اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات 12 اپریل کو بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے۔
اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بیشتر امور پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم اہم "جوہری مسئلے" پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب مذاکرات میں شریک ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے نائب سربراہ ابوالفضل نباویان نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران امریکہ کے تین "غیر معقول مطالبات" کو مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق امریکی مطالبات میں شامل تھا کہ آبنائے ہرمز میں حاصل ہونے والے فوائد اور انتظامی امور میں ایران کے ساتھ برابر کی شراکت کی جائے، ایران اپنی 60 فیصد افزودہ یورینیم کی تمام مقدار ملک سے باہر منتقل کرے، اور آئندہ 20 برس کے لیے ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔
ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے 12 اپریل کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ امریکی افواج 13 اپریل کو مشرقی امریکی وقت کے مطابق صبح 10 بجے سے ایران کی بندرگاہوں میں آنے اور جانے والی تمام بحری آمد و رفت کو بند کر دیں گی، جس میں خلیجِ عرب اور خلیجِ عمان میں واقع ایران کی تمام بندرگاہیں شامل ہیں۔
مزید برآں ایرانی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ دشمن ممالک کے بحری بیڑوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔



