• صفحہ اول>>چین پاکستان

    چین میں اپنے " گرین کیریئر " کے حصول میں مصروف ،پاکستانی محقق

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-04-09

    ۱۲ مارچ ۲۰۲۶۔ پاکستانی محقق سلمان ناصر ( بائیں) تھیانجن یونیورسٹی میں تجربات کر رہے ہیں۔(شنہوا - لیو رون جی)

    ۱۲ مارچ ۲۰۲۶۔ پاکستانی محقق سلمان ناصر ( بائیں) تھیانجن یونیورسٹی میں تجربات کر رہے ہیں۔(شنہوا - لیو رون جی)

    9 اپریل (پیپلز ڈیلی آن لائن)ایک چینی ساختہ پلگ ان ہائبرڈ الیکٹرک گاڑی میں اپنے دوسری جماعت میں پڑھنے والے بیٹے کو سکول چھوڑنے جانا پاکستانی محقق محمد سلمان ناصر کا روزانہ کا معمول ہے۔37 سالہ سلمان ناصر ، تھیانجن یونیورسٹی کی سٹیٹ لیبارٹری آف انجنز میں ایک ایسوسی ایٹ ریسرچر کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ وہ جدید کیٹالٹک ٹیکنالوجیز، کلین ہائیڈروجن پروڈکشن، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے استعمال، پلاسٹک ری سائیکلنگ اور قابل تجدید توانائی کے نظام کو مرکزِ توجہ بناتے ہوئے ،چین کی پائیداری کی کوششوں کے ساتھ ، "گرین کیریئر" بنا رہے ہیں۔

    سلمان کا کہنا ہے کہ چین میں ہر جگہ نئی توانائی کی گاڑیاں موجود ہیں؛ان کا کاربن اخراج کم ہے ، یہ ماحول دوست ہیں اور ان کے ذریعے سفر بے حد آسان ہے۔سلمان 2017 میں چین آئے تھے ، انہوں نے شی آن جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی اور شنگھائی جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کیا اور پھر تھیانجن یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ ریسرچر کے طور پر کام کرنے لگے۔ اس تمام عرصے میں انہوں نے شمسی اور پون توانائی، برقی گاڑیوں، ہائیڈروجن ٹیکنالوجیز، سبز عمارات، کم کاربن ٹرانسپورٹ اور سمارٹ انرجی مینجمنٹ کے عروج سمیت چین کے سبز طرز عمل اور طریقہ کار کی طرف منتقلی کا قریب سے مشاہدہ کیا۔

    چین کے سفر کے دوران،سلمان نے صحراوں اور پہاڑوں میں سولر فارم اور ساحلی و دیہی علاقوں میں پون چکیاں دیکھیں۔ انہوں نے پائیدار ترقی کو اقتصادی اور سماجی روئیوں میں شامل کرنے کے بے مثال پیمانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو چین سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہناتھا کہ چین کے کم کاربن طرز زندگی، نئی توانائی کے شعبوں اور پائیدار ٹیکنالوجیز میں ترقی کے عزم نے انہیں یہاں اپنا کیریئر بنانے پر مائل کیا۔ سلمان کی رائے میں ، چین کی قومی ترقی کو سائنسی تحقیق کے ساتھ ہم آہنگ کرنے ،خاص طور پر اس کے کاربن پیک اور کاربن نیوٹریلٹی کے اہداف نے محققین کو ایک واضح اور قابل اعتماد بنیاد فراہم کی۔

    سلمان ناصر چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے حوالے سے کہتے ہیں کہ اس کا ہدف ایک صاف، کم کاربن توانائی کے نظام کی تشکیل اور سرکلر معیشت کو فروغ دینا ہے اور یہ اقدامات چین کی سبز تبدیلی کو فروغ دیں گے اور عالمی موسمیاتی عمل کے لیے قیمتی بصیرت فراہم کریں گے۔ناصر کی تحقیق چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ ہے، جو کہ قابل توسیع شمسی کیٹالٹک ٹیکنالوجیز ،گرین ہائیڈروجن اور کاربن مائنس سینتھسس کی کارکردگی کو بہتر بنانے پر مرکوز ہے۔ تھیانجن یونیورسٹی میں اپنے کام کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ اس وسیع تر اقدام کا حصہ ہے جو پائیدار توانائی کے حل کی حمایت کرتا ہے اور یہ چین اور عالمی سبز منتقلی دونوں کے لیے ہے۔

    سلمان ناصر کا ماننا ہے کہ چین ، قابلِ تجدید توانائی اور تحقیق میں سرمایہ کاری کی بدولت، گلوبل کاربن نیوٹرلٹی کے حصول میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ انہوں نے سبز ہائیڈروجن اور کاربن کیپچر جیسی ٹیکنالوجیز کو تیز کرنے کے لیے چین کی پالیسی اور جدت کے انضمام کی طاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کاربن نیوٹرلٹی ایک عالمی چیلنج ہے جس کے لیے اجتماعی جدت کا متقاضی ہے۔

    سلمان ناصر کے لیے چین میں تحقیق کرنے کا مطلب ،عالمی توانائی کی منتقلی اور سائنس کے ذریعے انسانیت کی ترقی میں حصہ ڈالنا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ چین کی سبز ترقی کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی اور صنعتی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔

    ۱۲ مارچ ۲۰۲۶ تھیانجن ۔ پاکستانی محقق سلمان ناصر اپنی برقی گاڑی کو چارج کر رہے ہیں۔(شنہوا - لیو رون جی)

    ۱۲ مارچ ۲۰۲۶ تھیانجن ۔ پاکستانی محقق سلمان ناصر اپنی برقی گاڑی کو چارج کر رہے ہیں۔(شنہوا - لیو رون جی)

    ویڈیوز

    زبان