مقامی وقت کے مطابق 3 جنوری کو امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف کامیابی سے حملے کیے اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لےکر وینزویلا سے باہر منتقل کیا گیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مزید تفصیلات بتدریج جاری کی جائیں گی اور مقامی وقت کے مطابق 3 جنوری کی صبح گیارہ بجے اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جائے گا۔ وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی رودریگس نے 3 تاریخ کو قومی ٹی وی پر کہا کہ وینزویلا کی حکومت کو علم نہیں کہ صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کہاں ہیں۔ امریکی ریاست یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن سینیٹر مائیک لی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے انہیں فون پر اطلاع دی کہ وینزویلا کے صدر مادورو کو مجرمانہ الزامات کے تحت امریکہ میں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ادھر روسی فیڈریشن کونسل (پارلیمنٹ کے ایوان بالا) کے ڈپٹی چیئرمین ایگور کوساچیف نے سوشل میڈیا پر کہا کہ وینزویلا پر امریکی حملہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور دنیا بھر کے لوگوں کی اکثریت اس کی مذمت کرے گی۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے وینزویلا کے خلاف مسلح جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ روس کو اس پر شدید تشویش ہے اور وہ اس کی مذمت کرتا ہے۔ کولمبیا کے صدر گستاو پیٹرو نے کہا کہ کولمبیا کسی بھی یکطرفہ فوجی کارروائی کی مخالفت کرتا ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو یا شہریوں کو خطرہ ہو۔ کیوبا کے صدر مگیل ڈیاز کینل نے وینزویلا پر امریکی حملے کے "جرم" کی مذمت کی اور عالمی برادری سے فوری ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔



