
16 اپریل کو بیجنگ میں شروع ہونے والی ہیومینائیڈ روبوٹ ہاف میراتھن 2026کے لیے منعقدہ آزمائشی دوڑ میں شریک انسان نما روبوٹ یی جوانگ ۔ (تصویر: سی ایم جی)
19 مارچ (پیپلز ڈیلی آن لائن)بیجنگ میں 16اپریل کو شروع ہونے والی ہیومینائیڈ روبوٹ ہاف میراتھن 2026کے لیے پہلی آزمائشی دوڑ اتوار کی صبح کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی ۔کاروباری اداروں اور جامعات کے گروپس پر مشتمل 20 سے زائڈ ٹیمز نے اس جانچ میں حصہ لیا۔
نئی خود مختار نیویگیشن کا مقابلہ

آزمائشی جانچ میں شریک ، انسان نما روبوٹ ۔ (تصویر: سی ایم جی)
ایونٹ منتظمین کے مطابق، اس سال دوڑ کے مقابلے کا راستہ جدید ڈیزائن پر مشتمل تبدیلیوں کے ساتھ مکمل طور پر اپ گریڈ کیا گیا ہے ۔اس سال زیادہ ٹیموں کی شرکت ، خاص طور پر خود مختار نیویگیشن ٹیمز کے اضافے کے ساتھ، راستے اور جانچ کے لیے تکنیکی ضروریات میں اضافہ ہوا ہے۔

آزمائشی جانچ میں شریک ، انسان نما روبوٹ ۔ (تصویر: سی ایم جی)
پچھلے سال، تمام روبوٹ ٹیمز کے روبوٹ یا تو ساتھ ساتھ چلتے تکنیکی ماہرین کے ذریعے یا سامنے سے رہنمائی دیتے ہوئے ، دستی طور پر کنٹرول کیے گئے تھے ۔ اس سال متعارف کردہ نئی ،خود مختار نیویگیشن ٹیمز مکمل طور پر روبوٹ پر انحصار کریں گی۔ یہ روبوٹ الیکٹرانک نقشوں کا استعمال کرتے ہوئے رئیل ٹائم میں فیصلے کریں گے اور خود مختاری سے نیویگیٹ کریں گے۔
زیادہ مشکل، مزید منظرنامے

آزمائشی جانچ میں شریک ، انسان نما روبوٹ ۔ (تصویر: سی ایم جی)
اس سال دوڑ کے راستے میں اربن ریمپ، بل کھاتی سڑکیں اور باغات میں سرسبز ماحولیاتی راستوں جیسے چیلنجنگ حصے شامل ہیں۔ ان پیچیدہ حالات کے باعث ،روبوٹ کی زمین سے موافقت اور موشن کنٹرول کنٹرول الگوردھمز کے لیے زیادہ تقاضے سامنے آتے ہیں۔
بنیادی طور پر اس آزمائشی مشق کا مقصد، تکنیکی ہم آہنگی کی تصدیق کرنا اور اس کے ذریعے حقیقی شہری ماحول میں روبوٹ کی خود مختار حرکات کی صلاحیتوں کا جامع اندازہ لگایا گیا۔ پیچیدہ سڑک اور متعدد منظرناموں کے چیلنجز کے لیے ان روبوٹس کی موافقت کی تصدیق کے لیے ماحولیاتی ادراک، خود کار نیویگیشن، حقیقی وقت میں فیصلہ سازی اور بیٹری کی پائیداری کی جانچ کی گئی۔
اس تجربے نے ایونٹ کے انتظام، حفاظت اور ٹریفک کنٹرول کے مابین ہم آہنگی کی بھی جانچ کی، جو دوڑ کے قواعد اور حفاظتی منصوبوں کو بہتر بنانے میں مدد دے گی اور اہم عملی تجربہ فراہم کرتے ہوئے باضابطہ میراتھن کے بلارکاوٹ انعقاد کو یقینی بنائے گی۔



