6جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)چھونگ چھنگ میونسپلٹی کی کاونٹی ،فینگ جیئے کے پہاڑی علاقوں میں اڑتے ہوئے ڈرونز، زرعی لاجسٹکس میں ایک انقلابی تبدیلی کو بیان کر رہے ہیں۔ ان ڈرونز کے ذریعے، اس کاونٹی کے پہاڑوں پر دور دور واقع باغات سے تازہ چنے ہوئے مالٹوں کو ، تقسیم کے مراکز تک با آسانی پہنچایا جاتا ہے۔
فینگ جیئے ایک منفرد مائیکروکلائمیٹ کی حامل کاونٹی ہے جہاں سورج کی بھرپور روشنی کے ساتھ ساتھ وافر بارش بھی ہوتی ہے جو مالٹوں کی کاشت کے لیے مثالی ہے۔ ڈھلوانوں پر تہہ در تہہ تراشیدہ زرعی باغات میں مالٹوں کے ہزارہا درخت ہیں اور کاشت کار کئی نسلوں سے ان کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
ایک مقامی کاشت کار، یانگ منگ حوا بتاتے ہیں کہ ماضی میں یہاں کے لوگ ان مالٹوں کو چنتے اور خود اٹھا کر پہاڑوں سے نیچے لے جاتے تھے جہاں سے آگے پھر یہ تقسیم کے مراکز تک پہنچائے جاتے ، تاہم اس میں بہت وقت لگتا تھا ، جسمانی مشقت اور جان کے خطرے کے ساتھ ساتھ لاگت بھی زیادہ آتی تھی لیکن اب ،ڈرونز کے استعمال سے نقل و حمل کے اخراجات نمایاں طور پر کم ہو گئے ہیں اور کارکردگی و منافع بڑھا ہے۔
یانگ منگ حوا بتاتے ہیں کہ پہلے وہ مالٹوں کی ٹوکری اپنی کمر پر لاد کر پہاڑوں سے نیچے اترتے تھے جس میں کم سے کم بھی 30 منٹ لگتے تھے لیکن اب جونہی ٹوکری بھرتی ہے ڈرون اسے اٹھاتا ہے اور بے حد متوازن و مستحکم انداز میں مالٹوں سے بھری وزنی ٹوکری کے ساتھ پہاڑوں پر سے اڑتا ہوا محض 10 منٹ میں منزل تک پہنچ جاتا ہے۔
مقامی طور پر بیجنگ اور شنگھائی جیسے شہروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے، فینگ جیئے نے روایتی نقل و حمل کے مسائل پر قابو پانے کے لیے 200 سے زائد ڈرونز تعینات کیے ہیں۔ فینگ جیئے سٹریٹیجک ایمرجنگ انڈسٹری ڈیویلپمنٹ سینٹر کے ڈائریکٹر، حی یی کہتے ہیں کہ ڈرون لاجسٹکس نے اس علاقے کے مخصوص مالٹوں کی مجموعی پیداوری کارکردگی کو 50 فیصد سے زیادہ بڑھا دیا ہے، جبکہ کل لاگت کو تقریباً ایک تہائی کم کر دیا ہے۔
چنائی کے بعد، مالٹوں کو فوری طور پر چھٹائی کے لیے پیکنگ سینٹرز میں بھیجا جاتا ہے جہاں ان کی تازگی برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی موم لگائی جاتی ہے، جس کے بعد انہیں موصل کنٹینرز میں لادا جاتا ہے۔ غیر ملکی صارفین کے لیے تازہ پھل کی فوری فراہمی کے لیے قریبی ہوائی اڈوں سے ہفتہ وار پروازیں روانہ ہوتی ہیں، جس سے نقل و حمل کا وقت دنوں سے کم ہو کر گھنٹوں کا رہ گیا ہے۔
فضائی امور حل کرنے کے بعد اب یہ خطہ طویل فاصلوں کے لیے مال برداری کو بہتر بنا رہا ہے۔ فن جیئے کے مالٹوں کی انڈسٹریل ایسوسی ایشن کے صدر جو ڈینگ پھنگ نے ،رول-آن/رول-آف طریقہ کار پر مشتمل نقل و حمل کے ماڈل، "سڑک سے پانی" کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس ماڈل میں مال بردار ٹرک براہ راست جہاز پر لاد ے جاتے ہیں، جس سے لادنے اور مال اتارنے کے دوران نقصانات اور اخراجات کو کم کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ اس طریقہ کار سے مالٹے تازہ حالت میں ہی سپر مارکیٹس اور دیہی علاقوں میں کسانوں کی منڈیوں تک پہنچ جاتے ہیں جس سے لاجسٹکس کی مجموعی لاگت تقریباً 20 فی صد کم ہوجاتی ہے۔
آف لائن لاجسٹکس کے ساتھ ساتھ،فینگ جیئے نے ایک "کلاؤڈ بیسڈ" سیلز چینل بھی تشکیل دیا ہے جس سےاس پھل کے کاشت کاروں کو براہ راست صارفین سے منسلک کرنے کے لیے لائیو سٹریمنگ کا استعمال کرتے ہوئے دوردراز بازاروں اور منڈیوں تک رسائی کو بڑھایا جا سکے ۔اس سلسلے میں شہر ی و دیہی اہلکاروں کے ساتھ ساتھ مقامی ہنر مندوں کو متحرک کیا گیا ہے تاکہ لائیو سٹریمنگ ٹیمز تشکیل دی جا سکیں۔
شوانگ نیئن گاؤں کے ایک مقامی اہلکار ،شاؤ چین بنگ بتاتے ہیں کہ ماضی میں لوگ یا تو پھلوں کے تاجروں کا انتظار کرتے تھے کہ وہ گاؤں آئیں اور ان کا پھل خریدیں یا پھر وہ اپنا پھل کاونٹی کے سٹالز پر بیچتے تھے۔ گاؤں کے اہلکاروں نے جب یہاں کے لوگوں کو لائیو سٹریمنگ کے ذریعے پھلوں کی فروخت میں رہنمائی فراہم کی تو صورتِ حال یکسر تبدیل ہوگئی اور اب یومیہ 500 کلوگرام مالٹوں کی فروخت ممکن ہوگئی ہے جب کہ قیمت اور مقدار بھی پچھلے سالوں سے زیادہ ہے۔
یہ ٹیمز ، لائیو سٹریم گائیڈز کے طور پر بھی کام کرتی ہیں اور کاشت کاروں کو اکاؤنٹس بنانے سے لے کر لائیو سٹریمنگ کے لیے دلچسپ اور پر کشش مناظر تخلیق کرنے تک کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح سے یہ کسان زیادہ بااختیار اور پر اعتماد ہوتے ہیں اور کسی رہنمائی کے بغیر خود سے لائیو سٹریمنگ کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں جس سے ان کی شخصیت نکھرنے کے ساتھ ساتھ ذرائع آمدن اور معیار زندگی میں بھی بہتری آرہی ہے۔




