• صفحہ اول>>سائنس و ٹیکنالوجی

    بین الاقوامی مریضوں کے لیے چین میں ہیلتھ کیئر کی موثر لاگت

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-03-19

    28 فروری 2026 ۔ چین کے صوبے یوننان  کے حہ کھو  یاو خود اختیار کاونٹی کے رن من ہسپتال میں عملے کا رکن وہیل چیئر پر موجود ایک  ویتنامی مریض کی مدد کر رہا ہے ۔(شِنہوا/پھینگ یی کھائی )

    28 فروری 2026 ۔ چین کے صوبے یوننان کے حہ کھو یاو خود اختیار کاونٹی کے رن من ہسپتال میں عملے کا رکن وہیل چیئر پر موجود ایک ویتنامی مریض کی مدد کر رہا ہے ۔(شِنہوا/پھینگ یی کھائی )

    19 مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)حال ہی میں، امریکی کانٹینٹ کرئیٹر لوسیان جارج نے سوشل میڈیا پر چین کے صحت کے نظام کے بارے میں اپنے تجربات بیان کیےاور 70,000 سے زیادہ لائکس حاصل کرنے والی اس ویڈیو پر دلچسپ بحث کا آغاز ہوا۔

    اتنی بڑی آبادی والے ملک ،چین کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ کی فیس (بغیر انشورنس کے) چار امریکی ڈالر تھی، جبکہ امریکا میں یہ کم از کم 300 ڈالر تک ہوتی ہے۔جارج نے جہ جیانگ یونیورسٹی میڈیکل سکول سے وابستہ سیکنڈ ہاسپٹل میں اپنے جسمانی معائنے کو 'ناقابل یقین' قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف ڈھائی گھنٹے میں نو ٹیسٹ مکمل کیے۔ ہر ٹیسٹ ایک مختلف کلینک میں کیا گیا اور یہ عمل بہت آسان تھا، نتائج براہ راست ان کے فون پر بھیجے گئے، جن میں کسی بھی مسئلے کے لیے فوری انتباہ شامل تھے۔

    جارج ان بین الاقوامی مریضوں میں شامل ہیں جو چین کے صحت کے نظام سے متاثر ہیں۔ بہت سے لوگوں نے آن لائن اپنے مثبت تجربات شیئر کیے ہیں، جس سے ہیلتھ کیئر کے شعبے میں چین کی ڈیجیٹل اور موثر خدمات میں عالمی دلچسپی پیدا ہوئی ہے، جو اب موبائل ادائیگیوں اور تیز رفتار ریلوے کے ساتھ چین کو 'ضرور آزمائیے" کا پیغام دیتی ہیں۔ہسپتال کے عملے کے مطابق، اگرچہ غیر ملکی مریض اب بھی مجموعی وزٹس کا ایک چھوٹا حصہ ہیں، لیکن ان کی تعداد بڑھ رہی ہے، جزوی طور پر ویزا کے قوانین میں نرمی ، مسافروں کو چین میں ہنگامی علاج کی سہولت دیتی ہے۔

    یی وو میں ، جہ جیانگ یونیورسٹی کے میڈیکل اسکول سے الحاق شدہ فورتھ ہاسپٹل میں 2025 کے دوران، 26,000 سے زائد غیر ملکی مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے ، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 33 فی صد زیادہ ہے۔اسی طرح، ہائی نان میڈیکل یونیورسٹی کے الحاق شدہ سیکنڈ ہاسپٹل کے بین الاقوامی طبی مرکز میں غیر ملکی مریضوں خاص طور پر روس، سنگاپور، اور امریکا سے آنے والوں کی آمد میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

    بیجنگ کے پیکنگ یونین میڈیکل کالج ہسپتال کے بین الاقوامی طبی شعبے کے ڈائریکٹر تھیان جوانگ کہتے ہیں کہ ، 2024 سے اس رجحان میں اضافہ زیادہ واضح ہو گیا ہے ۔ غیر ملکی مریضوں میں اب طویل مدت کے لیے مقیم اور بڑھتی ہوئی تعداد میں طبی دیکھ بھال کے لیے سفر کرنے والے افراد شامل ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے: چین کا صحت کا نظام اتنا پرکشش کیوں ہے؟

    ہانگ جو میں اپنا علاج کروا نے والے ، 73 سالہ امریکی معمار رابرٹ نوبل کی رائے میں اعلیٰ کارکردگی، جدید سہولیات، ماہر عملہ، اور کم لاگت اہم عوامل ہیں۔ انہوں نے دو سالوں میں، جہ جیانگ یونیورسٹی سے وابستہ فرسٹ ہاسپٹل میں چار بیماریوں کا علاج کروایا، ان میں ریڑھ کی ہڈی اور دونوں آنکھوں میں موتیا اترنے کی کل تین سرجریز شامل ہیں ۔

    قومی صحت کمیشن کے ایک اہلکار کے مطابق، مخصوص طبی شعبوں میں سستے اور جدید علاج مثلاً، پروٹون تھراپی اور ٹارگٹڈ ادویہ فراہم کرنے کے حوالے سے چین ایک رہنما بن چکا ہے ۔ مریض اکثر کینسر اور امراض قلب جیسی پیچیدہ بیماریوں کے علاج کے لیے چین آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ روایتی چینی طب بھی مقبولیت حاصل کر رہی ہے، جیسے کہ جہ جیانگ صوبائی ہسپتال میں گاو شیانگ فو جیسے کلینک علاج کے مربوط پلان فراہم کر رہے ہیں۔ گردے کی بیماری میں مبتلا ایک تاجک مریض کے لیے ایک جامع ٹریٹمنٹ پلان میں TCM، آکو پنکچر ، اور غذائی علاج شامل تھا، ساتھ ہی گھر واپس جانے کے بعد جاری دیکھ بھال کے لیے روایتی چینی طبی ادویہ بھی فراہم کی گئیں، جس سے سرحد پار ہیلتھ کیئر کو آسان بنایا گیا۔

    غیر ملکی مریضوں کی تعداد میں اضافہ چین کی مناسب پالیسیز اور بہتر خدمات کے ذریعے اندرونی خرچ کو بڑھانے کی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ جنوری کے ایک منصوبے میں، ریاستی کونسل نے "انٹرنیشنل ہیلتھ کیئر " کو ترقی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی طبی سیاحت کے لیے شنگھائی میں 22 جب کہ بیجنگ میں 19 پائلٹ پبلک ہیلتھ ادارے ہیں، اس کے علاوہ بین الاقوامی مریضوں کے لیے روایتی چینی طب کے 40 پروگرام ہیں ۔ کلینیکل خدمات میں اے آئی کا انضمام چین کی ہیلتھ کیئر میں نمایاں بہتری لایا ہے، یہاں اے آئی کی مدد سے امیجنگ، تشخیص، اور ذاتی علاج عام ہو چکے ہیں۔

    چائنیز ہاسپٹلز ایسوسی ایشن کی ایک رپورٹ کے مطابق، 2024 تک، 57 شہروں میں 850 طبی اداروں نے بین الاقوامی خدمات فراہم کیں۔ جہ جیانگ یونیورسٹی میڈیکل سکول فورتھ ہاسپٹل کے پارٹی سیکریٹری وانگ کھائی نے طبی مارکیٹ میں عالمی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ ترقی یافتہ ممالک کے عوامی صحت کے نظام دباؤ میں ہیں، جس کی وجہ سے انتظار کے اوقات طویل اورعلاج کی لاگت بہت زیادہ ہے۔ ان کی رائے میں اس صورتِ حال میں چین ایک کم خرچ متبادل ہے۔

    ویڈیوز

    زبان