ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے 18 اپریل کی شام کو ایک اعلان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز پاسداران انقلاب کی بحریہ کی کمان اور کوآرڈینیشن میں متعدد بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔ تاہم، چونکہ امریکہ نے ایرانی بحری جہازوں اور بندرگاہوں پر ناکہ بندی نہ اٹھا کر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، لہذا آبنائے ہرمز کو اسی رات سے بند کر دیا جائے گا، اور یہ پابندی ناکہ بندی کے خاتمے تک برقرار رہے گی۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادے نے اسی روز کہا کہ ایران سفارتی ذرائع سے مسائل کے حل کے لیے پرعزم ہے، لیکن بین الاقوامی قانون کے تحت "استثنیٰ" کے طور پر سلوک کو کبھی بھی قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے امریکہ ایران مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ اگلے مذاکراتی دور کے لیے ابھی تک مخصوص وقت کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔ اسی دن، ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹریٹ نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں تازہ ترین پیش رفت پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں نقل و حمل کی نگرانی اور کنٹرول کے لیے پرعزم ہے جب تک کہ جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتی اور خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو جاتا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں ثالثی کے کردار میں پاکستان کے ایک وفد کے دورۂ ایران کے دوران امریکہ نے نئی تجاویز پیش کیں ، جن پر ایران غور کر رہا ہے، تاہم ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
مقامی وقت کے مطابق 18 اپریل کو، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان "بہت اچھی بات چیت ہو رہی ہے" اور معاملہ "بہت اچھی طرح سے" آگے بڑھ رہا ہے۔ اسی صبح، ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں ایک میٹنگ طلب کی۔ امریکی حکام نے خبردار کیا کہ اگر جلد کوئی پیش رفت نہ ہوسکی تو آنے والے دنوں میں تنازعہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔ ادھر انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے حال ہی میں متنبہ کیا کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے باعث خام تیل کی فراہمی میں کمی برقرار رہی تو یورپ میں مئی کے آخر سے ایندھن کی قلت کے سبب پروازوں کی منسوخی شروع ہو سکتی ہے، جبکہ ایشیا کے بعض علاقوں میں ایسی صورتحال پہلے ہی سامنے آ چکی ہے۔



