یورپی براعظم کے منظر نامے پر ایک طلسماتی -مبنی بر حقیقت ڈرامے کے آثار واضح ہورہے ہیں ۔ یورپی یونین چین کو ایک "مخالف" کے طور پر دیکھتی ہے، جبکہ چینی کمپنیز بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور یورپ کی ترقی میں فعال طور پر شامل ہیں ، لیکن انہیں "جبری فروخت" کی سخت حقیقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی وقت، یورپی یونین امریکا کو ایک "دوست" کی حیثیت سے دیکھتی ہےاور جب امریکا،گرین لینڈ کے حوالے سے دھمکیاں دیتا ہے یا یورپ پر ٹیکس کا دباؤ ڈالتا ہے، تو یہ یورپ اس سے نظر چراتا اور مجبوراً برداشت کرتا دکھائی دیتا ہے ۔ یہ صورت حال صرف "دوہرےمعیار" کا معاملہ نہیں ہےبلکہ یہ غاصبانہ دباؤ کے سامنے یورپی حکمت عملی کی کمزوری کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
یورپی اتحاد اپنی شعوری تعصب کی وجہ سے سکیورٹی کے تصور کو زیادہ بڑھا چڑھا کر دیکھ رہا ہے اور معمول کے دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعاون کو نقصان پہنچانے کے لیے سیاسی پینترے استعمال کر رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، برسلز کا ارادہ ہے کہ رکن ممالک کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ بتدریج اہم بنیادی ڈھانچے سے چینی سازوسامان کو ختم کریں، جس میں ٹیلی کام نیٹ ورک، سولر پاور سسٹمز، یہاں تک کہ سیکیورٹی سکینرز بھی شامل ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس طرح کے اقدامات زیادہ عام ہو گئے ہیں، ان کا کوئی ٹھوس تکنیکی یا قانونی جواز نہیں ہے اور یہ کھلے عام سائنسی اور مارکیٹ کی منطق کو نظرانداز کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر، سپین نے پہلے ہی حواوے کے ساتھ ریکارڈنگ سٹوریج سامان کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔ حالانکہ میڈرڈ نے اس معاہدے کے قانونی ہونے پر زور دیا اور کہا کہ اس سے "کوئی سکیورٹی خطرہ" نہیں ہے، لیکن امریکا اور یورپی یونین نے اصرار کیا کہ اس میں"سنجیدہ مسائل" موجود ہیں۔ اس غیر منطقی عمل نے معمول کے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو سکیورٹی کے مسئلے میں تبدیل کر دیا ہے، جو نہ صرف چینی کمپنیز کے قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یورپ کے اپنے قانون اور معاہدوں کی سالمیت کو بھی بری طرح متاثر کرتا ہے۔
2020 کے "5-جی ٹول باکس" سے لے کر آج کی "voluntary restrictions" کو قانونی شکل دینے کی کوششوں تک، یورپی یونین کی پالیسی کا راستہ واضح طور پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ برسلز کس طرح امریکا کے دباؤ میں آکر بتدریج سختی کر رہا ہے۔ تاہم، بے جا مارکیٹ مداخلتوں سے وہ نام نہاد "سکیورٹی" تو حاصل نہیں ہوئی لیکن انہوں نے یورپ کو اقتصادی قوانین کی خلاف ورزی کی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بہت سے ٹیلی کام آپریٹرز نے انتباہ کیا ہے کہ چینی سپلائرز پر مکمل پابندیاں ،"کنزیومر پرائس" میں اضافہ کریں گی۔ اعداد و شمار کے مطابق ، یورپی یونین میں نصب کردہ 90 فیصد سے زیادہ سولر پینلز چین میں تیار کیے جاتے ہیں۔ان مؤثر، جدید ٹیکنالوجی والی سپلائی چینز کو زبردستی ختم کرنے سے نہ صرف متبادل لاگت بہت زیادہ ہوگی بلکہ یہ یورپ کی سبز تبدیلی اور ڈیجیٹل ترقی کو بھی براہ راست سست کر دے گا، جس سے یہ مستقبل کی عالمی مسابقت میں کمزور ہوجائیں گے۔ یورپی پالیسی ساز اپنی دانست میں جس "خطرے کو کم کرنا" پر عمل کر رہے ہیں وہ درحقیقت "ترقی کو کم کرنا" ہے۔ سمندر پار موجود ایک اتحادی کی سیاسی خوشنودی کی خاطر ، وہ نہ صرف اپنے شہریوں کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حق کی قربانی دے رہے ہیں ، بلکہ اپنی جدیدیت کو بھی پیچھے دھکیل رہےہیں۔
یورپ ہر موڑ پر امریکا کے سامنے جھک جاتا ہے، حتی کہ اپنے مفادات کی قیمت پر بھی اس کے سامنے سر جھکا دیتا ہے ، پھر بھی اسے نہ تو امریکا سے عزت ملتی ہے اور نہ ہی باہمی احترام، بلکہ صرف بڑھتی ہوئی حقارت اور استحصال اس کے حصے میں آرہا ہے۔ امریکا ٹیرف کا فائدہ اٹھاتا ہے اور کھل کر ڈنمارک کی سرزمین کے حصے گرین لینڈ کی "خریداری" کا مطالبہ کرتا ہے۔ ایک اتحادی کی علاقائی خودمختاری کو محض "ریئل سٹیٹ ٹرانزیکشن" کے طور پر دیکھنا ایک کھلی غاصبیت ، جارحیت اور تذلیل کا عمل ہے۔ تاہم، اپنی خودمختاری کی اس کھلی خلاف ورزی کے سامنے یورپ ، حیرت انگیز طور پر کمزور رہا ہے۔ یورپی یونین کی امورِ خارجہ و سیکیورٹی پالیسی کی اعلیٰ نمائندہ ،کاجا کلاس نے تو یہ دعویٰ تک کیا ہے کہ چین اور روس "اتحادیوں کے مابین اختلاف" سے "بہت لطف اندوز " ہو رہے ہیں - یہ لہجہ نہ صرف غلامانہ بلکہ خطرناک حد تک بھٹکی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ "ڈبل سٹینڈرڈز" کا زہر یورپ کے مستقبل کو کھوکھلا کر رہا ہے، اور "غاصب" پر انحصار کرنے کا غلط راستہ یورپ کو اس کی آزاد روح سے مکمل طور پر محروم کردے گا۔
اقتصادی طور پر، یورپ ایک طرف تو خوب زورو شور سے "مارکیٹ کے اصولوں" اور "منصفانہ مقابلے" کا اعلان کرتا ہے اور چینی حکومت پر "مارکیٹ میں مداخلت" کا الزام لگاتا ہے تو دوسری طرف، بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے، ایک خاص ملک کی کمپنیز کے ساتھ امتیازی سلوک کرتا ہے۔ امریکا کے وینزویلا پر اچانک حملے اور ایران پر فوجی دباؤ پر یورپ نے سیاسی طور پر، خاموشی اختیار کی ہے۔ تاہم، اس نے گرین لینڈ پر امریکا کے قبضے کی کوششوں کو "ناقابل قبول" قرار دیا۔یہ اقدامات نہ صرف منافقانہ ہیں بلکہ ان کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور یورپی اقتصادی ماحول کی سیاسی نوعیت اور اس کی مارکیٹ تک رسائی کو آلے کے طور پر استعمال کرنے کے خطرات دنیا کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں۔
"چینی اثر سے نجات" نے یورپ کو عالمی ٹیکنالوجی کی بالادستی کے حصول کی کوشش میں امریکا کا ایک پیادہ بنا دیا ہے ۔ کچھ یورپینز نے تو یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کے خطرات، چینی آلات پر انحصار کرنے کے خطرات سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ ایک انتہائی واضح فیصلہ ہے۔ جب یورپ نے ہواوے اور زی ٹی ای کو باہر کیا اور سست ترقیاتی رفتار والے زیادہ مہنگے امریکی متبادل کا انتخاب کیا، تو دراصل اس نے اپنی ٹیکنالوجی کے انتخاب کو محدود کردیا اور مکمل طور پر امریکی ٹیکنالوجی نظام کا تابع بن گیا۔
تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیاہے کہ اقتصادی اور تجارتی مسائل کو سیاسی رنگ دینا، نہ صرف چین کی ترقی کو روکنے میں ناکام رہے گا، بلکہ یورپ کو بھی ایک ایسے تنگ راستے پر لے جائے گا، جو آخرکار تنہائی اور انحصار کی ایک بند گلی میں جا کر ختم ہوگا۔ چین یورپ کو ہمیشہ ایک لازمی قوت کے طور پر دیکھتا آیا ہےاور ایک کثیر قطبی دنیا میں یورپ کی سٹریٹجک خود مختاری کے حصول میں حمایت کرتا ہے۔ تاہم، حقیقی خود مختاری کے لیے دوسروں کی پیروی کرنا نہیں بلکہ صحیح اور غلط کا آزادانہ فیصلہ کرنا ضروری ہے۔
گرین لینڈ کی سرد ہواؤں میں سامراجی بلیک میلنگ اور برسلز کے کانفرنس رومز میں خود ساختہ پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے، یورپ کو واقعی ہوش میں آنے کی ضرورت ہے: دوہرے معیار کی دلدل میں پھنسے رہنے سے صرف اس کی اپنی توانائی ختم ہوگی؛ صرف معقولیت اور عملییت کی طرف لوٹ کر ہی یہ اپنی تقدیر کو واقعی واپس اپنے ہاتھوں میں لے سکتا ہے۔




