مقامی وقت کے مطابق 14 جنوری کو، امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی وٹکوف نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا، جس میں ٹرمپ کی جانب سے غزہ کے تنازعے کے خاتمےکے لیے "20 نکاتی منصوبے" کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔ دوسرے مرحلے کا مقصد جنگ بندی سے آگے بڑھتے ہوئے غزہ کو غیر عسکری بنانا، ٹیکنوکریٹک گورننس اور غزہ کی تعمیر نو کی طرف منتقل ہوناہے۔
اسی روز، مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں فلسطینی دھڑوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد تمام فریقوں نے ایک بیان جاری کیا جس میں غزہ کے انتظام کے لیے ایک آزاد کمیشن کے قیام اور غزہ کی پٹی میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے مطالبات پر اتفاق رائے کا اعلان کیا گیا۔ مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی نے تصدیق کی ہے کہ فلسطینی دھڑوں نے غزہ کی پٹی کے انتظام کے لئے قائم کی جانے والی ٹیکنو کریٹک کمیٹی کے ارکان کی فہرست پراتفاق کیا ہے۔ کمیٹی کی فہرست جلد جاری کر دی جائے گی۔ کمیٹی کو غزہ کی پٹی میں تعینات کیا جائے گا تاکہ وہاں روزمرہ کی زندگی کا انتظام کیا جا سکے۔ 14 تاریخ کو، ترک وزارت خارجہ نے ترکیہ، مصر اور قطر کی جانب سے ، جو اس عمل میں ثالت کا کردار ادا کر رہے ہیں، ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی کے قیام کا خیرمقدم کیا گیا۔



