31دسمبر (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025 میں، دنیا تیز ی سے تبدیل ہوتی صورت حال اور بے یقینی کا شکار رہی ۔ اس ماحول میں چین کی ترقی، بڑھتے ہوئے عالمی منظرنامے کے ساتھ منسلک ہے جو عالمی ترقی، تکنیکی تبدیلی اور گورننس پر مثبت اثر ات مرتب کر رہی ہے۔ چین کے بارے میں عالمی رائے عامہ جانچنے کے لیے، گلوبل ٹائمز نے اگست سے اکتوبر 2025 تک "چین کے بارے میں تاثر اور سمجھ بوجھ پر عالمی سروے" کیا ، جس میں 46 ممالک اور تقریباً 51,700 رائے دہندگان شامل ہیں۔

سروے کا طریقہ کار
یہ سروے تمام براعظموں کے نمائندہ ممالک ،جی 20 ممالک، نو برکس ممالک اور آسیان کے 10 رکن ممالک کا احاطہ کرتا ہے ، مجموعی طور پر اس میں 15 ترقی یافتہ ممالک جب کہ 31 ترقی پذیر ممالک شامل ہیں، تاہم اس سروے میں خود چین شامل نہیں ہے۔
سروے میں نمونہ بندی، سوالنامہ تقسیم کرنےاور ڈیٹا جمع کرنے کے لیے معیاری طریقوں کا استعمال کیا گیا اور ہر ملک کے مقامی حالات کے مطابق فیس ٹو فیس انٹرویوز، کمپیوٹر کی مدد سے ٹیلیفون انٹرویوز، اور آن لائن پینل سروے شامل تھے۔ سروے میں جواب دہندگان 18 سے 70 سال کی عمر کے افراد تھے اور ہر ملک کی آبادی کے خصائص کے مطابق نمونہ جات کی تشکیل پر مخصوص کوٹہ طےکیا گیا تھا۔
عالمی برادری کی جانب سے شی جن پھنگ کے نئے دور میں چینی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ نظریات کی بھرپور پذیرائی
سروے میں،شی جن پھنگ کے نئے دور میں چینی خصوصیات کے حامل سوشلسٹ نظریات کے حوالے سے غیر ملکی لوگوں کی آرا لی گئیں۔ نتائج کے مطابق ، 70 فیصد سے زیادہ غیر ملکی جواب دہندگان نے "انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری "کےتصور پر اتفاق رائے کیا ہے۔ یہ شرح افریقی ممالک میں 80 فیصد سے زیادہ ، برکس اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں تین چوتھائی سے زیادہ، آسیان کے رکن ممالک میں 70 فیصد سے زیادہ جب کہ یورپی ممالک میں تقریباً 70 فیصد ہے۔نیز "صاف پانی اور سرسبز پہاڑ قیمتی اثاثے ہیں" کو تقریباً 80 فیصد بین الاقوامی جواب دہندگان کی جانب سے تسلیم کیا گیا ، جب کہ "پارٹی کی سیلف گورننس کو سختی سے آگے بڑھانا"، "اصلاحات کو جامع طور پر مزید گہرا کرنا"، اور "عوام پر مرکوز ترقی کا فلسفہ" ہر ایک کو ، 70 فیصد سے زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ سروے میں پیش کردہ ان پانچ تصورات کو تسلیم کرنے اور ان کی پذیرائی کی شرح ترقی پذیر ممالک کے جواب دہندگان میں 80 فیصد سے زیادہ جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں 60 فیصد سے زائد ہے۔
بین الاقوامی برادری کی جانب سے 70 فیصد سے زائد غیر ملکی رائے دہندگان نے،سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکریٹری ، مرکزی فوجی کمیشن کے چیئرمین اور صدر شی جن پھنگ کے پیش کردہ گلوبل ڈیویلپمنٹ انیشئیٹو ، ، گلوبل سکیورٹی انیشئیٹو ، گلوبل سولائزین انیشئیٹو (نوٹ: سروے کے آغاز کے وقت گلوبل گورننس انیشئیٹو کا اعلان نہیں ہوا تھا) اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشئیٹو کی قدر افزائی کی ، جو 2024 کی سطح سے زیادہ ہے۔
بین الاقوامی سطح پر سراہے گئے چین کے گورننس کے تصورات و ضابطہِ عمل بشمول مرکزی پارٹی کی قیادت کے آٹھ نکاتی فیصلے کے نفاذ اور پانچ سالہ منصوبہ بندی
سروے میں سی پی سی کی پارٹی کی کڑی سیلف گورننس اور آٹھ نکاتی فیصلے کے عزم کو متعارف کروایا گیا۔ اعدادو شمار سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ تقریباً 70 فیصد غیر ملکی جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ حکومتی پارٹی کے ارکان کو عام شہریوں کے مقابلے میں زیادہ معیاروں پر پورا اترنا چاہیے۔ یہ احساس برکس ، آسیان اور افریقی ممالک میں بہت مضبوط ہے، جہاں 70 فیصد سے زیادہ نے اس پر اتفاق کیا ہے جب کہ یورپی اور مشرق وسطی کے ممالک میں یہ 60 فیصد سے زیادہ ہے۔
2025 چین کے چودھویں پانچ سالہ منصوبے (2021-25) کا آخری سال ہے اور پندرھویں پانچ سالہ منصوبے (2026-30) کا خاکہ پہلے ہی سامنے آ رہا ہے۔ یہ سروے چین کے پانچ سالہ منصوبوں کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد کے تجربے کو متعارف کرواتا ہے۔ غیر ملکی جواب دہندگان میں سے تین چوتھائی سے زیادہ نے اس عمل کو معروضی اور مثبت قرار دیا ہے اور اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ "یہ چین کی اقتصادی اور سماجی ترقی میں ایک اہم میکانزم ہے،" اور پانچ سالہ منصوبہ بندی ،ایک ایسا طریقہ ہے جسے ان کے ملک کی حکومت کو بھی اپنانا چاہیے۔ برکس ممالک، مشرق وسطی کے ممالک، آسیان کے رکن ممالک، اور افریقی ممالک میں یہ قبولیت 80 فیصد سے متجاوز رہی ہے۔
چین کی اقتصادی ترقی کے حوالے سے مثبت رائے، اس کی بین الاقوامی حیثیت کی پہچان
سروے کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں چین کی اقتصادی ترقی کو 80 فی صد سے زائد غیر ملکی جواب دہندگان نےمثبت پایا ہے ، جن میں ترقی یافتہ ممالک سے 75فی صد اور ترقی پذیر ممالک سے 86 فی صد رائے دہندگان شامل ہیں۔ تقریباً 90 فی صد ، اگلی دہائی میں چین کی اقتصادی ترقی کے حوالے سے پر اعتماد ہیں ،خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کے رائے دہندگان جنہوں نے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ اعتماد دکھایا گیا ہے۔ تقریباً 78 فی صد لوگ چین کی جامع قومی قوت میں اضافے کا اعتراف کرتے ہیں، جو 2024 کے مقابلے میں 8 پوائنٹس کا اضافہ ہے، جبکہ جی سیون اور آسیان ممالک میں 10 پوائنٹس سے زیادہ کا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مزید یہ کہ 80فی صد سے زیادہ لوگ چین کی اقتصادی اور تکنیکی قوت کو "مضبوط" مانتے ہیں، جس سے پچھلے سال کے مقابلے میں بہتری کی عکاسی ہوتی ہے۔
چین کے بارے میں مثبت عالمی رائے عامہ ، چینی ثقافت اور ٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی کا اظہار
سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تقریباً 70 فیصد (69 فیصد) غیر ملکی جواب دہندگان کا چین کے بارے میں تاثر مثبت ہے، جو 2024 سے 6 فیصدی پوائنٹس زیادہ ہے۔ چین کے بارے میں پسندیدگی مشرق وسطی اور آسیان ممالک میں 70 فیصد سے زیادہ ہے جب کہ برکس اور افریقی ممالک میں 80 فیصد کے قریب یا اس سے زیادہ ہے۔ چین کے بارے میں 64 فیصد اور چینی لوگوں کے بارے میں 66 فیصد رائے دہندگان ، "اچھا" تاثر رکھتے ہیں،یہ 2024 کے مقابلے میں بالترتیب 5 اور 10 فیصدی پوائنٹس کا اضافہ ہے ۔
چین کی سائنس و ٹیکنالوجی کے بارے میں 80 فیصد جواب دہندگان مثبت رائے رکھتے ہیں جب کہ تین چوتھائی سے زیادہ چینی عوام کی محنتی اور جدت کے جوش و خروش کو مثبت انداز میں دیکھتے ہیں۔ شماریاتی تجزیے کے مطابق ، 2025 میں غیر ملکی جواب دہندگان کی جانب سے ، معیشت، ٹیکنالوجی، سائنس، ترقی، طاقت، اچھا، ثقافت، ترقی، اور جدت چین کے ساتھ سب سے زیادہ منسلک کلیدی الفاظ ہیں ۔
90 فیصد سے زیادہ غیر ملکی جواب دہندگان نے چین میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جن میں سے 40 فیصد سے زیادہ نے غیر معمولی دلچسپی ظاہر کی۔ ترقی یافتہ ممالک کی جانب سے سب سے زیادہ دلچسپی کا شعبہ "ثقافت" رہا، جبکہ ترقی پذیر ممالک میں "ٹیکنالوجی"میں بے حد دلچسپی دکھائی گئی ہے۔ سروے میں گزشتہ چند سالوں میں چین سے متعلق مختلف ابھرتے ہوئے مظاہر کی فہرست میں غیر ملکی رائے دہندگان کی جانب سے ٹک ٹاک اور آن لائن شاپنگ کےاستعمال کی شرح تقریباً 60 فیصد ہے۔ روبوٹس، ڈرونز، اور سمارٹ ڈرائیونگ کے لیے 80 فیصد سے زیادہ پسندیدگی رہی۔
سروے کے مطابق ، غیر ملکی جواب دہندگان کے لیے میڈیا نیوز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم چین کے بارے میں جاننے کے دو اہم ذرائع ہیں۔ ویزا فری ٹرانزٹ پالیسی کے تحت، تین چوتھائی غیر ملکی جواب دہندگان نے مستقبل میں چین جانے کی خواہش ظاہر کی ہے ، سفر کرنے کی وجوہات میں 49 فیصد نے سیاحت کو زیادہ ترجیح دی جب کہ 23 فیصد نے خریداری کو وجہ بیان کیا ہے۔

بین الاقوامی امور، گلوبل گورننس میں اصلاح اور بہتری میں چین کی شرکت کی خواہش
مئی میں، ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے میں بین الاقوامی ثالثی تنظیم (IOMed) کے قیام کے تقریب منعقد ہوئی تھی ۔ غیر ملکی جواب دہندگان کی نصف سے زیادہ تعداد IOMed سے پرامن تنازعات کے حل اور بین الاقوامی تعاون میں کردار ادا کرنے کی توقع رکھتی ہے۔
60 فیصد سے زیادہ لوگ توقع کرتے ہیں کہ چین حساس بین الاقوامی مسائل جیسے یوکرین بحران، فلسطین-اسرائیل اور اسرائیل-ایران تنازع کے حل میں بڑا کردار ادا کرے گا۔ 70 فیصد سے زیادہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ چین بین الاقوامی امور میں زیادہ حصہ لے گا یا مستقبل میں بڑا کردار ادا کرے گا، جو پچھلے سالوں کے مقابلے میں قابل قدر اضافہ ہے۔ ایک زیادہ منصفانہ اور مساوی عدل پر مبنی بین الاقوامی نظام کی تعمیر، حساس بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر ثالثی اور اقتصادی، تجارتی، تعلیمی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کے حوالے سے ، تقریباً 80 فیصد لوگ توقع کرتے ہیں کہ چین مزید اقدامات کرے گا۔
تقریباً 60 فیصد (58 فیصد) غیر ملکی جواب دہندگان توقع کرتے ہیں کہ مستقبل کا بین الاقوامی نظام ایک مساوی اور منظم کثیر قطبی دنیا پر مشتمل ہوگا، جہاں ہر ملک بین الاقوامی امور میں برابر حصہ لے گا۔ یہ تناسب برکس ممالک، آسیان کے رکن ممالک اور افریقی ممالک کے جواب دہندگان میں 60 فیصد سے زیادہ ہے۔
سروے کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تقریباً 70 فیصد غیر ملکی جواب دہندگان مجموعی طور پر اقوام متحدہ کو مرکزیت دینے والے موجودہ بین الاقوامی نظام کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 36 فیصد موجودہ بین الاقوامی نظام میں اصلاحات اور بہتری کی حمایت کرتے ہیں۔
دنیا چین-امریکا تعلقات میں بہتری کی امید رکھتی ہے ؛ چین کے لیے پسندیدگی امریکا سے زیادہ ہے
مستقبل میں چین-امریکا تعلقات "پرسکون ہوں گے" یا "موجودہ صورتحال برقرار رہے گی۔" عالمی رائے عامہ میں 40 فیصد سے زیادہ لوگوں نے "پرسکون ہونے کی طرف مائل ہوں گے" کو چنا جب کہ 30 فیصد سے زیادہ لوگوں نے "موجودہ صورتحال برقرار رہنے" کی امید ظاہر کی ۔ ترقی یافتہ ممالک، یورپی ممالک، آسیان کے رکن ممالک اور برکس ممالک میں چین-امریکا تعلقات میں بہتری کی توقع پر مشتمل رائے عامہ کا تناسب ، سال بہ سال بڑھتا جا رہا ہے۔
پسندیدہ ملک چین یا امریکا؟" اس موازنے میں، چین کے حق میں بین الاقوامی عوامی رائے کا تناسب 39 فیصد ہے، جو امریکا کے26 فیصد کے مقابلے میں 1.5 گنا زیادہ ہے، جبکہ دونوں کو تقریباً ایک جیسا سمجھنے والوں کا تناسب 25 فیصد ہے۔ 2024 کے مقابلے میں، چین کے لیے زیادہ پسندیدگی رکھنے والوں کا تناسب 9 فیصدی پوائنٹس بڑھ گیا ہے، جبکہ امریکا کے لیے یہ تقریباً 8 فیصدی پوائنٹس کم ہوا ہے۔
امریکی حکومت کی جانب سےعالمی سطح پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی پالیسی نے وسیع پیمانے پر تشویش اور تنقید کو جنم دیا ہے اور عالمی سروے میں 60 فیصد (63 فیصد) سے زائد نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے ، اسے "یک طرفہ غلبے کا عمل"، "رجعت پسندانہ اقدام" یا "بین الاقوامی تجارتی قوانین کو کمزور کرنا" قرار دیا ہے، جب کہ 43 فیصد کو تشویش ہے کہ اس سے زندگی گزارنے کی لاگت بڑھ جائے گی۔ چینی حکومت نے اس اقدام کے خلاف سخت موقف اپنایا اور مؤثر جوابی اقدامات کیے ہیں اور 70 فیصد سے زیادہ بین الاقوامی جواب دہندگان نے اس اقدام سے اتفاق کیا ہے۔ افریقی ممالک میں منظوری کی شرح 80 فیصد رہی برکس ، آسیان اور مشرق وسطی کے ممالک میں 70 فیصد سے زیادہ جب کہ یورپی ممالک میں دو تہائی سے زیادہ ہے۔
امریکی حکومت کی کچھ خارجہ پالیسیز اور اقدامات کے بارے میں تقریباً 70 فیصد رائے دہندگان کا خیال ہے کہ بین الاقوامی کمیونٹی پر ان کے منفی اثرات ہوں گے۔ ایک تہائی سے زیادہ لوگوں کا ماننا ہے کہ ان پالیسیز اور اقدامات کے "موجودہ بین الاقوامی نظام اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں" پر کافی سنگین اثرات مرتب ہوں گے ، جب کہ ایک تہائی سے زیادہ لوگوں کی رائے میں یہ ممالک کے مابین تعلقات کو سنگین نقصان پہنچاتے ہیں، طاقت اور غلبے کی عکاسی کرتے ہیں، اور یہ جنگل کے قانون کی طرف واپسی ہے۔
چین کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی امید
2025 میں، ہمسایہ ممالک کے امور سے متعلق مرکزی کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں ہمسایہ ممالک کے ساتھ مشترکہ مستقبل کی تعمیر پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور نئی راہیں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔ سروے کے مطابق ، تین چوتھائی سے زیادہ چین کی ہمسایہ پالیسی کو مثبت اور معروضی مانتے ہیں اور ان کی رائے میں "چین کی سلامتی اور استحکام ہمسایہ ممالک کی سلامتی اور استحکام میں معاون ہے " ، "چین کی ترقی نے ہمسایہ ممالک کی ترقی کو فروغ دیا ہے،" اور "جغرافیائی قربت قریبی تعلقات اور تعاون کے مواقع فراہم کرتی ہے۔"
80 فیصد سے زیادہ کا ماننا ہے کہ ان کا ملک چین کے ساتھ معمول کے، دوستانہ، یا سٹریٹجک تعاون پر مبنی تعلقات رکھتا ہے، 2024 کے مقابلے میں ان اعدادو شمار میں اضافہ ہوا ہے۔ ترقی پذیر ممالک، مشرق وسطی کے ممالک، آسیان کے رکن ممالک، افریقی ممالک، اور برکس ممالک چین کو "اسٹریٹجک تعاون کے ساتھی" یا "دوستانہ ملک" کے طور پر دیکھتے ہیں ، جب کہ ترقی یافتہ ممالک اور یورپی ممالک چین کو "معمول کے تعلقات والے ملک" کے طور پر دیکھتے ہیں۔
دو تہائی سے زیادہ بین الاقوامی جواب دہندگان امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں ان کے ملک کے چین کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں گے، جو 2024 کے مقابلے میں تقریباً 5 فیصدی پوائنٹس کا اضافہ ہے۔ یہ تعداد افریقا ، مشرق وسطی اور برکس ممالک میں تقریباً 80 فیصد ہے، جبکہ آسیان اور یورپی ممالک میں 60 فیصد سے زیادہ ہے۔ مشرق وسطی اور برکس ممالک میں چین کے ساتھ بہتر تعلقات کی امید رکھنے والے عوامی رائے کا تناسب 2024 کے مقابلے میں 10 فیصدی پوائنٹس بڑھ گیا ہے۔
آسیان ممالک کے 70 فیصد سے زیادہ جواب دہندگان متاثرہ فریقوں کے مابین مذاکرات اور مشاورت کی حمایت کرتے ہیں، تنازعات کو مؤخر کرنے اور مشترکہ ترقی کی کوشش کے حق میں ہیں ، جو بحیرہ جنوبی چین کے تنازعات کا سب سے مناسب حل ہے، جبکہ فلپائن کے جواب دہندگان میں حمایت کی شرح 60 فیصد سے زیادہ ہے۔
سروے کا آبادی کے ڈیٹا پر مشتمل تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ غیر ملکی جواب دہندگان میں، نوجوان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گروپس چین میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں اور اس ملک کو زیادہ بہتر جانتے اور سمجھتے ہیں۔ عالمی رائے عامہ پر مشتمل یہ سروے نتائج 2024کے نتائج کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔



