مقامی وقت کے مطابق 15 جنوری کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری لیویٹ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ٹیم ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام آپشنز کھلے رکھے گئے ہیں۔باخبر ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے فی الحال ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کو بتایا کہ اگر ایران کے خلاف کوئی فوجی اقدام کیا گیا تو وہ "تیز رفتار اور فیصلہ کن حملہ" ہونا چاہیے، نہ کہ ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہنے والی جنگ۔ مشاورتی ٹیم نے ٹرمپ کو بتایا کہ بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کی صورت میں امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی دستے تعینات کرنے کی ضرورت ہو گی۔اطلاعات کے مطابق امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے، جس میں کم از کم ایک طیارہ بردار بحری جہاز بھی شامل ہے، جبکہ خطے میں مزید میزائل دفاعی نظام بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔
ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 15 تاریخ کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل گوتریس کو ایران میں حالیہ بدامنی کے حوالے سے ایک خط بھیجا ہے۔ خط میں عراقچی نے "دہشت گردوں" کی حمایت کرنے پر امریکہ اور اسرائیل کی مذمت کی اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ ایران کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات میں کسی بھی بیرونی مداخلت کی مذمت کرے۔



