8 اپریل کو، پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ متنازع علاقے کے اندر متعدد مقامات پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ہوئیں، جس سے امن عمل کو نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ دو ہفتوں کی طے شدہ جنگ بندی پر عمل درآمد کریں اور تنازع کے پرامن حل کو فروغ دیں۔
8 تاریخ کو منعقدہ پریس کانفرنس میں وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا نیا دور شروع کرنے کے لیے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نائب صدرجے ڈی وینس کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لیویٹ نے کہا کہ زیرِ گردش نام نہاد "10 نکاتی جنگ بندی منصوبہ" امریکاکے لیے قابل قبول مذاکراتی بنیاد نہیں ہے۔ ایران نے ایک "ترمیم شدہ اور مکمل طور پر مختلف تجویز" پیش کی تھی، جسے "مذاکرات کی بنیاد" بنایا جا سکتا ہے۔
اسی دن ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر قالیباف نے کہا کہ ایران کی جنگ بندی کی دس شرائط میں سے تین اہم شقوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران - امریکا مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی مذاکرات کے اس بنیادی فریم ورک کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے، اس صورت حال میں فریقین کے درمیان نہ تو جنگ بندی کا نہ ہی مذاکرات کا کوئی معنی ہوگا۔ ایک باخبر ایرانی شخصیت کے مطابق اگر اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور لبنان پر حملے جاری رکھے تو ایران ،جنگ بندی معاہدے سے دستبردار ہونے پر غور کرے گا۔
اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ نے لبنان پر اسرائیل کے حملوں کو ایک الگ تنازع قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ جنگ بندی معاہدہ ،لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیوں کا احاطہ نہیں کرتا۔ لبنان پر اسرائیلی حملے کے کچھ ہی دیر بعد ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے آئل ٹینکرز کا گزرنا معطل کر دیا۔ میری ٹائم ٹریفک ٹریکنگ سسٹم کے مطابق، آبنائے ہرمز کے دہانے کی جانب بڑھنے والا ایک آئل ٹینکر ، عمان میں جزیرہ نما مسندم کے ساحل کے قریب اچانک اپنا راستہ بدل کر واپس خلیج فارس کے اندرونی حصے کی طرف پلٹ گیا۔



