• صفحہ اول>>دنیا

    گرین لینڈ  کی خودمختاری کا تنازع مزید سنگین رخ اختیار کر گیا

    (CRI)2026-01-20

    مقامی وقت کے مطابق 18 جنوری کو یورپی یونین کے رکن ممالک کے نمائندوں نے بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ کے معاملے پر دی جانے والی ٹیرف دھمکیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ اسی روز یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا کہ تمام فریق متحد ہو کر گرین لینڈ اور ڈنمارک کی خودمختاری کا بھرپور دفاع کریں گے اور یورپ اپنے اقتصادی اور سلامتی سے متعلق تزویراتی مفادات کا ہر صورت تحفظ جاری رکھے گا۔

    یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا نے بھی کہا کہ رکن ممالک سے ہونے والی مشاورت سے واضح ہوا ہے کہ تمام ممالک ڈنمارک اور اس کے خودمختار خطے گرین لینڈ کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا جبر کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کے ساتھ تعمیری رابطہ برقرار رکھنے کے خواہاں بھی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کے متعدد ممالک یورپ کو برآمد کی جانے والی تقریباً 93 ارب یورو مالیت کی امریکی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنے یا یورپی منڈیوں میں امریکی کمپنیوں کی رسائی محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

    گرین لینڈ کے مسئلے پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد یورپ کے آٹھ ممالک نے 18 جنوری کو ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی محصولات کی دھمکیاں ٹرانس اٹلانٹک تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہیں اور ایک خطرناک منفی ردِعمل کے سلسلے کو جنم دے سکتی ہیں۔ اس مشترکہ بیان پر ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، ناروے، سویڈن اور برطانیہ نے دستخط کیے ہیں۔

    ویڈیوز

    زبان