مقامی وقت کے مطابق 17 مئی کو متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عبداللہ بن زید النہیان نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل گروسی سے فون پر بات کی۔ گفتگو کے دوران عبداللہ بن زید نے اس دن ہونے والے "دہشت گرد حملے" کی شدید مذمت کی۔ اسی روز ابوظہبی کے علاقے الظفرا میں براکہ ایٹمی پاور پلانٹ کے باہر ایک جنریٹر ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی اس نے مقامی جوہری تابکاری کے معیار کو متاثر کیا۔ عبداللہ بن زید نے کہا کہ شہری تنصیبات اور اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملے بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات کو بین الاقوامی قانون کے مطابق ان دہشت گرد حملوں کا جواب دینے اور قومی سلامتی، علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا پورا حق حاصل ہے۔
اسی دن قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبد الرحمان الثانی نے متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ عبداللہ بن زید سے فون پر بات کی۔ محمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ قطر متحدہ عرب امارات میں براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتا ہے اور اپنی قومی خودمختاری، سلامتی اور اہم تنصیبات کے تحفظ کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے تمام اقدامات کے لیے قطر کی حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ محمد بن عبد الرحمان نے اس دن ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ بھی فون پر بات کی اورعلاقائی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا۔ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران، محمد بن عبد الرحمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جہاز رانی کی آزادی ایک بنیادی اصول ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور یہ کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا اس کی بندش کو آلے کے طور پر استعمال کرکے دباؤ ڈالنے سے بحران مزید بڑھے گا اور خطے کے ممالک کے بنیادی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو خطے اور اس کے عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون اور خوشگوار ہمسائیگی کے اصول کی پاسداری کرنی چاہیے۔



