
چین کے جنوبی صوبے ہائ نان کے شہر سانیا میں واقع سانیا انٹرنیشنل ڈیوٹی فری سٹی کا فضائی منظر دکھایا گیا ہے۔(تصویر: پیپلز ڈیلی آن لائن)
ایک کھلا چین دنیا کے لیے ایک موقع ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کی مدت کے دوران، چین اعلیٰ سطح کی کھلی معیشت کے لیے نیا نظام تشکیل دے گا، ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دے گا، اور اعلیٰ معیار کی صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے مصنوعی ذہانت کو بروئے کار لائے گا۔ یہ صرف ترقی کے لیے ایک خاکہ نہیں بلکہ غیر ملکی کاروباری اداروں کے لیے مواقعوں کا ایک واضح نقشہ ہے۔
چین میں ڈن اینڈ براڈ اسٹریٹ کے صدر وو گوانگ یو نے پیپلز ڈیلی آن لائن کو بتایا، "ایک ڈیٹا پر مبنی غیر ملکی ادارے کے طور پر، ڈن اینڈ براڈ اسٹریٹ چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے دوران اعلیٰ سطح کی کھلی پالیسیوں کے تسلسل، ڈیجیٹل معیشت کی مضبوط ترقی، اور سائنسی اور تکنیکی جدت میں چین کی عالمی قیادت کو قریب سے دیکھتا ہے اور اس کا منتظر ہے۔"
وو گوانگ کے مطابق دسمبر 2025 میں جنوبی چین کے صوبے ہائی نان میں واقع ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ میں جزیرے بھر میں محیط خصوصی کسٹم آپریشنز کے آغاز کے بعد سے مزید چینی کمپنیاں ڈن اینڈ براڈ اسٹریٹ کے ڈی-یو-این-ایس شناختی نمبروں کا استعمال کرتے ہوئے عالمی تجارتی نیٹ ورک میں شامل ہو رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہائی نان فری ٹریڈ پورٹ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ان کےمتعارف کردہ عالمی کاروباری معلوماتی پلیٹ فارم "Global CHA " حوصلہ افزا نتائج حاصل کر چکا ہے، اور اس کے صارفین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ڈن اینڈ براڈ اسٹریٹ کی یہ کہانی اس بات کی ایک جھلک پیش کرتی ہے کہ کس طرح ملٹی نیشنل کمپنیاں چین میں نئی ترقی کے مواقع تلاش کر رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں، چین نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو بتدریج آسان بنایا ہے، بین الاقوامی تجارت اور اعلیٰ معیاری اقتصادی قوائد سے ہم آہنگی پیدا کی ہے، اور ادارہ جاتی کھلے پن کو وسعت دی ہے۔
ہینکل گریٹر چائنا کی صدر انا آن نے پیپلز ڈیلی آن لائن کو بتایا کہ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے آغاز پر، چین نے واضح کیا کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی فریم ورک میں اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے نئی مسابقتی برتریاں پیدا کرنے پر پرعزم ہے، جو ایک زیادہ شفاف، منصفانہ اور قابلِ پیشگوئی کاروباری ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہینکل نے مسلسل سات سالوں سے چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو (CIIE) میں شرکت کی ہے، اور خود چین کی مارکیٹ بتدریج کھلتے دیکھی ہے۔
ڈی ایچ ایل ایکسپریس کے چین میں سی ای او وو ڈونگ منگ نے کہا کہ انہوں نے کسٹمز سہولت کاری اور بنیادی ڈھانچے کے باہمی رابطے میں چین کی ٹھوس پیش رفت دیکھی ہے، جس نے سرحد پار لاجسٹکس کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر کیا ہے اور چینی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھانے کے حوالے سے ان کے اعتماد کو تقویت ملی ہے۔
وو کے مطابق، بیلٹ اینڈ روڈ تعاون اور علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (RCEP) سے تقویت پانے والی تجارتی ترقی سے نہ صرف نئے مارکیٹ مواقع کھل رہے ہیں بلکہ یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور دیگر علاقوں کے درمیان رابطے بڑھا کر مضبوط لاجسٹکس طلب کو بھی فروغ مل رہا ہے۔
کھلا پن چینی جدیدیت کی ایک نمایاں خصوصیت ہے جو متعدد ٹھوس اقدامات میں جھلکتی ہے: 2025 میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو مستحکم کرنے کا ایکشن پلان، ہائی نان ایف ٹی پی میں جزیرے پر محیط خصوصی کسٹم آپریشنز کا آغاز، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے حوصلہ افزا صنعتوں کی فہرست (2025 ورژن)۔
یہ سال 2026کے لئے بھی اہم اقتصادی ترجی کے طور پر سامنے آیا ہے، جس میں متعدد شعبوں میں کھلے پن کو برقرار رکھنے اور باہمی فائدے کے تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کا خاکہ چین کے اعلیٰ سطح کے کھلے پن کے عزم کو مزید اجاگر کرتا ہے، اور دنیا کو اس کی ترقی کی رفتار کے بارے میں ایک واضح، مستحکم اور طویل المدتی پیغام بھیجتا ہے۔
ووکس ویگن گروپ چائنا کے ایگزیکٹیو نائب صدر لیو یون فینگ نے کہا کہ چین میں کاروبار کے لیے کھلاپن ہمیشہ سے بنیادی ستون رہا ہے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ حالیہ برسوں میں، چین نے غیر ملکی سرمایہ کاری کی پابندیوں میں مسلسل نرمی کی ہے اور نئی توانائی اور ذہین منسلک گاڑیوں کے شعبوں میں دانشورانہ املاک کے تحفظ کو مضبوط کیا ہے۔ چین کا کھلا پن اعلیٰ سطحوں کی طرف بڑھ رہا ہے، جس سے غیر ملکی کمپنیوں کے لیے مینوفیکچرنگ اور صنعتی جدت میں گہرا کردار ادا کرنے کے لیے وسیع مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
کورننگ انکارپوریٹڈ کی نائب صدر اور کورننگ گریٹر چائنا کی صدر و جنرل منیجر لن چھون مئے نے پیپلز ڈیلی آن لائن کو بتایا کہ چین کے کھلے پن کے اقدامات تعاون کے لیے ایک مضبوط ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرتے ہیں، صنعتی سلسلے میں ہم آہنگی کو مضبوط کرتے ہیں، اور چینی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں۔



