مقامی وقت کے مطابق 20 مئی کو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عوام کے درمیان یکجہتی کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام ایک "بے مثال تاریخی مزاحمت" میں مصروف عمل ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے فائر بندی کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کو ازسرنو تیار کیا ہے جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران "امریکا پر سخت عدم اعتماد" کے باوجود اپنے قومی مفادات کا پختہ تحفظ کرتے ہوئے مذاکراتی عمل جاری رکھے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 تاریخ کو کہا کہ انہیں ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے اور امریکہ "ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیارحاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان پیدا ہوتا ہے تو وہ ایرانی ردِعمل کے انتظار میں مزید چند روز گزارنے کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جب تک ایران باضابطہ طور پر معاہدے پر دستخط نہیں کرتا، وہ پابندیوں میں کسی قسم کی نرمی نہیں کریں گے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ایرانی معاملے پر ایک ہی موقف رکھتے ہیں اور یہ کہ "نیتن یاہو ایرانی مسئلے کو اپنے مطالبات کے مطابق نمٹائیں گے۔" ادھر بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات رکھتے ہیں اور وہ دوبارہ جنگ شروع کرنے کے خواہاں ہیں۔



