• صفحہ اول>>تبصرہ

    "چین کے بارے میں تاثراور سمجھ بوجھ کا عالمی سروے 2025 "،  پاکستانی ماہر محمد آصف نور کا تجزیہ ( محمد آصف نور، ڈائریکٹر  انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ ڈپلومیٹک سٹڈیز)

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2025-12-31

    31دسمبر (پیپلز ڈیلی آن لائن)بین الاقوامی جغرافیائی تنازعات میں شدت، اقتصادی ترقی کی سست روی ،ماحولیاتی بحرانوں اور گورننس کی کمی جیسے عالمی چیلنجز کے ماحول میں، جہاں روایتی ڈھانچے ناکام ہو جاتے ہیں "انسانیت کے لیے مشترکہ مستقبل کی تشکیل " کا تصور اور اس سے متعلقہ اقدامات براہ راست ان باہمی بحرانوں کا جواب دیتے ہیں جو سرحدوں سے آگے پہنچتے ہیں اور مشترکہ مستقبل پر مرکوز منصوبہ بندی فراہم کرتے ہیں ۔ چین ماحولیاتی تعاون، ٹیکنالوجی کی شراکت اور دیگر اقدامات کو عملی طور پر فروغ دیتا ہے، خاص طور پر بڑی طاقتوں کے مابین مسابقت میں آنے والی شدت کے باعث، مغربی ممالک یا تو ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں یا یکطرفہ اور تحفظ پسندانہ رویے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس پس منظر میں چین کے تجویز کردہ تصورات ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے ذمہ دارانہ رویے کے عکاس ہیں ۔

    حالیہ عالمی سروے میں رائے عامہ میں ایک واضح تبدیلی نظر آئی ہے جس نے بین الاقوامی پسندیدگی میں چین کو امریکا پر فوقیت دی ہے۔ یہ تبدیلی خاص طور پر گلوبل ساوتھ میں نمایاں ہے جہاں سب صحارا افریقا، مشرق وسطیٰ اور لاطینی امریکا میں اقتصادی اور جغرافیائی حرکیات نے چین کے لیے دلچسپی کو بڑھا دیا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے کار فرما اہم عوامل میں ٹرمپ کی دوسری مدت میں امریکی پالیسیز کے ممکنہ اثرات ، خاص طور پر" ٹیرف وار" میں اضافہ اور 'امریکا فرسٹ" کے نظریے کو، غیر متوقع اور علیحدگی پسندی کی نظر سے دیکھا گیا ہے۔

    امریکا کے برعکس ، چین کی مستقل توجہ کثیرالجہتی، عدم مداخلت اور اقتصادی تعاون پر رہی ، بی آر آئی کے ذریعےاس کی ساکھ ایک مستحکم اور فائدہ مند ساتھی کے طور پر مضبوط ہوئی ہے، خاص طور پر ان ترقی پذیر علاقوں میں جہاں بنیادی انفراسٹرکچر کی سرمایہ کاری اور تجارت نے بغیر کسی شرط کے عملی فوائد فراہم کیے ہیں۔ مزید برآں، چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت، جسے اب بہت سے لوگ دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھتے ہیں اور عالمی تنازعات میں اس کی غیر جانبدارانہ حیثیت نے اسے امریکی یکطرفہ پن کے مقابلے میں ایک متوازن ملک کی حیثیت دلائی ہے۔ اس رجحان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بین الاقوامی برادری چین اور امریکاکے درمیان ایک سادہ دو طرفہ انتخاب کر رہی ہے بلکہ، یہ تیز رفتار کثیر قطبی صورتحال کے پس منظر میں مختلف ممالک کے عوام کی جانب سے عملی مفادات، مستحکم توقعات اور گورننس کے نتائج کی بنیاد پر بڑی طاقتوں کے کرداروں پر کیے گئے فیصلوں کی عکاسی ہے ۔

    چین کی خارجہ پالیسی کو ایک بڑھتی ہوئی مستحکم قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سفارتی عمل میں چین، یکطرفہ غلبہ حاصل کرنےکی بجائے باہمی فائدے ، جیت سب کے لیے اور اجتماعی مسائل کے حل پر توجہ دیتا ہے ۔ ترقی پذیر ممالک ،مشروط امداد اور بیرونی مداخلت سے محتاط رہتے ہیں اور چین کی داخلی امور میں عدم مداخلت کے اصول کی طویل مدتی پابندی نیز ترقی اور تعاون کو سیاسی بنانے کی مخالفت نے وسیع پیمانے پر خود کو منوایا ہے۔ چین ،اقوام متحدہ کے اصلاحات کی حمایت کرتا ہے اور سلسلہ وار عالمی اقدامات کی تجویز اور ترویج کرتا ہے۔ اس سے چین، شمولیتی فیصلہ سازی کا حامی بن کر سامنے آیاہے اور اس نےگلوبل ساوتھ کی آوازوں کو بلند کرنے کی کوشش کی ہے۔ چین اپنے روایتی ثقافتی تصورات کو بھی اپنے جدید سفارتی بیانیے میں شامل کرتا ہے جس سے ایک ایسا ثقافتی فریم ورک تشکیل پاتا ہے جو پرامن بقائے باہمی اور مساوی باہمی مفادات پر مرکوز ہے۔ چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی اقتصادی طاقت اور سفارتی سرگرمیوں کے موجودہ تناظر میں، بین الاقوامی برادری کی چین کے بارے میں سوچ ازسرِ نو تشکیل پا رہی ہے ، اسے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے ایک قابل اعتماد ساتھی کے طور پر تسلیم کیا جارہا ہےاور ایک کثیر قطبی دنیا میں تعمیری قیادت کے ایک اہم کھلاڑی کے طور پر اس کی حیثیت بتدریج مستحکم ہو رہی ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں میں، چین کے لیے پسندیدگی اور اس کی "سافٹ پاور" پیچان میں ایک مستحکم اور مسلسل بڑھتا ہوا رجحان دکھا ئی دے رہا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان