• صفحہ اول>>تبصرہ

    جاپان کے نام نہاد"امن پسند ملک "کا نقاب  چاک کرنے کے لیے تین سوالات

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-01-16

    جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تاکائچی نے رواں سال تحفظ و دفاع کی 3 سٹریٹیجک دستاویزات میں ترمیم کے لیے ماحول سازی کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد جاپان کی" خودمختاری اور امن کو مضبوط بنانا اور عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا "ہے۔ مگر ایک طرف” امن“کے نعرے لگانا اور دوسری طرف فوجی توسیع کرنا — قول و فعل کے اس شدید تضاد نے جاپان کے نام نہاد" امن پسند ملک" کے نقاب کو چاک کر دیا ہے اور اس کی موجودہ خطرناک سٹریٹجک سمت کو مکمل طور عیاں کر دیا ہے۔

    جاپان ، عالمی سٹیج پر طویل عرصے سے خود کو ایک نام نہاد” امن پسند ملک “کے طور پر پیش کرتا آیا ہے، تاکہ مختلف بیانیوں اور نمائشی اقدامات کے ذریعے فوجی جارحیت کے تاریخی جرائم کو دھندلایا جائے اور عالمی برادری کا اعتماد حاصل کیا جا سکے۔ تاہم، جاپان کے عملی اقدامات اس کے اصل عزائم پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔

    آخر، پیسیفسٹ کانسٹیٹیوشن ،اس "امن پسند ملک"کی آنکھوں میں کیوں کھٹکتا ہے اور وہ اسے ترک کرنے پر کیوں تُلا ہوا ہے؟

    " پیسیفسٹ کانسٹیٹیوشن " واضح طور پر یہ اعلان کرتا ہے کہ" ریاستی خودمختاری کے تحت جنگ چھیڑنے، طاقت سے دھمکانے یا طاقت کے استعمال کے ذریعے بین الاقوامی تنازعات حل کرنے سے ہمیشہ کے لیے دستبرداری اختیار کی جاتی ہے "اور یہ کہ" بری، بحری اور فضائی افواج یا کسی بھی قسم کی جنگی طاقت برقرار نہیں رکھی جائے گی، نیز ریاست کے حقِ جنگ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا"۔یہ آئین ،جنگ کے بعد جاپان کے پُرامن ترقیاتی راستے کی قانونی بنیاد بنا ۔

    پیسیفسٹ کانسٹیٹیوشن کا نفاذ 1947 میں ہوا جس کے بعد سے، اس کے ذریعے جاپان کے فوجی توسیع کے ہیجان پر قابو پایا گیا، جاپانی حملوں کا شکار ہونے والے پڑوسی ایشیائی ممالک کو "جنگ نہیں" کا پیغام بھیجا گیا اور اس نے علاقائی ممالک کے ساتھ جاپان کے تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

    تاہم، جاپان کے دائیں بازو کے حلقے طویل عرصے سے پیسیفسٹ کانسٹیٹیوشن کو 'قومی معمولات " میں رکاوٹ قرار دیتے آئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں انہوں نے اس آئین کو کھوکھلا کرنے کا عمل تیز کر دیا ہے:" مشترکہ سیلف ڈیفنس" پر سےپابندی ہٹا دینا،" مقرر کردہ خصوصی رازوں کے تحفظ کا ایکٹ" نافذ کرنا، نئے سکیورٹی قوانین بنانا، فوجی بجٹ میں تیزی سے اضافہ، نام نہاد “جوابی حملے کی صلاحیت” کی ترقی، اور اسلحے کی برآمدات پر عائد پابندیوں میں نرمی، یہ تمام اقدامات سراسر" پیسیفسٹ کانسٹیٹیوشن" کی روح کے منافی ہیں۔ اس کے نتیجے میں "خصوصی دفاعی حکمت عملی" محض نام کی رہ گئی ہے،"حقِ جنگ" کو عملاً تسلیم کر لیا گیا ہے اور جاپان کو حقیقت میں "نئی طرز کی عسکریت پسندی" کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔

    خود کو "امن پسند ریاست" کہنے والا جاپان "تین غیر جوہری اصولوں" میں ترمیم کرنے کی کوشش کیوں کر رہا ہے؟

    اس سے اس کی "جوہری ہتھیار رکھنے" کی خواہش بالکل واضح ہے۔جاپان دنیا کا واحد ملک ہے جو ایٹمی حملوں کا نشانہ بنا، اس کو تو جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام کا مضبوط ترین محافظ ہونا چاہیے تھا۔ مگر جاپانی حکومت کے عہدیداروں کی جانب سے جوہری ہتھیار ر کھنے سے متعلق نام نہاد دلائل سامنے آنا اور"تین غیر جوہری اصولوں" میں تبدیلی کی کوششیں اس کے برعکس ہیں۔ یہ نہ صرف جاپان کے اپنے ،امن کے وعدوں سے کھلی غداری ہے بلکہ جنگ کے بعد کے عالمی نظام اور "جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے" کی اتھارٹی کو بھی براہِ راست چیلنج کرتی ہیں۔

    جاپان ایک ایسی مخصوص "نیوکلیر-تھریشولڈ سٹیٹ "ہے، جو طویل عرصے سے شہری جوہری توانائی کے لیے درکار مقدار سے کہیں زیادہ پلوٹونیم تیار اور ذخیرہ کرتا آیا ہے۔ اسی وجہ سے، جاپان کی جوہری پالیسی میں کسی بھی نرمی سے علاقائی سکیورٹی کے منظرنامے اور عالمی سٹریٹجک استحکام پر شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    موجودہ جاپانی حکومت کے "جوہری ہتھیار رکھنے" کے رجحان پر، کچھ جاپانی ذرائع ابلاغ نے سخت سوال اٹھایا ہے کہ اگر "تین غیر جوہری اصولوں" کو بھی نظر انداز کیا گیا تو یہ بدترین ممکنہ متیجہ ہوگا ،حکومت اس جارحانہ طرز حکومت میں کس حد تک جانے کا ارادہ رکھتی ہے ؟

    آخر "امن پسند ملک" بار بار تنازعات کیوں چھیڑتا ہے اور کیوں علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچاتا ہے؟

    تاکائچی حکومت نے ،تائیوان کے معاملے پر بار ہا اشتعال انگیزی کی ہے، کھلم کھلا چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے، حتیٰ کہ چین کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں بھی دی گئی ہے، جس کے باعث چین–جاپان تعلقات شدید تناو کا شکار ہو چکے ہیں اور یہی کوئی واحد مثال نہیں ہے،حالیہ برسوں میں جاپان کے دائیں بازو کے عناصر "چین ایک خطرہ " کی نام نہاد منطق کو مسلسل بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور آبنائے تائیوان نیز بحیرۂ جنوبی چین سمیت چین کے مختلف داخلی معاملات پر تیل ڈالنے میں مصروف ہیں۔

    جاپان کے تعلقات ،جنوبی کوریا، روس اور شمالی کوریا جیسے دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ بھی کشیدگی اور تنازعات سے بھرے ہوئے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ جاپان غیر علاقائی طاقتوں کے لیے ایک پیادے کے طور پر کام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا اور "ایشیا–بحرالکاہل نیٹو" کے قیام کو آگے بڑھا رہا ہے، تاکہ گروہی تصادم ایشیا میں بھی لایا جا سکے۔ اس طرزِ عمل نے علاقائی ممالک کے مابین اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور امن و استحکام کے لیے بڑے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

    جاپان کی جارحانہ اور تصادم پسند فطرت کی تاریخ اور اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ ہمیں اس کی جانب سے طاقت کے غلط استعمال اور انتہائی اقدامات سے محتاط رہنا چاہیے۔ دوسری عالمی جنگ سے قبل جاپان نے" عظیم مشرقی ایشیا کی مشترکہ خوشحالی کا دائرہ" کے جھوٹے نعروں کے ذریعے جارحیت کو چھپایا، سفارتی دھوکے سے دوسروں کو گمراہ کیا اور اچانک پرل ہاربر پر حملہ کر کے جنگ مسلط کی۔ آج جاپان ایک بار پھر "امن" کا لبادہ اوڑھ کر فوجی توسیع اور علاقائی امن کو نقصان پہنچانے والی پالیسیز اپنا رہا ہے۔ اس کے طریقے بعینہٖ وہی ہیں جو دوسری عالمی جنگ سے قبل جاپانی عسکریت پسندوں نے اختیار کیے تھے مقصد ،عالمی برادری کو گمراہ کرنا اور اپنی سٹریٹجک مہم جوئی کے لیے حالات کو سازگار بنانا ہے۔

    1954 میں جاپان نے اقوامِ متحدہ کو ایک "امن کی گھنٹی" تحفے میں دی تھی، جس پر کندہ تھا: " مکمل عالمی امن زندہ باد۔" مگر اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہوگی کہ ، آج اسی جاپان کے دائیں بازو کے عناصر "نئے طرز کی عسکریت پسندی" کی خطرناک راہ پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ تاکائچی حکومت کی اس انتہائی غلط اور خطرناک حکمت عملی کے حوالے سے آنکھیں کھولے، جاپان کے نام نہاد "امن پسند ملک" کے نقاب کے پیچھے چھپے اصل عزائم کو پہچانے اور فیصلہ کن اقدامات کے ذریعے علاقائی اور عالمی امن و استحکام کا مشترکہ طور پر دفاع کرے۔

    ویڈیوز

    زبان