مقامی وقت کے مطابق 12 اپریل کو پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکی وفود نے مذاکرات کے کئی ادوار میں بات چیت کی۔ یہ مذاکرات 24 گھنٹوں سے زیادہ جاری رہے اور 12 تاریخ کی صبح ختم ہوئے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران دونوں کو فائر بندی کے وعدے کی پابندی جاری رکھنا ہوگی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان مستقبل میں امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کو مضبوطی سے آگے بڑھاتا رہے گا ۔
ایک اور اطلاع کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے مقامی وقت کے مطابق 12 تاریخ کو کہا کہ ابتدائی طور پر یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ مذاکرات کے ایک ہی دور میں کوئی معاہدہ طے پا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز اور علاقائی مسائل جیسے کچھ نئے موضوعات شامل کیے گئے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے مذاکرات "چالیس دن کی جنگ کے بعد ، بے اعتمادی اور شبہات کے ماحول میں منعقد ہوئے ہیں ۔ یہ مذاکرات حالیہ برسوں میں سب سے طویل وقت تک چلنے والے مذاکرات تھے جو 24 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران، پاکستان اور دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ رابطے اور مشاورت جاری رکھے گا ۔



