• صفحہ اول>>چین پاکستان

    چین پاکستان "پانچ نکاتی اقدام"- امن کے لیے معقولیت کی راہ

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-04-03

    31 مارچ 2026۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اورچینی وزیر خارجہ وانگ ای،  پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے ساتھ مذاکرات کر تے ہوئے۔ (تصویر: شِنہوا)

    31 مارچ 2026۔ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اورچینی وزیر خارجہ وانگ ای، پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے ساتھ مذاکرات کر تے ہوئے۔ (تصویر: شِنہوا)

    31 مارچ کو چین اور پاکستان کی جانب سے خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ کے علاقے میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے پیش کردہ پانچ نکاتی اقدام نے بین الاقوامی توجہ مبذول کر لی ہے۔ یہ اقدام بروقت پیش کیا گیا ہے جب تنازع 'جنگ یا جنگ بندی' کے اہم موڑ پر ہے۔ آبنائے ہرمز کے بحران اور عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے دوران، یہ اقدام بروقت، عملی اور انتہائی تعمیری ہے۔ یہ ایک بڑے ملک کی حیثیت سے چین کا احساسِ ذمہ داری کو مکمل طور پر ظاہر کرتا ہے،چین اور پاکستان کی ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کی منفرد اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور دشمنی کے خاتمے کی کوششوں میں اہم رفتار پیدا کرتا ہے۔

    اس اقدام کا خلاصہ تین الفاظ میں کیا جا سکتا ہے: جنگ بندی، مذاکرات، اور یقین دہانی، یعنی فوری طور پر دشمنیوں کا خاتمہ؛ جلد از جلد امن مذاکرات کا آغاز؛ غیر فوجی اہداف کی حفاظت کو یقینی بنانا جائے ؛ بحری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا جاۓ ؛ اقوام متحدہ کے منشور کی اولین حیثیت کو یقینی بنانا جاۓ ۔

    یہ اقدام فوری انسانی اور سلامتی کے خدشات کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ ایک طویل المدتی سیاسی حل کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ ہر نقطہ موجودہ بحران کے اہم مسائل اور رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، علامات اور بنیادی وجوہات دونوں سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور متوازن حل پیش کرتا ہے۔ یہ نہ صرف چین اور پاکستان کا مشترکہ مؤقف ہے بلکہ بین الاقوامی برادری، خاص طور پر گلوبل ساوتھ کے ممالک کی مشترکہ خواہشات کی بھی نمائندگی کرتا ہے جو مشرقِ وسطیٰ کی توانائی اور بحری راستوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

    فی الحال، امریکہ اور ایران دونوں نے مذاکرات کی آمادگی ظاہر کی ہے، جس کی وجہ سے یہ اقدام خاص طور پر بروقت ہے۔ اس اقدام کو خاص توجہ ملنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے محض ارادے کا بیان نہیں سمجھا گیا، بلکہ اس میں امریکہ ایران مذاکرات کو آسان بنانے کے لیے مزید رفتار فراہم کرنے کی حقیقی صلاحیت موجود ہے۔ یہ پاکستان کے ایک کلیدی ثالث کے طور پر منفرد کردار اور ساتھ ہی چین کے اثر و رسوخ کی وجہ سے بھی ہے۔

    پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چین کے دورے سے قبل کہا کہ چین نے اسلام آباد کے ایران اور امریکہ کے نمائندوں کی میزبانی کرنےکے اقدام کو مکمل حمایت فراہم کی ہے، جو ایک ماہ پرانی کشیدگی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ پاکستان میں ایران کے سفیر نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے 'خیر سگالی پر مبنی فعال سفارتی اقدامات' کی تعریف کی، جس میں پانچ نکاتی اقدام کے تعمیری کردار کو اجاگر کیا گیا۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے امریکہ-اسرائیل-ایران تنازعے پر کسی دوسرے ملک کے ساتھ مشترکہ اقدام جاری کیا ہے۔ چین اور پاکستان کی مشترکہ کوشش اس بات کا اشارہ ہے کہ امن مذاکرات کا فروغ علاقائی ممالک اور بڑی طاقتوں کی مشترکہ قوت میں تبدیل ہو گیا ہے، اور تمام امن پسند ممالک اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔ امن کے لیے ایسا کھلا اور جامع فریم ورک بین الاقوامی برادری کی منصفانہ آوازوں کو متحد کرنے میں مدد کرتا ہے، جس سے سفارتی کوششیں وسیع تر اور مزید پراثر ہوتی ہیں۔

    بلاشبہ، امن مذاکرات کا آغاز آسان نہیں ہے، لیکن فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے سے ہی مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔ چین اور پاکستان کی جانب سے پانچ نکاتی اقدام کی اہمیت یہی ہے کہ یہ عقلی حفاظتی رکاوٹوں کا تعین کرتا ہے اور امن کا راستہ دکھاتا ہے۔ مستقبل کے مذاکرات اور تزویراتی تعاملات میں جو بھی جنگ بندی کی بنیادی لکیر کی خلاف ورزی، شہریوں کو نشانہ بنانے، یا بحری راستوں کو بند کرنے کی کوشش کرے گا، اسے اس اقدام میں شامل بین الاقوامی اتفاق رائے، اخلاقی توقعات اور اصولوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جتنے زیادہ ممالک اس اقدام میں شرکت کریں گے، امن کو نقصان پہنچانے والوں پر دباؤ اتنا ہی زیادہ بڑھےگا۔

    یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری میں کچھ آوازیں قیاس آرائی کر رہی ہیں کہ آیا چین 'تنازع میں مداخلت' یا 'سلامتی کی ضمانتیں فراہم کرنے' کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایسے دعوے چین کے کردار اور اصولوں کی صحیح سمجھ نہیں رکھتے۔ چین تنازع کا فریق نہیں ہے اور یہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر مستقل قائم رہتے ہوئے مشترکہ، جامع، تعاون پر مبنی اور پائیدار سلامتی کے نقطہءنظر کو برقرار رکھتا ہے۔ 'مداخلت' یا 'سلامتی کی ضمانتوں' کے بیان، حقیقت میں، گروہی تصادم کی سوچ کی پیداوار ہیں۔ یہ دیرپا امن کے فروغ کے بجائے کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ دشمنیوں کے خاتمے کے لیے بالآخر تنازع کے فریقین، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کو ضرورت ہے کہ وہ جلد از جلد فوجی کارروائیاں بند کریں اور بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی تعمیل کے صحیح راستے پر لوٹیں۔ اس پانچ نکاتی اقدام کا مقصد تنازع میں 'مداخلت' سے نہیں ہے؛ بلکہ یہ علاقائی ممالک اور ان کے عوام کی توقعات کا جواب دیتا ہے، امن کو آگے بڑھانے کے لیے ایک تعمیری منصوبہ پیش کرتا ہے، اور تمام فریقین کے درمیان مکالمے اور مواصلات کے لیے ایک پل کا کام کرتا ہے۔

    پانچ نکاتی اقدام ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ جنگل کے قانون اور فوجی مہم جوئی سے ہٹ کر، اصولوں اور مکالمے پر مبنی ایک عقلی انتخاب حیثیت رکھتا ہے اور امن کا ایک قابل عمل راستہ بھی موجود ہے۔ مشرق وسطیٰ میں چین کے حالیہ اقدامات، جن میں سعودی-ایران مفاہمت کی حمایت سے لے کر بین الفلسطینی مفاہمت کا فروغ شامل ہیں، اور اب اس مشترکہ اقدام سے چین نے عالمی سلامتی اقدام کو نافذ کرنے کے لیے ایک عملی راستہ واضح طور پر بیان کیا ہے۔ فوجی دھمکیاں یا گروہی تصادم پر انحصار کرنے کے بجائے، طریقہ یہ ہے کہ صبر اور غیر جانبداری کے ساتھ متحارب فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لایا جائے، اور ان کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ بیٹھ کر بات کریں۔ کشیدگی کو کم کرنے، جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے، اور مکالمے کے لیے مفاہمت کی جتنی زیادہ مخلصانہ کوششیں ہوں گی، اتنی ہی جلد تنازعے کے آتش فشاں ٹھنڈے ہو سکتے ہیں۔

    ویڈیوز

    زبان