (پیلس میوزیم کی سرکاری ویب سائٹ سے لی گئی تصویر )

    قدیم چین کے لوگوں نے حرارت کے لیے مختلف قسم کےطریقے استعمال کیے جن میں ہاتھ گرم کرنے والے، کوئلے کے چولہے یا انگیٹھیاں اور گرم پانی کی بوتلیں وغیرہ شامل تھے۔ ہاتھ گرم کرنے والے انگیٹھی نما برتن، عموماً کانسی سے بنے ہوتے تھے جو کہ شاہی دربار سمیت روزمرہ زندگی میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے تھے۔

    یہ چھوٹے، آسانی سے اٹھائے جانے والے برتن، کوئلے سے بھرے ہوتے تھے جنہیں پکڑنا یا آستینوں میں رکھنا آسان ہوتا تھا۔ کچھ میں بخور بھی ہوتا تھا، جس سے لوگ بیک وقت خوشبو اور اور گرمائش کا لطف اٹھا سکتے تھے۔

    ڈریگن اور فینکس کے نمونوں سے سجی کلازون کی تین ٹانگوں والی انگیٹھی (شین یانگ رائل پیلس  میوزیم کی سرکاری ویب سائٹ سے لی گئی تصویر )

    ڈریگن اور فینکس کے نمونوں سے سجی کلازون کی تین ٹانگوں والی انگیٹھی (شین یانگ رائل پیلس میوزیم کی سرکاری ویب سائٹ سے لی گئی تصویر )

    کوئلے اٹھانے والے طباق یا انگیٹھیوں کے ذریعے حرارت پانا ایک عام گھریلو طریقہ کار تھا ۔ یہ فرش پر، گرم اینٹوں کے بستر پر، یا میزوں کے پاس رکھے جاتے تھےاور لوگ اپنے ہاتھوں اور پیروں کو گرم کرنے کے لیے ان کے اردگرد بیٹھتے تھے۔ ان انگیٹھیوں کے پاس بیٹھ کر مطالعہ کرنے یا گپ شپ کرنے سے سردیوں کا ایک آرام دہ اور خوشگوار ماحول بن جاتا تھا۔

    قدیم چین میں گھروں کو کیسے گرم کیا جاتا تھا؟

    چین کے چن شاہی دور (221 قبل مسیح-207 قبل مسیح) کے آغاز میں، لوگوں نے تعمیراتی مواد سے گھروں کو گرم رکھنے کے حل تیار کیے۔ چولہے بنائے گئے اور اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز، "فائر وال" کا تصور متعارف کرایا گیا ، اسے چین میں سنٹرل ہیٹنگ سسٹم کی ایک ابتدائی شکل کہا جاتا ہے۔ دھاتی پائپس کی بجائے، دیواروں میں مٹی کے ٹائلز کو ایک ساتھ جوڑا گیا ، جس سے حرارت اس پوری دیوار میں پھیل جاتی تھی اور کمرے گرم ہو جاتے تھے۔

    عام گھروں میں کھانگ کا استعمال عام تھا، یہ اینٹوں کے بستر تھے جنہیں گرم رکھنے کے لیےایندھن جلنے سے حاصل ہونے والی حرارت کو اندرونی چینلز کے ذریعے گرم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ، اضافی حرارت کے لیے اکثر کوئلے کے چولہوں کو ساتھ ملایا جاتا تھا۔ یہ طریقہ آج بھی شمالی چین کے کچھ حصوں میں استعمال ہوتا ہے۔

    اشرافیہ اور شاہی خاندان کے لیے، حرارتی طریقے کہیں زیادہ پیچیدہ تھے۔ ہان شاہی دور میں ، پیلس کمپلیکس ہال کی تعمیر میں ایسی اینٹیں استعمال کی جاتی تھیں جن میں مرچ شامل ہوتی تھی اور اس سے یہ اینٹیں موصل (انسولیٹڈ) ہوجاتی تھیں ۔ ان کمروں کی سجاوٹ دیوار گیر کڑھائی شدہ آرائشوں، پروں کے پردوں، تہہ ہو جانے والی سکرینز اور مغربی علاقوں کے موٹے قالینوں سے کی جاتی تھی جس سے حرارت کمرے سے باہر نہیں جاتی تھی اور شدید سردی میں بھی یہاں ایک خوشگوار حرارت برقرار رہتی تھی۔

    ویڈیوز

    زبان