
13 جنوری کو ہائی نان انٹرنیشنل کمرشل ایروسپیس لانچ سینٹر سے لانگ مارچ 8اے کیریئر راکٹ لانچ کیا گیا۔ راکٹ نے زیریں مدار کے 18 ویں گروپ کے سیٹلائٹس کو پہلے سے طے شدہ مدار میں چھوڑا۔( لیو یون فئے/چائنا نیوز سروس)
15جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)13 جنوری کو لانچ کیے جانے والے دو کیریئر راکٹس ، چین کے خلائی مشن کے سالانہ شیڈول کے آغاز کی علامت ہیں ۔ اس شیڈول میں چاند پر ایک روبوٹک لینڈنگ اور دو انسان بردار سپیس فلائٹس شامل ہیں۔
چین نے سال 2026 کے پہلے خلائی مشن کا آغاز ، لانگ مارچ 6 اے کی لانچنگ سے کیا جو رات 10 بج کر 16 منٹ پر تھائی یوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کیا گیا،یہ لانگ مارچ راکٹ بیڑے کی 624ویں پرواز تھی۔ اس راکٹ کے ذریعے یاوگان 50اے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کو مقررہ مدار میں چھوڑا گیا۔ شنگھائی اکیڈمی آف سپیس فلائٹ ٹیکنالوجی کا تیار کردہ یہ سیٹلائٹ ارضیاتی وسائل کے سروے، زرعی پیداوار کی پیش گوئی اور آفات کے حوالے سے احتیاطی اقدامات اور نقصانات میں کمی کے لیے ڈیٹا حاصل کرے گا۔
دوسرا خلائی مشن، لانگ مارچ 8 اے کیریئر راکٹ کی لانچنگ کا تھا جو رات 11 بج کر 25 منٹ پر ،ہائی نان انٹرنیشنل کمرشل ایروسپیس لانچ سنٹر سے خلا کی جانب روانہ ہوا ۔ راکٹ نے چین کے سرکاری سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک کے لیے ،زیریں مدار کے 18 ویں گروپ کے سیٹلائٹس کو پہلے سے طے شدہ مدار میں چھوڑا ۔
یہ سیٹلائٹس چائنا سپیس ٹیکنالوجی اکیڈمی نے ڈیزائن اور تیار کیے تھے۔ ان کی تعیناتی کے بعد ، ریاست کے زیر انتظام بڑے انٹرنیٹ سیٹلائٹ نیٹ ورک میں اب زیریں مدار میں 140 سے زیادہ سیٹلائٹس کام کر رہے ہیں۔ اس کا بنیادی کام سیٹلائٹس کو ،سورج کے ہم آہنگ مدار میں رکھنا ہے اور یہ اس مدار میں 700 کلومیٹر کی بلندی پر 7 ٹن تک کا وزن منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ لانگ مارچ 8اے راکٹ نے ساتویں مرتبہ ، مدارِ زیریں میں انٹرنیٹ سیٹلائٹس تعینات کیے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 چین کی خلائی صنعت کے لیے ایک مصروف سال ہوگا۔ اس سال جنوری کے اختتام سے پہلے ہی کئی خلائی پروازوں کے اوقات کار طے کیے جاچکے ہیں ۔ان میں چھانگ عہ -7 بھی شامل ہے جو چین کے چاند کی تحقیق کے منصوبے کے چوتھے مرحلے کا ایک اہم مشن ہے۔
اس کے علاوہ رواں سال، تھیان گونگ سپیس سٹیشن پر دو انسان بردار مشنز ،شینژو-23 اور شینژو-24 کے عملے کی تبدیلی بھی متوقع ہے۔شینژو-23 کے تین رکنی عملے کا ایک رکن، پورا سال سپیس سٹیشن پر قیام کرے گا اور یہ کسی بھی چینی خلا باز کا مدار میں سفر کرنے کا سب سے طویل دورانیہ ہوگا۔اس صنعت سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اس سال ایک پاکستانی خلا باز بھی تھیان گونگ مشن میں شامل ہوگا جو کہ چینی سپیس سٹیشن پر جانے والا پہلا غیر ملکی ہو گا۔



