8 اپریل کو ،ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، سپریم لیڈر کی ہدایت اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری کے بعد، پاکستان کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز کو قبول کر لیا گیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ وہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے اعلان کرتے ہیں کہ اگر امریکا اور اسرائیل ،ایران پر حملے بند کر دیں تو ایرانی مسلح افواج بھی جوابی کارروائیاں روک دیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی کی شرط پر آئندہ دو ہفتوں کے دوران تکنیکی حدود کے دائرے میں رہتے ہوئے جہاز، آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزر سکیں گے۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقامی وقت کے مطابق 7 اپریل کو سوشل میڈیا پر جاری کردہ بیان میں کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے گفتگو کے بعد، پاکستان کی درخواست پر امریکا نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ طور پر کھولنے کی شرط پر ایران کے خلاف فوجی کارروائی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔جنگ بندی پر اتفاق کے بعد امریکا دو ہفتوں کے لیے ،ایران کے خلاف بمباری اور حملے روک دے گا۔ انہوں نے اس انتظام کو "دو طرفہ جنگ بندی" قرار دیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، اسرائیل نے بھی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان پررضامندی ظاہر کی ہے۔



