• صفحہ اول>>دنیا

    امریکہ کی گرین لینڈ پر قبضے کی سازش جاری،  یورپی حکام کا نیٹو کے ختم ہونے کا انتباہ

    (CRI)2026-01-14

    مقامی وقت کے مطابق 13 جنوری کو، ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن اور گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے کوپن ہیگن میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کی جانب سے 14 جنوری کو واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات میں امریکی فریق کو یہ واضح پیغام دیا جائے گا کہ گرین لینڈ ہرگز فروخت نہیں کیا جائے گا۔اس موقع پر نیلسن نے اس بات کا اعادہ کیا کہ گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے اور "نہ تو اسے امریکہ حاصل کرے گا، نہ ہی اس پر امریکہ کی حکمرانی ہوگی، اور نہ ہی یہ امریکہ کا حصہ بنے گا۔"

    یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کاجا کالاس اور جرمن وزیر دفاع پسٹوریئس نے اسی دن ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ کا "تحفظ کیا جارہا ہے"۔ 12 تاریخ کو، یورپی یونین کے سینیئر دفاعی اہلکار کوبیلیس نے ایک سیکیورٹی پالیسی کانفرنس میں کہا کہ اگر ڈنمارک درخواست دے تو یورپی یونین فوج بھیجنے، جنگی جہازوں کی تعیناتی، اور انسداد ڈرون کی صلاحیتوں کو بڑھانے سمیت متعدد طریقوں سے گرین لینڈ کی سیکیورٹی سپورٹ کو مضبوط کرے گی۔ گرین لینڈ پر امریکہ کا فوجی قبضہ نیٹو کے لیے ایک "مہلک دھچکا" ہو گا۔ 5 تاریخ کو ڈنمارک کی وزیر اعظم فریڈرکسن کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ نیٹو اتحادیوں پر حملہ کرتا ہے تو "سب کچھ ختم ہو جائے گا۔" "بشمول نیٹو، جس کے ہم رکن ہیں، اور دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد سے قائم سلامتی کا نظام بھی۔"

    ادھر متعدد ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ گرین لینڈ کے خلاف فوجی کارروائی کا منصوبہ تیار کرے۔ تاہم، اس اقدام کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے مخالفت کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ فوجی کارروائی غیر قانونی ہوگی اور اسے کانگریس کی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔

    ویڈیوز

    زبان