9 جون 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)چینی سائنسدانوں نے سیاہ مٹی کی زوال پذیری کو روکنے اور جدید زرعی ترقی کو فروغ دینے کے جدید طریقوں کے تحقیقاتی نتائج جاری کیے ہیں۔چین کے مختلف صوبوں میں 1.09 ملین مربع کلومیٹر پر پھیلی ہوئی نایاب سیاہ مٹی، جو اپنی زرخیزی کی وجہ سے قابل کاشت زمین کا " جائنٹ پانڈا " کہلاتی ہے ، ملک کی اناج کی کل پیداوار کا تقریباً ایک چوتھائی فراہم کرتی ہے۔ تاہم، زیادہ استعمال اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے اس مٹی کو مختلف درجوں کی زوال پذیری کا چیلنج درپیش ہے۔
2021 میں چائینیز اکیڈمی آف سائنسز (CAS) نے سائنسی و تکنیکی معاونت فراہم کرنے اور جدید زرعی ترقی کو فروغ دینے کے لیے پروگرام، 'سیاہ مٹی کے گودام' شروع کیا ۔ 8 جون کو چائینیز اکیڈمی آف سائنسز نے صوبہ جیانگ سو کے شہر نانجنگ میں اس منصوبے کی تازہ ترین کامیابیوں کو شائع کیا۔ منصوبے کے چیف کمانڈر چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے ادارہ برائے شمال مشرقی جغرافیہ و زرعی ماحولیات کے ڈائریکٹر جیانگ منگ نے بتایا کہ پانچ سال کی مشترکہ تحقیق کے بعد، سات بنیادی نمائشی زون قائم کیے گئے ہیں،جن کا کل رقبہ تقریباً 12,900 ہیکٹر ہے۔ اس منصوبے کے تحت مٹی کے نامیاتی مادے میں 0.25 سے 0.7 فیصد تک اضافہ ہوا، مٹی کے کٹاؤ کی شرح میں 80 فیصد کمی ہوئی اور اناج کی پیداوار میں 5.2 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے سیٹلائٹ، فضائی اور زمینی پلیٹ فارم سے ملٹی سورس ڈیٹا کو یکجا کرنے میں اہم کامیابیاں حاصل کیں، جس سے سیاہ مٹی کی زوال پذیری کی موجودہ صورتِ حال کا منظم نقشہ تیار کیا گیا ۔ یہ نقشہ ڈیجیٹل انتظام اور درست پیداوار کے لیے بنیادی ڈیٹا بیس فراہم کرتا ہے، جو طویل مدتی چیلنجز کو حل کرتا ہے۔ اس کے ذریعے پچھلے چالیس سالوں میں سیاہ مٹی کی زوال پذیری کی مکانی اور وقتی تبدیلیوں کو واضح کیا گیا ، زوال کے طریقہ کار اور زرخیزی کی بہتری کے لیے ضابطہ کار کی وضاحت کی گئی اور مختلف علاقوں کے لیے تحفظ کی اہم ٹیکنالوجیز تیار کی گئیں۔
چائینیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی کے سینئر انجینئر جانگ یو چھینگ کا کہنا ہے کہ بغیر ڈرائیور کے نیو انرجی سمارٹ ٹریکٹرز "حونگ حو" اور معاون آلات کو وسیع پیمانے پر تعینات کیا گیا ہے۔تحقیقاتی ٹیم نے تھرڈ جنریشن " حونگ حو " سمارٹ ایگریکلچر مشینری ٹیکنالوجی کے نظام کی خود مختار ترقی مکمل کی، جس میں 90 فیصد سے زیادہ اہم حصے ملک میں تیار کیے گئے ہیں۔ اب تک، مختلف سمارٹ زرعی مشینوں کی 375 یونٹس تیار کیے گئے ہیں، جن میں مٹی کے ٹیسٹ کرنے والے 140روبوٹ اور مٹی کے ٹیسٹ کرنے والی بغیر ڈرائیور کی 5 گاڑیاں شامل ہیں۔
جانگ یو چھینگ کہتے ہیں کہ تھرڈ جنریشن " حونگ حو " سیریز ، شمال مشرقی چین کی سیاہ مٹی کی عملی خصوصیات کے مطابق تیار کی گئی ہے جو محفوظ زراعت اور بڑے پیمانے پر معیاری کارروائیوں کے لیے موزوں ہے۔ بغیر ڈرائیور کے نظام سے لیس یہ سیریز، کھیتوں کی جوتائی، بوائی، دیکھ بھال اور فصل کی کٹائی کے پورے عمل کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ شمال مشرقی چین میں زیادہ عرصے تک رہنے والی شدید سردی ، کھیتی باڑی کی محدود مدت اور ہاتھ سے کام کرنے کی کم کارکردگی جیسے چیلنجز کو مؤثر طریقے سے حل کرتی ہے۔
سمارٹ مشینری بیجوں کی یکساں بوائی ، درست کھاد ڈالنے اور متغیر شرح کی کیڑے مار ادویہ کے استعمال کو ممکن بناتی ہے، جس سے وسائل کے زیاں میں کمی ، مٹی کے معیار میں بہتری اور زرخیزی کے تحفظ میں مدد ملتی ہے۔ نمائشی زونز میں، ان مشینوں کے استعمال سے اناج کی بڑی فصلوں جیسے کہ مکئی اور سویا بین کی لاگت میں نمایاں بچت اور کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ سیریز اب بڑے پیمانے پر پیداوار اور تشہیر کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔



