• صفحہ اول>>چین کے رنگ

    لوہے کی گونج سے لے کر گانے کی دھن تک، حیات نو کی دھڑکنیں جو تھیئے شی میں دھمکتی ہیں

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-12-24

    24دسمبر(پیپلز ڈیلی آن لائن)ایک وقت تھا جب چین کے شمال مشرقی صوبےلیاؤننگ کے شہر شین یانگ کی ڈسٹرکٹ تھیئے شی کو "مشرق کا روور" کہا جاتا تھا۔یہ ایک متحرک قوم کا صنعتی دل کہلاتا تھا، اس کی فیکٹریز نے چین کی پہلی خرادی مشین ، پہلا سٹیل، اس کا پہلا دھاتی قومی نشان اور ترقی کی بے شمار دیگر علامتیں تیار کیں۔ یہاں کی فضاوں میں جہاں کبھی مشینری کی آواز گونجتی تھی؛ آج، تخلیق، عزم اور زندگی کی دھن گنگناتی ہے۔

    چین کے صنعتی میوزیم میں انجن، پائپس اور ماضی کی نسل پر فخر کے درمیان وقت، جیسے تھم جاتا ہے۔ ریٹائرڈ کارکن جانگ نینگ کو وہ شاندار دن آج بھی یاد ہیں: فیکٹری کے دروازوں کی طرف بڑھتی مزدوروں کی ٹولیاں ، گوشت اور چاول سے بھرے ہوئے دوپہر کے کھانے کے ڈبے اور شہر کو قوت فراہم کرتا ایک مقصد کا احساس ۔ یہ کہانیاں زندہ ہیں، نہ صرف یادگاروں کے طور پر، بلکہ ایک نئے دور کی بنیادوں کے طور پر بھی ۔

    2002 میں، جب شین یانگ نے ترقی کی سمت متعین کی، تو دھوئیں کی پرانی چمنیوں کا افق تبدیل ہوا۔ بھاری صنعت کی وراثت تھامے شین گو گروپ جیسی کمپنیز ابھریں اور اعلیٰ معیار کے موجدوں میں تبدیل ہو گئیں جن کے کمپریسرز اور بلوور دنیا بھر میں کئی منصوبوں کی طاقت ہیں ۔جہاں کبھی پرانی مشینز کھڑی تھیں، وہاں اب جدید ٹیکنالوجی تھیئے شی کو آگے بڑھا رہی ہے۔

    اسی تجدید کی روح ہونگمے ثقافتی وتخلیقی پارک میں بھی نظر آتی ہے ، جہاں سرخ اینٹوں کی دیواروں کے نیچے ماضی اور حال ملتے ہیں۔ یہ جگہ کبھی ہونگمے ایم ایس جی فیکٹری تھی؛ آج، یہ فن، ڈیزائن اور لائیو موسیقی کا میدان ہے۔ وہ جگہ جو کبھی فیکٹری کے خام مال کا گودام تھی اب لائیو ہاؤس ہے۔ اس کے مالک لی پھینگ فیئے نے اس کا نام نہیں بدلا کیونکہ ان کی رائے میں ،جب نوجوان یہاں شو دیکھنے کے لیے آتے ہیں تو انہیں اس جگہ کے ماضی کا احساس ہوتا ہے ۔ سٹیج کی روشنیوں کے نیچے، صنعتی مشینری کی گونج نوجوان ثقافت کی دھڑکن کے ساتھ تال ملاتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ تھیئے شی میں یادیں اور جدیدیت ایک ساتھ رقصاں ہیں۔ چین کی "ڈسکو کوئین،" گلوکارہ جانگ چیانگ کے نزدیک یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اچھی موسیقی اور جذبہ کبھی مدھم نہیں ہوتے۔

    تھیئے شی صرف صنعتی طور پر ہی بحال نہیں ہوا ہے، بلکہ اس میں انسانی زندگی کا پہلو بھی گہرا ہے۔

    جرمن شہری مارک فالٹین بیچر ان لوگوں میں سے جو اس شہر کو اپنا گھر بنا چکے ہیں۔ وہ 15 سال پہلے شین یانگ آئے تھے تاکہ بی ایم ڈبلیو بریلئینس کے سپلائرز کے ساتھ کام کر سکیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کا کیریئر، دوستی اور خاندانی زندگی اس شہر سے جڑ گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ اب یہ ہی ان کا گھر ہے کیونکہ یہاں کے لوگوں کا برتاو اتنا اچھا تھا کہ انہیں ان سے محبت ہوگئی ۔ان کے لیے تھیئے شی صرف وہ جگہ نہیں جہاں وہ کام کرتے ہیں، بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انہوں نے اپنی زندگی بنائی۔ ان کی کہانی عالمی ٹیلنٹ کے لیے اس ڈسٹرکٹ کی کھلی سوچ اور بین الاقوامی جدت کے مرکز کے طور پر بڑھتی ہوئی خود اعتمادی کی عکاسی کرتی ہے۔

    9 سالہ قومی پمپ ٹریک چیمپئن شیا شیاو کی کی کہانی جیسی کہانیاں دراصل اس ڈسٹرکٹ کے جوش و استقلال کی کہانیاں ہیں ۔ شیاو شیاو کے مطابق،جب وہ اپنی بائیک سے گرتی ہے، تو خوف زدہ نہیں ہوتی کیونکہ وہ اس سے صرف سیکھتی ہے اور اگلی بار اس سے بھی بہتر کرتی ہے ۔اس کی یہ ہمت خود تھیئے شی کی بے خوفی، ثابت قدمی اور ہمیشہ آگے بڑھنے کے جذبے کی عکاس ہے۔

    اس ڈسٹرکٹ میں غیر ملکیوں کی کہانیاں بھی گونجتی ہیں۔ میزبان اور پیپلز ڈیلی آن لائن کے رپورٹر مائیکل کرٹاغ، ڈیٹرائٹ کے رہنے والے ہیں اور وہ تھیئے شی سے ایک ذاتی تعلق محسوس کرتے ہیں ۔ ڈیٹرائٹ جو کبھی عالمی سطح پر " انڈسٹریل پاور ہاوس " مانا جاتا تھا جب وہاں کی فیکٹریز خاموش ہوگئیں اور کمیونٹی کو آزمائشوں کا دور سہنا پڑا تو شہر زوال کی جانب بڑھنے لگا ۔ تھیئے شی کی بحالی مائیکل کو قرابت کا احساس دلاتی ہے ۔ دونوں شہر مزدوروں کی محنت اور مشینری کی گونج پر تعمیر ہوئے ، زوال کے دور سے گزرے، اور اب آگے بڑھنے کے نئے راستے کھوج رہے ہیں۔ تھیئے شی کی ہمت، فخر، اور ازسر نو تعمیر کی خواہش یہ ظاہر کرتی ہے کہ تجدید کی روح سرحدوں سے بالاتر ہوتی ہے۔

    مشینوں کے گھر گھراہٹ سے گونجتے ہالز سے لے کر ہنسی سے کھنکتے پارکس تک، تھیئے شی نے اپنے ماضی اور مستقبل کے درمیان ہم آہنگی تلاش کر لی ہے۔ جیسے جیسے اس کے انجینئرز، فنکار، کھلاڑی، خواب دیکھنے والے ابھرتے جا رہے ہیں ، وہ ڈسٹرکٹ جو کبھی سٹیل سے منسوب تھی اب دل سے جانی جاتی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان