اسرائیلی فورسز نے 17 مارچ کی شام کو ایرانی انٹیلی جنس وزیر اسماعیل خطیب کو نشانہ بناتے ہوئے ایک حملہ کیا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے 18 تاریخ کو سوشل میڈیا پر اسماعیل خطیب کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے 18 تاریخ کی شام کو ایک بیان جاری کیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کی ایسی کارروائیاں "اسلامی قوم کے عزم کو مزید مضبوط کریں گی" اور خبردار کیا کہ "خون کا حساب جلد چکایا جائے گا"۔
ایرانی ذرائع کے مطابق، 18 تاریخ کو ایران کے صوبہ بوشہر میں واقع دنیا کی سب سے بڑی قدرتی گیس فیلڈ جنوبی پارس پر امریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا ۔ توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر اس حملے کے بعد ایرانی صدر پزشکیان نے کہا کہ اس طرح کی جارحیت پر مبنی کارروائیاں صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیں گی اور اس سے ایسے سلسلہ وار ردِعمل جنم لے سکتے ہیں جن پر قابو پانا مشکل ہوگا اور جو عالمی سطح پر اثرانداز ہوں گے۔ 19 تاریخ کی علی الصبح،ایران کی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے جواب میں خطے میں امریکہ سے منسلک تیل اور توانائی کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر میزائل حملہ کیا ہے۔
شپنگ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، مشرق وسطیٰ کے خلیجی خطے میں تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک سے تیل کی برآمدات فروری میں اوسط سطح کے مقابلے میں 60 فیصد سے زیادہ گر گئی ہیں۔ جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ٹرمپ انتظامیہ نے تیل کی منڈی میں قلیل مدتی اتار چڑھاؤ کو دور کرنے کے لیے متعدد اقدامات اختیار کئے ہیں۔ 18 تاریخ کو ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو روکنے کی کوشش میں جونز ایکٹ کی 60 دن کی معطلی اور ملکی بندرگاہوں سے جہاز رانی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت نے وینزویلا کے خلاف پابندیوں میں مزید نرمی کی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا کے ذریعے کہا کہ امریکہ موجودہ ایرانی حکومت کے خلاف مزید حملوں پر غور کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کی ذمہ داری امریکہ کے بجائے ان ممالک کو اٹھانی چاہیے جو آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی پر انحصار کرتے ہیں۔



