
مشرق وسطیٰ میں جنگ کی کشیدہ صورتحال کے دوران پاکستان انتہائی متحرک رہا ہے۔ حال ہی میں، پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے خلیجی خطے اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر چینی حکام سے تبادلہ خیال کرنے کے لیے چین کا دورہ کیا۔ چین اور پاکستان نے مشترکہ طور پر پانچ نکاتی اقدام پیش کیا ہے:
فوری طورپر دشمنیوں کا خاتمہ ؛ جلد از جلد امن مذاکرات کا آغاز ؛ غیر فوجی اہداف کی حفاظت کو یقینی بنانا جاۓ؛ بحری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا جاۓ ؛ اقوام متحدہ کے منشور کی اولین حیثیت کو یقینی بنانا جاۓ
پاکستانی عوام اور مبصرین کا عام طور پر ماننا ہے کہ یہ پانچ نکاتی اقدام نہ صرف موجودہ بحران کے حل کے لیے ایک راستہ متعین کرتا ہے بلکہ یہ پاکستان کی ثالثی کوششوں کے لیے چین کی حمایت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ پاکستانی میڈیا "دی نیوز" کے مطابق، پاکستان اور چین کا مشترکہ طور پر یہ اقدام پیش کرنا علاقائی تنازعات کے حل میں گفت و شنید اور سفارتی ذرائع کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستانی سوشل میڈیا پر صارفین "علاقائی امن کے فروغ کے لیے پاک چین کے دوبارہ مل کر کام کرنے" کے موضوع پر جوش و خروش سے بحث کر رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے کے دوران، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں رپورٹس اتنی الجھی ہوئی تھیں جیسے "شروڈنگر کے مذاکرات" (جن میں کچھ بھی حتمی نہیں ہوتا) ہوں۔ تاہم، ایک بات پر دونوں فریق متفق ہیں: انہوں نے ایک تیسرے فریق، یعنی ثالث پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا ہے اور امن مذاکرات کے لیے اپنی اپنی شرائط بتائی ہیں۔
یقیناً، پاکستان محض ایک "پیغام رساں" کا کردار ادا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ 29 مارچ کو، پاکستان نے ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کو دارالحکومت اسلام آباد میں مدعو کر کے ایک اجلاس منعقد کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کو کم کرنے اور علاقائی استحکام کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید برآں، پاکستان کے وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے مذاکرات میں "ثالث" کے طور پر اتنا سرگرم کیوں ہے؟ اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ امریکہ اور ایران پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات پر کیوں رضامند ہیں؟
یہاں جغرافیائی سیاسی اور تاریخی دونوں عوامل کارفرما ہیں۔
جنوبی ایشیاء میں واقع، ایران سے سرحدجوڑ پاکستان تاریخی طور پر اپنے پڑوسی کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھتا آیا ہے۔ دوسری جانب، اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں اگرچہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اتار چڑھاؤ آیا ہے، یہ اب بھی خاطر خواہ ہیں مگر دنیا اسے "امریکہ کا آلہ کار" نہیں سمجھتی۔ بعض امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ مستحکم اور کشیدہ دونوں طرح کے تعلقات رہے ہیں، اور یہ توازن دراصل اس کی ساکھ کو بڑھاتا ہے۔ برطانوی میڈیا "فنانشل ٹائمز" کے تجزیے کے مطابق، عموماً امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی عموماً عمان اور قطر کے ذریعے ہوتی ہے، لیکن امریکہ اور اسرائیل کے فوجی حملوں کے بعد سے ان سفارتی کوششوں میں کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوئی۔ رپورٹ میں تین باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چونکہ پاکستان میں کوئی امریکی فوجی اڈہ نہیں ہے، اس لیے اسے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کا نشانہ نہیں بننا پڑا، جو اسے ایک "زیادہ غیر جانبدار ثالث" بناتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے بھی، پاکستان کے پاس صلح کرانے اور ثالثی کا خاصا تجربہ ہے۔ امریکہ اور ایران کے سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے بعد سے، واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے میں قائم ایرانی مفادات کا شعبہ رابطے کا ایک باقاعدہ اور ادارہ جاتی ذریعہ کے طور پر کام کرتا رہا ہے۔ 2019 میں، سعودی تیل کی تنصیبات پر حملوں اور ایران، امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کے بگڑنے کے بعد، اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ، سعودی عرب اور ایران کے رہنماؤں سے بات چیت کی بنیاد پر ثالثی کی کوششیں کی تھیں۔
تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ مسلح تنازعات کے حل صرف مذاکراتی میز پر ہی تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ یہ کوئی آسان عمل نہیں ہے اور اس کے لیے مسلسل اور بھرپور سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔ عالمی برادری بھی چاہتی ہے کہ جنگ جلد از جلد ختم ہو اور وہ اس کے لیے کوششیں کرنے کو بھی تیار ہے۔ تاہم، صورتحال کی تبدیلی کا انحصار براہ راست جنگ میں شامل فریقین پر ہے: جب تک وہ یہ اسٹریٹجک حقیقت تسلیم نہیں کرتے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور مذاکرات کی بحالی ہی واحد راستہ ہے، تب تک مذاکرات کی میز تک پہنچنے کے حالات پیدا نہیں ہو سکتے۔



