• صفحہ اول>>دنیا

    آبنائے ہرمز کی بندش سے توانائی کی فراہمی کا عالمی بحران ، متعدد ممالک کے ہنگامی اقدامات

    (CRI)2026-04-02

    مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور توانائی کی نقل و حمل کے اہم راستے آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے بعد بین الاقوامی سطح پر توانائی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے اور کئی ممالک کی حکومتوں نے یکم اپریل کو ہنگامی اقدامات کا اعلان کیا ہے ۔

    کروشیا کے وزیرِ معیشت آنٹے شوشنیار نے یکم اپریل کو کہا کہ حکومت نے تیل اور تیل کی مصنوعات کے لازمی ذخائر سے 35,000 ٹن ڈیزل کو مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اسی دن ملائشیا کے وزیرِ اعظم انور بن ابراہیم نے اعلان کیا کہ ملائشیا کی کابینہ کی میٹنگ نے فیصلہ کیا ہے کہ 15 اپریل سے، ملائیشیا کے تمام سرکاری محکمے، ادارے اور متعلقہ سرکاری کمپنیاں مکمل طور پر "ورک فرام ہوم " کی پالیسی نافذ کریں گی۔

    آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے یکم اپریل کو قومی ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آسٹریلیا کی معیشت پر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے سے پیدا ہونے والے اثرات طویل عرصے تک جاری رہیں گے، انہوں نے عوام سے ایندھن بچانے، زیادہ سے زیادہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے اور ایندھن کی زیادہ خریداری سے گریز کرنے کی درخواست کی۔

    ویڈیوز

    زبان