• صفحہ اول>>سیاست

    یقین کی آواز: دنیا چین کے سفارتی پیغام پر توجہ کیوں دیتی ہے؟ (5)

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-09
    یقین کی آواز: دنیا چین کے سفارتی پیغام پر توجہ کیوں دیتی ہے؟

    8 مارچ کو چودہویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے سیشن کے دوران چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے "چین کی خارجہ پالیسی اور بیرونی تعلقات" کے حوالےسے ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب دنیا ایک بڑی اور گہری تبدیلی کے دور سے گزررہی ہے یہ پریس کانفرنس ، غیر ملکی ماہرین کے لیے چین کی خارجہ پالیسی کی سمت کو پرکھنے کا ایک اہم موقع تھی۔

    عالمی منظر نامہ بے حد منتشر ہے۔ مشرق وسطیٰ ایک بار پھر کھلے تصادم کے دور میں داخل ہو چکا ہے، ٹرانس اٹلانٹک تعلقات میں تناؤ کے آثار نظر آ رہے ہیں اور واشنگٹن، ایک یکطرفہ اور جارحانہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔اس غیر مستحکم صورتحال میں، چین خود کو ایک مستحکم قوت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ "دوسیشنز "کے سفارتی پیغامات کو بہت سے لوگ ایک کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں کہ پیش گوئی کی جا سکے، ایک غیر یقینی وقت میں "یقین" کی پیشکش کی جا سکے۔

    ایک بدلتی دنیا میں یقین کا امکان

    جیسا کہ وانگ ای نے پریس کانفرنس میں دہرایا، یہ یقین تاریخ کی صحیح سمت پر رہنے اور پرامن ترقی کی حمایت کرنے سے پیدا ہوتا ہے ۔ چاہے چین کی سرحدوں کے پار جو بھی ہنگامہ ہو، چین کی بنیادی سمت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ یہ اب بھی، اپنے سفارتکاروں کے طرزِ عمل سے، "دنیا میں امن کا معمار ، عالمی ترقی میں معاون اور بین الاقوامی نظام کا محافظ" ہے۔ یہ ایک سٹریٹجک عزم ہے جو قومی مفاد سے جڑا ہوا ہے۔

    اس کی کشش کی سب سے واضح علامت 2026 کی پہلی سہ ماہی میں متعدد غیر ملکی رہنماوں کا دورہ بیجنگ ہے۔ یہ دورے اس عملی رجحان کی عکاسی کرتے ہیں کہ اب بہت سے لوگ چین کو ترقی کے لیے دنیا کے سب سے مستحکم محرک کے طور پر دیکھتے ہیں۔چین کی معیشت کے 140 ٹریلین یوان ($20.3 ٹریلین) کے حد کو پار کرنے کے بعد، توجہ اب آنے والے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے پر مرکوز ہے ، جسے محض ایک "داخلی روڈ میپ " نہیں بلکہ مستقبل کے امکانات کے لیے رہنمائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ کو سنبھالنا

    وانگ ای نے پریس کانفرنس میں کہا کہ چین اور امریکا ایک دوسرے کو بدل نہیں سکتے، لیکن ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا طریقہ بدل سکتے ہیں۔ چین-امریکہ تعلقات کی مینیجمنٹ اب بھی سفارتی مساوات میں سب سے نازک عنصر ہے۔2025 کے نئی بلندیوں تک پہنچنے والے سخت تعزیری ٹیرفس کے بعد ، دونوں جانب سے تعلقات کو مستحکم کرنے کی خواہش کا اشارہ دیا گیا ہے۔ تاہم واشنگٹن میں انتہا پسند مزاج کے لوگ تصادم کی لکیر کی جانب دھکیلتے رہتے ہیں تاہم وہاں کچھ مسائل پر نظریاتی تصادم کے بجائے تجارتی مصروفیات کے لیے ایک کھلے پن کا قابل ذکر عملی نقطہ نظر بھی بتدریج ابھر رہا ہے ۔

    بیجنگ کے لیے یہ ،ایک نئے انداز سے معاملات کو مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے: ایک ایسا موقع جس میں واشنگٹن اس کے ساتھ زیادہ مساویانہ شرائط پر ذمہ داری نبھاتا ہے۔ "استاد-طالب علم" کا پرانا تعلق، جیسا کہ حکمت عملی کے کچھ چینی ماہرین اسے بیان کرتے ہیں، اب زیادہ قابل عمل نہیں رہا۔ اس کی جگہ کیا لے گا، یہ ابھی بھی مواد اور لہجے دونوں حوالے سے مذاکرات کے مراحل میں ہے۔

    اسی دوران، چین خود کو کثیر الجہتی فریم ورکس کا محافظ ثابت کرتا آرہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے لے کر ڈیجیٹل گورننس اور وبائی امراض سے بچاو کی تیاری تک کے تمام مسائل پر، اس نے خود کو جامع شمولیتی تعاون کا حامی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ "ڈی کپلنگ" کی کہانیوں اور سپلائی چین کی ٹوٹ پھوٹ کے سامنے، بیجنگ کا پیغام ایک ہی ہے: عالمی مسائل کے لیے عالمی حل درکار ہیں اور کوئی بھی طاقت اصولوں پر اجارہ داری نہیں رکھ سکتی ہے۔

    اصول، قربت اور گلوبل ساوتھ

    پریس کانفرنس میں وانگ ای نے کہا کہ گلوبل ساوتھ کا اجتماعی عروج دنیا میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلی کی ایک منفرد علامت ہے، مزید یہ کہ گلوبل ساوتھ کو امن کے حق میں آواز اٹھانی چاہیے اور بین الاقوامی سطح پر ترقی کو مستحکم کرنا چاہیے۔

    سفارتی اشاروں کے پیچھے ایک ساختی تبدیلی چھپی ہوئی ہے۔ ہمسائیگی کے حوالے سے چین کی حکمت عملی یہ ہے کہ اپنے ارد گرد کے علاقے کو "امن، سکون، خوشحالی، خوبصورتی اور دوستی کےمشترکہ گھر" میں تبدیل کرے۔ یہ ایک دانستہ اقدام ہے جس کا مقصد انضمام کو گہرا کرنا ہے ، چاہے وہ جامع علاقائی اقتصادی شراکت داری کے ذریعے ہو، جنوبی چین کے سمندر پر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم کے ساتھ طرز عمل کے مذاکرات کے ذریعے ہو یا وسطی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ تعلقات کے ذریعے ہو۔

    یہ صرف خیر سگالی کے اشارے نہیں ہیں۔ یہ وہ تجربات ہیں جن میں بیجنگ "انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل برادری " تشکیل دینے کی کوشش کر رہا ہے ۔یہ تصور عالمی سطح پر فروغ دیئے جانے سے قبل علاقائی سطح پر آزمایا جا رہا ہے ۔ اس مقصد کے لیے، چین کا گلوبل گورننس انیشئیٹو بڑھتی ہوئی تعداد میں ٹھوس مواد کے حامل پروگرامز میں تبدیل کیا جا رہا ہے ۔

    عالمی برادری کے لیے، یہ معاملہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت جب بڑی روایتی طاقتوں کے مابین مسابقت ، تقسیم کا باعث بن رہی ہے، چین خود کو ایک متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے: ایک ایسا متبادل جو سرمایہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور کثیر قطبی ہم آہنگی و بقائے باہمی کے عزم کی پیشکش کرتا ہے۔ امن و سلامتی میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی حمایت کرتے ہوئے، بیجنگ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس کا عالمی نظام کا نظریہ صرف زبانی دعوی نہیں ہے۔

    اس وقت جب "دو سیشنز" جاری ہیں، تو بیجنگ سے آنے والا سفارتی پیغام واضح ہے: دنیا میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کے دور میں چین خود کو یقین اور اعتماد کا نقطہ پیش کرتا ہے۔ غلبے یا رکاوٹوں کے ذریعے نہیں، بلکہ استحکام کے وعدے اور امکانات کی کشش کے ذریعے۔ایک منتشر بین الاقوامی منظر نامے میں، بہت سے لوگ چین کی آواز سننے کا انتخاب کر رہے ہیں اور یہ آواز ابھرتے ہوئے کثیر قطبی نظام میں بڑھتی ہوئی اہمیت کی حامل ہوگی۔

    زبان