مقامی وقت کے مطابق 18 مارچ کی علی الصبح، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک باضابطہ بیان جاری کیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ ایران کی سپریم سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری اور پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر علی لاریجانی حالیہ دہشت گرد حملے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے بھی 17 تاریخ کی شب بسیج ملیشیا کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس کے کمانڈر سید مجید موسوی نے 17 تاریخ کو سوشل میڈیا پر کہا کہ خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کے " نتیجہ خیز" اور "تباہ کن" حملے "تیز مرحلے" میں داخل ہو گئے ہیں۔ ایران نے حال ہی میں ملک میں سرگرم جاسوسوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ 17 تاریخ کو، پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان میں 55 افراد کو شناخت کرکے گرفتار کیا گیا ہے جن پر اسرائیل اور امریکہ کے لیے کام کرنے کا الزام تھا۔
دوسری جانب، اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ موجودہ جنگ ان کی توقعات سے بڑھ چکی ہے۔ اسرائیل کا اندازہ تھا کہ یہ تنازع صرف چند ہفتوں تک ہی جاری رہے گا، لیکن اب یہ طویل المدتی شکل اختیار کر رہا ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر یہ لڑائی مزید تین ہفتوں سے ایک ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک کے ساتھ ساتھ جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے آبنائے ہرمز میں جہازرانی کی حفاظت کو یقینی بنانے میں امریکہ کی مدد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے نیٹو کے اتحادیوں پر یہ کہتے ہوئے بھی دباؤ ڈالا ہے کہ اگر نیٹو نے آبنائے ہرمز میں معمول کی آمدورفت کو یقینی بنانے میں امریکہ کی مدد نہ کی تو اسے "بہت برے" نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔



