• صفحہ اول>>دنیا

    ایران کے سپریم لیڈر کی جانب سے تین نکات، ٹرمپ کا اسرائیل سے لبنان پرحملوں میں کمی کا مطالبہ

    (CRI)2026-04-10

    مقامی وقت کے مطابق 9 اپریل کو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ لبنان میں فائر بندی پاکستان کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی مذاکرات کے مفاہمتی منصوبے کا ایک اہم حصہ ہے۔ جامع جنگ بندی کے مذاکرات شروع ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا امریکہ مشرق وسطیٰ کے تمام محاذوں بالخصوص لبنان میں فائر بندی کے اپنے وعدے کو پورا کرتا ہے یا نہیں۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل سے لبنان میں اپنی کارروائیوں کو "مزید محتاط" بنانے کے مطالبے کے باوجود، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے تک لڑائی ختم نہیں ہوگی۔

    ادھر ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک بیان نشر کیا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اپنے حقوق کا بھرپور دفاع بھی کرے گا۔ بیان میں واضح طور پر تین نکات پیش کیے گئے: اول، ایران جارح قوتوں سے "جنگی ہرجانہ" وصول کرے گا؛ دوم، آبنائے ہرمز پر ایران کی نگرانی کو "ایک نئے مرحلے" تک پہنچایا جائے گا؛اور سوم، ایران اپنے جائز حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا اور خطے کی تمام"مزاحمتی قوتوں" کو ایک متحدہ اکائی کے طور پر دیکھے گا۔ بیان میں خلیجی عرب ریاستوں سے "درست جانب" کھڑے ہونے کی اپیل کی گئی اور کہا گیا کہ ایران ان ممالک کے ساتھ خیر سگالی کا اظہار کرے گا، لیکن صرف اس صورت میں جب وہ خود کو "متکبرانہ تسلط کے خواہاں عناصر" سے دور رکھیں گے۔

    9 اپریل کو امریکی حکام نے تصدیق کی کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلی براہ راست بات چیت اگلے ہفتے واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ میں ہو گی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل لبنان میں اپنی لڑائی اس وقت تک ختم نہیں کرے گا جب تک شمالی علاقے کے رہائشیوں کا تحفظ بحال نہیں ہو جاتا اور حزب اللہ کی افواج کو غیر مسلح نہیں کر لیا جاتا ۔

    ویڈیوز

    زبان