• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    چین میں اے آئی اب صرف اسکرین تک محدود نہیں بلکہ  کارخانوں تک پہنچ چکی ہے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-01-04
    چین میں اے آئی اب صرف اسکرین تک محدود نہیں بلکہ  کارخانوں تک پہنچ چکی ہے
    6 نومبر 2025 ۔صوبہ جی جیانگ میں ایک انسان نما روبوٹ ،عالمی انٹرنیٹ کانفرنس 2025 کی انٹرنیٹ ایکسپو میں کپڑے کو تہہ کرنے کی مہارت کا مظاہرہ کررہا ہے۔ (شنہوا/ہوانگ زونگ جی)

    4 جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن) 2025 کے آغاز میں مصنوعی ذہانت کے حامل چینی سٹارٹ اپ، ڈیپ سیک نے کم لاگت میں اعلیٰ کارکردگی والے ماڈلز پیش کیے جانے کےدعوے پر بیرونِ ملک توجہ حاصل کی ۔ عالمی سطح پر جب اس بات پر بحث ہو رہی تھی کہ کمپنی نے ماڈلز کی تربیت کیسے کی اور کمپیوٹنگ وسائل کیسے حاصل کیے اسی وقت چین کے اندر دبے قدموں ایک اور کہانی لکھی جا رہی تھی ۔

    چین میں الگورتھم اب صرف اسکرینز تک محدود نہیں رہے۔ مصنوعی ذہانت ،دنیا کا مینوفیکچرنگ پاور ہاؤس کہلانے وا لی چینی ورکشاپس اور کارخانوں میں پروڈکشن لائن تک پہنچ چکی ہے۔

    فیکٹریز میں جہاں روبوٹس چوبیس گھنٹے بڑے حصے کا کام سنبھال رہے ہیں، وہاں سینسرز کے ذریعے اسمبلی لائن کے مراحل کو مسلسل ٹریک کیا جا رہا ہے۔ یہ ڈیٹا ، الگورتھمز تک جاتا ہے جو ریئل ٹائم میں کام کی روانی میں تبدیلی کرتے اور پیداوار کو ہم آہنگ رکھتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق چین کی “ریئل اکانومی” میں اے آئی کا یہ گہرا انضمام صنعتی ویلیو چین کو نئی شکل دے رہا ہے۔ اس سے مینوفیکچررز صرف کم منافع والی اسمبلی تک محدود رہنے کے بجائے زیادہ ویلیو والے ان حصوں میں بھی مقابلہ کر سکتے ہیں جن پر طویل عرصے سے عالمی حریفوں کی برتری رہی ہے۔

    مشرقی چین کے شہر حے فے میں کار ساز کمپنی JAC گروپ اور ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے اشتراک سے مے ایکسٹرو سپر فیکٹری میں دو روبوٹ نہایت درستگی کے ساتھ گاڑی کے باڈی پر بیک وقت دو رنگ کرتے نظرآتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق روبوٹ اب محض سادہ مکینیکل بازو نہیں رہے، بلکہ اے آئی سے لیس ایسے سمارٹ سسٹمز بن رہے ہیں جن میں ماحول کو سمجھنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیت بڑھ رہی ہے۔ یہ ایک وسیع تر تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے جو تجربے پر مبنی پیداوار سے، جو طویل عرصے تک مجازی انسانی مہارت پر انحصار کرتی رہی، کامل درستگی پر مبنی مینوفیکچرنگ کی طرف جا رہی ہے۔فیکٹری مینیجر وے داوےکے مطابق اس سطح کی درستگی کے لیے اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے اور بہتر بنانے میں چھ ماہ لگے۔

    جنوب کی طرف گوانگ جو میں GAC Aionکے پلانٹ میں روبوٹک آرم مسلسل حرکت میں رہتے ہیں اور ہر قریباً ہر 53 سیکنڈمیں ایک گاڑی تیار ہو جاتی ہے۔ اس کو ڈارک فیکٹری بھی کہا جاتا ہے،یعنی ایسی فیکٹری جہاں روشنی کی ضرورت کم پڑتی ہے۔

    ملک بھر میں ایسی ڈارک فیکٹریز کی تعداد بڑھ رہی ہے کہ جہاں کم سے کم انسانی نگرانی درکار ہوتی ہے۔ چین کے صوبے شاندونگ میں یونگ شینگ ربر گروپ میں اب آٹومیٹڈ گائیڈڈ وہیکلز اور روبوٹک آرم میٹیریل ٹرانسپورٹ اور ٹائر کی پیداوار سنبھال رہے ہیں ۔

    انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں نصب ہونے والے نئے صنعتی روبوٹس میں آدھے سے زیادہ چین میں تھے اور یہ تعداد جاپان، امریکا اور جنوبی کوریا سے زیادہ رہی۔

    فودان یونیورسٹی کے اسکول آف مینجمنٹ کے انوویشن سینٹر کے چیف اکانومسٹ شاؤ یو کے مطابق، اوپن سورس ماڈلز کے بڑھتے ہوئے ایکو سسٹم کی وجہ سے بڑی ماڈل ٹیکنالوجی ،چین میں رفتہ رفتہ بجلی، پانی اور انٹرنیٹ کی طرح ایک آسان اور عام دستیاب ہونے والی بنیادی صلاحیت بنتی جا رہی ہے۔

    شنگھائی جیاو تھونگ یونیورسٹی کے چائنا اکیڈمی آف فنانشل ریسرچ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر جو چی گوئی کے مطابق چین کے پاس دنیا کی سب سے مکمل انڈسٹریل کیٹیگریز موجود ہیں، جس کی وجہ سے مختلف مصنوعات اور صنعتوں میں اے آئی کے اطلاق کے لیے بے شمار حقیقی منظرنامے بھی موجود ہیں اور بڑے لینگویج ماڈلز کے صنعتی استعمال کے لیے وسیع میدان بھی۔

    سٹیٹ کونسل کے ڈیویلپمنٹ ریسرچ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق ، انسانی سرمائے کا کردار فیصلہ کن ہے۔ بایوٹیک، ہیومینائیڈ روبوٹکس اور اے آئی ایپلیکیشنز جیسے تیزی سے بڑھتے شعبوں میں موجود انجینئرز نئی ٹیکنالوجی کو عملی، قابلِ نفاذ اور بڑے پیمانے پر قابلِ توسیع حل میں بدلنے میں مدد دے رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق 2025 کے اختتام کے ساتھ مینوفیکچرنگ میں اے آئی کی تبدیلی کا عمل جاری رہا اور اس میں اپ سٹریم اور ڈاون سٹریم انڈسٹریل چین پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت موجود ہے۔ شاؤ کے مطابق، ہ ممکن ہے کہ اس کے وسیع تر معاشی فوائد، بڑے اے آئی ماڈلز کی ترقی سے بھی آگے تک پھیل جائیں۔

    ویڈیوز

    زبان