
1 اپریل (پیپلز ڈیلی آن لائن)منگل کو بیجنگ میں چین اور پاکستان نے چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور پاکستانی نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے پانچ نکاتی اقدام پیش کیا۔
سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن وانگ ای اور اسحاق ڈار نے تبادلہ خیال کے دوران خلیجی خطے اور مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال کا جائزہ لیا۔
دونوں فریقوں نے درج ذیل نکات پیش کیے:
۱۔ فوری طور پر دشمنیوں کا خاتمہ۔ چین اور پاکستان فوری طور پر دشمنیوں کے خاتمے اور تنازعے کو پھیلنے سے روکنے کے لیے بھرپور کوششوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جنگ سے متاثرہ تمام علاقوں میں انسانی امداد کی اجازت دی جائے۔
۲۔ جلد از جلد امن مذاکرات کا آغاز۔ ایران اور خلیجی ممالک کی خود مختاری، علاقائی سالمیت، قومی آزادی اور سلامتی کا تحفظ کیا جائے۔ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کا واحد قابلِ عمل راستہ ہیں۔ چین اور پاکستان متعلقہ فریقین کی جانب سے مذاکرات شروع کرنے کی حمایت کرتے ہیں، جس میں تمام فریقین اختلافات کے پرامن حل کے لیے عہد کریں اور امن مذاکرات کے دوران طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے اجتناب کریں۔
۳۔ غیر فوجی اہداف کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ۔ فوجی تنازعے میں شہریوں کے تحفظ کے اصول پر عمل کیا جائے۔ چین اور پاکستان تنازعے میں ملوث فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر حملے فوری طور پر بند کریں، اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کریں۔ نیز توانائی، ڈی سیلینیشن پلانٹس اور بجلی کی سہولیات سمیت جوہری تنصیبات پر حملے روکنے کی اپیل کی گئی ہے۔
۴۔ بحری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ۔ آبنائے ہرمز اور اس سے ملحقہ پانی عالمی سطح پر مال اور توانائی کی ترسیل کا اہم راستہ ہیں۔ چین اور پاکستان فریقین سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں اور عملے کے ارکان کی حفاظت کو یقینی بنائیں، شہری اور تجارتی جہازوں کی جلد اور محفوظ روانگی کی اجازت دیں، اور معمول کی آمد و رفت کو جلد بحال کریں۔
۵۔ اقوام متحدہ کے منشور کی اولین حیثیت کو یقینی بنایا جائے ۔ چین اور پاکستان حقیقی کثیرالجہتی کو فروغ دینے، اقوام متحدہ کی اولین حیثیت کو مشترکہ طور پر مضبوط بنانے، اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون پر مبنی ایک جامع امن فریم ورک کے قیام اور دیرپا امن کے حصول کے لیے معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔



