یکم جنوری کو اسرائیلی حکومت نے غزہ کی پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارے میں کام کرنے والی درجنوں بین الاقوامی امدادی تنظیموں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا۔ عالمی سطح پر اس اقدام کے حوالے سے بڑے پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔متعدد ممالک نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل سے پابندیاں اٹھانے پر زور دیا ہے۔ حال ہی میں، ایک اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم کےمتعلقہ ذمہ دار نے میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو انتظامیہ کا یہ اقدام "انسانی امداد کو ہتھیار بنائے جانے" کی حقیقت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ ان کی نام نہاد "سیکیورٹی وجوہات" منافقانہ ہیں اور غزہ کی صورتحال کو مزید خراب کر دیں گی۔
ادھر لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (UNIFIL) نے 2 جنوری کو جاری کردہ ایک بیان میں جنوبی لبنان میں پٹرولنگ کرنے والے اس کے ایک امن دستے کے قریب اسی دن دو مرتبہ فائرنگ کرنے پر اسرائیلی دفاعی افواج کی مذمت کی۔تاہم فائرنگ کے واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فائرنگ عارضی "بلیو لائن" کے جنوب میں اسرائیلی پوزیشنوں سے کی گئی۔ "بلیو لائن" کے قریب حساس علاقوں میں گشت کرنے کے معمول کے مطابق، یونیفیل نے اسرائیلی فوج کو گشت کے متعلقہ منصوبوں سے پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں اور یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یونیفیل نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بلیو لائن کے علاقے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرنے والے امن دستوں پر حملے بند کرے۔



