
10 جنوری 2026۔ مشرقی چین کے صوبے آنہوئی کے ووہو روڈ پر مصنوعی ذہانت پر مشتمل " روبو کاپ" اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے۔ (شنہوا)
21جنوری (پیپلز ڈیلی آن لائن)پولیس کی یونیفارم پہنے ہوئے روبوٹ افسر ، انٹیلی جنٹ پولیس یونٹ R001" ، دور سے بالکل ایک انسان لگتا ہے۔ تاہم، قریب سے اس کی چمکدار دھاتی سطح سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ انسان نہیں روبوٹ ہے ۔ یہ اس شہر میں ایک" سلیبرٹی روبوٹ " بن چکا ہے جس کے ساتھ یہاں سے گزرنے والے لوگ بہت شوق سے تصاویر کھنچواتے ہیں ۔
ووہو پولیس افسر جیانگ جی ہاو کا کہنا ہے کہ یہ ہمارا قابل ساتھی ہے جو مہارت سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے اور چونکہ یہ روبوٹ مسلسل 24 گھنٹے کام کر سکتا ہے تو اس سے خاص طور پر مصروف اوقات یا شدید موسمی حالات میں پولیس پر سے کام بوجھ کم ہوگا ۔مصنوعی ذہانت پر مشتمل " انٹیلی جنٹ پولیس یونٹ R001""، شہر کے ٹریفک سگنل سسٹم کے ساتھ مربوط ہے۔اعلیٰ معیار کے کیمروں اور انٹیلی جنٹ صوتی نشریاتی نظام سے لیسیہ روبوٹ، بڑے ماڈل کے الگوردھمز کا استعمال کرتے ہوئے خود مختاری کے ساتھ، بغیر موٹر /انجن والی گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کی ٹریفک خلاف ورزیوں کی شناخت کرتا ہے اور موقع پر ہی انتباہ جاری کرتا ہے ۔ مستقل ڈیوٹی کے علاوہ، یہ متحرک روبوٹ حکم ملنے پر خود مختاری سے مخصوص مقامات پر جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی صلاحیتوں میں غیر قانونی پارکنگ کی شناخت اور سڑک کی "رئیل ٹائم" نگرانی شامل ہیں۔
یہ 'روبو کاپ' چین کے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ٹریفک معاونین کے بڑھتے ہوئے بیڑے میں تازہ ترین اضافہ ہے۔پچھلے سال، کئی چینی شہروں نے روزمرہ کی پولیسنگ میں روبوٹ افسران کو شامل کرنا شروع کیا۔ جون میں، صوبہ سچوان کے شہر چھنگ دو نے انسانی ساتھیوں کے ساتھ گشت کرنے کے لیے روبوٹ پولیس افسران کی ایک ٹیم تعینات کی، جس میں چوپایہ روبوٹ، پہیوں پر چلنے والے روبوٹ اور انسان نما روبوٹ شامل تھے۔دسمبر میں، مشرقی چین کے صوبے جہ جیانگ کے شہر ہانگ جو میں بھی ایک اے آئی ٹریفک پولیسنگ روبوٹ کو ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا۔
ان روبوٹس کی تعیناتی ،مجسم ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو حقیقی دنیا کی ایپلیکیشنز میں لانے کے لیے چین کی وسیع تر کوششوں کو اجاگر کرتی ہے ۔ سٹیٹ کونسل کے ڈویلپمنٹ ریسرچ سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق چین کی مجسم ذہانت کی ابھرتی ہوئی صنعت کا مارکیٹ پیمانہ 2030 میں 400 ارب یوان (تقریباً 57.1 ارب امریکی ڈالر) تک پہنچ جائے گا جب کہ 2035 میں 1 ٹریلین یوان سے تجاوز کر جائے گا۔



