• صفحہ اول>>چین پاکستان

    بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر: چین۔پاک دوستی کا تانا بانا مضبوط کرتی اورنج لائن ٹرین

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-01-19

    اورنج لائن منصوبے کے گاڑیوں کی دیکھ بھال کے مرکز میں کارکن میٹرو کرنٹ کلیکٹر شُو کی جانچ کر رہے ہیں۔ (جاؤ یی پُھو / پیپلز ڈیلی)

    اورنج لائن منصوبے کے گاڑیوں کی دیکھ بھال کے مرکز میں کارکن میٹرو کرنٹ کلیکٹر شُو کی جانچ کر رہے ہیں۔ (جاؤ یی پُھو / پیپلز ڈیلی)

    19جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں، تقریباً 27 کلومیٹر طویل اور 26 سٹیشنز پر مشتمل اورنج لائن ٹرین ٹرانزٹ منصوبہ شہر کے مصروف علاقوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ اورنج لائن منصوبے کی تعمیر 2015 میں شروع ہوئی تھی اور یہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشئیٹو کے تحت، چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے کامیاب ابتدائی نتائج میں سے ایک ہے۔ پاکستان کی پہلی اور تاحال واحد میٹرو لائن کو چائنا سٹیٹ ریلوے گروپ کمپنی لمیٹڈ اور چائنا نارتھ انڈسٹریز گروپ نے مشترکہ طور پر تعمیر کیا ہے۔ اکتوبر 2020 میں باضابطہ طور پر فعال ہونے کے بعد سے اب تک اورنج ٹرین 70 ملین کلومیٹر سے زائد محفوظ ٹرین آپریشنز مکمل کر چکی ہے اور اس کے ذریعے اب تک 28 کروڑ سے زائد مسافروں نے سفر کیا ہے۔یہ نہ صرف سفر کے لیے عوام کی ترجیحی سہولت بن چکی ہے بلکہ اس لائن کے اطراف تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا ہے۔

    اس منصوبے کے حوالے سے پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ اورنج لائن منصوبہ ،پاکستانی عوام کے سفری تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور یہ "نئے دور کی چین۔پاکستان دوستی کی سڑک" ہے۔ حالیہ دنوں چینی صحافی نے خود یہاں جا کر اس بات کا جائزہ لیا کہ پانچ سال کے دوران قدیم لاہور شہر پراس منصوبے نے کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔

    "عوام کے سفر کا طریقہ کار مکمل طور پر تبدیل ہو چکا ہے"

    روزانہ ،گھر سے چند سو میٹر کے فاصلے پر موجود اورنج لائن میٹرو سٹیشن تک آنے والے سرکاری ملازم خالدکے مطابق پہلے اس کے گھر سے دفتر تک کے سفر میں کم ازکم 40 منٹ لگتے تھے اور رکشے کا کرایہ بھی 200 روپے لگتا تھا لیکن اب گھر سے سٹیشن اور پھر دفتر تک پورا سفر صرف 20 منٹ میں ہو جاتا ہے اور کرایہ بھی محض 25 روپے ہے یعنی وقت اور پیسوں کی بچت بھی ہے اور سفر بھی آرام دہ ہے ۔

    اورنج لائن روٹ کے پہلے سٹیشن سے آخری سٹیشن تک کا فاصلہ گاڑی کے ذریعے طے کرنے میں کم از کم ڈھائی گھنٹے لگتے تھے، جبکہ منصوبے کے فعال ہونے کے بعد یہ وقت کم ہو کر صرف 45 منٹ رہ گیا، جس سے لوگوں کو نقل و حرکت میں سہولت و آسانی ملی اور لاہور کےٹریفک کی بھیڑ میں بھی کمی آئی۔ باغبانپورہ اسٹیشن کی پلیٹ فارم انچارج ظہیرہ راما کے مطابق منصوبے کے آغاز پر مسافر وں کی یومیہ تعداد 70 ہزار سے کم تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔ اس نے عوام کے سفر کے طریقے کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔

    پنجاب کے وزیرِٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کے مطابق، اورنج لائن چین۔پاکستان عملی تعاون کا ایک مثالی منصوبہ ہے، جس نےلاہور کے 1 کروڑ 20 لاکھ شہریوں کو جدید، مؤثر، محفوظ اور ماحول دوست ریل ٹرانزٹ خدمات فراہم کیں اور شہر کے ٹریفک دباؤ کو کم کیا۔ مقامی حکومت کے اندازوں کے مطابق، مکمل طور پر برقی توانائی سے چلنے والی اس ٹرین کے باعث پرانی گاڑیوں کے استعمال میں نمایاں کمی آئی ہے اور سالانہ اخراج میں تقریباً 30 ہزار ٹن کمی ہوئی ہے ۔

    پاکستان کے پالیسی انسٹیٹیوٹ برائے پائیدار ترقی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کے مطابق، اورنج لائن نے قدیم لاہور شہر کی پائیدار ترقی کو نئی قوت بخشی اور شہر میں جدیدیت کی تازہ روح پھونکی۔

    "اورنج ٹرین کے اردگرد کے علاقے اہم تجارتی مقامات ہیں"

    اورنج لائن کے 26 سٹیشنز میں 2 زیرِ زمین ہیں جب کہ 24 سٹیشنز فضا میں بلند معلق پل پر ہیں ، جہاں مسافر سفر کے دوران لاہور شہر کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ لائن کے اطراف دکانیں بھی کثرت سے ہیں اور کئی علاقوں میں نئی تجارتی عمارات بھی تیزی سے تعمیر ہو رہی ہیں۔ بلند پل کے دوسری جانب ہر چند سو میٹر پر بڑے اشتہاری بورڈ نظر آتے ہیں۔

    یہ لائن لاہور کے پرانے تجارتی علاقوں، جامعات، ریلوے سٹیشن اور تاریخی مقامات سے گزرتی ہے، جہاں دن بھر گہما گہمی رہتی ہے۔ پاکستان کے اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، اورنج لائن نے براہِ راست ٹکٹنگ، سکیورٹی اور صفائی جیسے شعبوں میں تقریباً 2000 مستقل ملازمتیں پیدا کیں، جبکہ بالواسطہ طور پر کاروبار اور رئیل سٹیٹ کی ترقی کے ذریعے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوئے۔

    لکشمی چوک سٹیشن کے باہر رکشوں کی قطاریں نظر آتی ہیں۔ ایک رکشا ڈرائیور آصف کا کہنا ہے کہ پہلے وہ لاہور ریلوے اسٹیشن کے قریب کام کرتا تھا، مگر اب گھر کے قریب میٹرو سٹیشن سے مسافروں کو لے جانے کے باعث اس کی آمدن مستحکم ہو گئی ہے اور گھر والوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع بھی ملتا ہے ۔

    ایک بڑے نجی بینک میں کام کرنے والی مہک بھی روزانہ اورنج لائن ہی سے سفر کرتی ہیں ۔ اس کے مطابق ٹرین میں لگی سکرینز پر ان کے بینک سمیت کئی کاروباری ادارے اپنے اشتہارات دیتے ہیں جنہیں مسافر توجہ سے دیکھتے ہیں ۔ ٹرین کے پل سے ادھر دیکھیں تو بڑے کمرشل بل بورڈز بھی شہر میں ایک بھرپور تجارتی ماحول کا احساس دلاتے ہیں۔ مسافروں کا کہنا ہے کہ اورنج لائن ایک نہایت جدید میٹرو ہے، اس کے اطراف کی زمین سونے کے برابر قیمتی ہو چکی ہے اور لاہور کی شہری ترقی کا ڈھانچہ بہتر ہو رہا ہے۔

    اورنج لائن کے آپریشن و مینٹیننس پراجیکٹ کے قائم مقام نائب جنرل منیجر تھان زی دونگ نے بتایا کہ تعمیر کے دوران اس منصوبے کے باعث مقامی طور پر روزگار کے 7000 سے زائد مواقع پیدا ہوئے اور متعلقہ صنعتوں اور لاجسٹکس کو فروغ ملا۔ آپریشن کے بعد، لائن کے اطراف مختلف تجارتی سرگرمیاں مزید متحرک ہوئیں ۔یہ بنیادی ڈھانچے کا یہ بڑا منصوبہ روزگار میں اضافے اور عوامی فلاح میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے اور شہر و عوام دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔

    "ایک 'میٹرو یونیورسٹی' تشکیل پاگئی "

    لاہور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پاکستان کی معروف جامعہ ہے ۔صحافی نے اورنج لائن کے اسی اسٹیشن پر چند مقامی طلبہ سے ملاقات کی، جنہوں نے بتایا کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد اورنج لائن میں کام کرنا کئی طلبہ کی اولین ترجیح ہے۔

    اورنج لائن کا ڈپو ، سٹیشن ڈیرا گجران کے قریب واقع ہے، جہاں گاڑیوں کی روزمرہ تیاری اور مرمت ہوتی ہے۔ ڈرائیورز کے دفتر میں چند خواتین ڈرائیورز بھی نظر آئی جو کہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی خواتین میٹرو ڈرائیورز ہیں۔

    ڈرائیور سموِیہ ایمان جنہوں نے گزشتہ سال مکینیکل انجینئرنگ میں گریجویشن کی جس کے بعد انہوں نے اپنی خواہش سے اورنج لائن ڈرائیور بننے کا انتخاب کیا ۔ چھ ماہ کی تربیت اور انٹرن شپ کے بعد وہ باضابطہ طور پر میٹرو چلانے لگیں ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن خوشی بھی تھی اور کچھ گھبراہٹ بھی مگر ایسی منفرد ملازمت پر انہیں فخر ہے۔

    فی الحال، اورنج لائن کی آپریشن و دیکھ بھال نارتھ انٹرنیشنل کوآپریشن کمپنی، گوانگ جو میٹرو گروپ اور پاکستان کے ڈائیو ایکسپریس گروپ کے مشترکہ کنسورشیم کے ذمے ہے۔ چینی اور پاکستانی ادارے "مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھائیں" کے اصول پر عمل کرتے ہوئے مقامی ریلوے ٹیلنٹ تیار کر رہے ہیں۔ ڈائیو ایکسپریس کے جنرل منیجر فیصل صدیقی کے مطابق، 2020 سے ہر سال نئی بھرتیوں کو 3 سے 6 ماہ کی پیشہ ورانہ تربیت دی جاتی ہے اور اب تک 6 بیچز میں 2000 سے زائد افراد کو تربیت دی جا چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اورنج لائن نے نہ صرف پاکستان کو پہلی میٹرو دی بلکہ لاہور کے لیے ایک 'میٹرو یونیورسٹی' تشکیل دے دی ہے، جو مسلسل ریل ٹرانزٹ ماہرین تیار کر رہی ہے۔ اس وقت منصوبے میں 1300 سے زائد ملازمین ہیں جن میں 98 فیصد پاکستانی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق، گزشتہ برسوں میں چینی اور پاکستانی ملازمین نے مشترکہ طور پر 168 مکمل انگریزی آپریشن و مینٹیننس قواعد و معیار اور سٹینڈرڈ آپریٹنگ مینولز تیار کیے اور انہیں پاکستان کی حقوقِ املاک دانش تنظیم میں رجسٹر کروایا۔ تھان زی دونگ کے مطابق،یہ انتظامی طریقہ کار مستقبل میں پاکستان کے شہری ریل منصوبوں میں اپنائے جاسکیں گے۔ صوبائی وزیرِٹرانسپورٹ بلال اکبر خان کا کہنا ہے کہ اورنج لائن نے پاکستان کے لیے مقامی اور پیشہ ورانہ ریل ٹرانزٹ افرادی قوت تیار کی ہے اور پاکستان امید کرتا ہے کہ اس شعبے میں چین کے ساتھ تعاون مزید گہرا ہو گا، تاکہ جدید منصوبے پنجاب اور پورے پاکستان میں جڑ پکڑیں۔

    ویڈیوز

    زبان