• صفحہ اول>>چین پاکستان

    چین- پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تعمیر کو نئی بلندیوں تک لے جایا جا رہا ہے

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-06-09

    تحریر:یانگ روئی - ایسوسی ایٹ پروفیسر، سکول آف انٹرنیشنل کمیونیکیشن ،کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنا ۔ ڈائریکٹر پاکستان سٹڈی سینٹر ،کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنا

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے 23 سے 26 مئی تک، چین کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران، صدر شی جن پھنگ اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے چین اور پاکستان کے درمیان ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے، ایک اور بھی زیادہ مضبوط چین - پاک مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تشکیل کو تیز کرنے اور ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کے تحفظ میں بھرپور حمایت پر اتفاق کیا جس سے چین- پاکستان تعلقات کو سیاسی رہنمائی اور مضبوط محرک ملا ہے۔ دونوں فریقین نے خاص طور پر، اعلیٰ معیار کے ساتھ "بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو" (BRI) کی مشترکہ تعمیر، سی پیک کی مشترکہ تعاون کمیٹی (JCC) کا اجلاس منعقد کرنے اور سی پیک کے "اپ گریڈڈ ورژن 2.0" کی اعلیٰ معیار کی ترقی کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

    جیسا کہ سب جانتے ہیں، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے۔ اس کے آغاز سے ہی، دونوں ممالک نے باہمی مشاورت، مشترکہ تعمیر اور مشترکہ فوائد کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے راہداری کی تعمیر کو آگے بڑھایا ہے۔ اس کے ابتدائی ثمرات حاصل ہوئے ہیں، جنہوں نے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں نئی جان ڈالی ہے اور علاقائی رابطے اور انضمام کے عمل کے لیے ایک مضبوط بنیاد رکھی ہے۔ سی پیک کے پہلے مرحلے میں، دونوں فریقین نے پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے پر توجہ مرکوز کی، نقل و حمل اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے کئی بڑے منصوبوں پر عمل درآمد کو فروغ دیا۔

    اس وقت، سی پیک کی تعمیر اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جو توسیع اور بہتری کا مرحلہ ہے۔ ابتدائی تعمیر کی بنیاد پر، دونوں فریقین موجودہ وسائل اور حالات سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان میں اعلیٰ معیار کے بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کے آٹھ اقدامات کو نافذ کرنے اور انہیں پاکستان کے "5Es" ترقیاتی فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس کا مقصد ترقی، روزگار ، جدت و اختراع ، سبز معیشت اور وسیع علاقائی ترقی کی راہداریوں کی مشترکہ تعمیر کے ذریعے سی پیک کا ایک "اپ گریڈڈ ورژن" تیار کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں اور اس دورے کے دوران چین اور پاکستان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں سی پیک کی تعمیر کے حوالے سے کئی نئے اقدامات اور تعاون کے منصوبے پیش کیے گئے ہیں۔

    پہلا، چین اور پاکستان کے درمیان صنعتی اور پیداواری صلاحیت کے تعاون کو فعال طور پر فروغ دینا۔ چین پاکستان کی صنعت کاری کے عمل اور برآمدی رجحان پر مبنی صنعتوں کی ترقی کی حمایت پر زور دیتا ہے۔ وہ اپنی کمپنیز کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ مارکیٹ اور تجارتی اصولوں کے مطابق پاکستان کے ان خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) میں سرمایہ کاری کریں جو اس کی شرائط پوری کرتے ہوں۔ پاکستان کاروبار کے لیے سازگار ماحول کو مسلسل بہتر بنانے اور چینی کمپنیز کو مراعات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ دونوں ممالک چینی کمپنیز کو پاکستان میں کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کی ترغیب بھی دے رہے ہیں نیز متعلقہ محکمے زمینی اور سمندری ارضیاتی وسائل کے سروے میں تعاون کر رہے ہیں۔ پاکستان اپنے تیل اور گیس کے آف شور وسائل کی تلاش میں چینی کمپنیز کی شرکت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ دونوں فریقین سی پیک کی تعمیر میں تیسرے فریق کی شمولیت کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں، جس کا طریقہ کار چین اور پاکستان کی باہمی رضامندی سے طے پائے گا۔

    دوسرا، اہم اور نمایاں منصوبوں کو ترجیحی طور پر آگے بڑھانا۔ چین پاکستان تعاون کو سہارا دینے میں اہم منصوبے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس دورے کے دوران، دونوں فریقین نے قراقرم ہائی وے فیز ٹو (تھاکوٹ سے رائے کوٹ سیکشن) کے ری الائنمنٹ منصوبے کو منظم طریقے سے اور مرحلہ وار آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ گوادر بندرگاہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور اسے علاقائی رابطے کا مرکز بنانے پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ، خنجراب پاس کا بہتر استعمال کرتے ہوئے چین اور پاکستان کے درمیان زمینی رابطے کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

    تیسرا، عوامی فلاح و بہبود کے "چھوٹے اور پرکشش " منصوبوں کی حمایت جاری رکھنا۔ چین نے پاکستان میں عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا تاکہ ترقی کے نتائج پاکستان کے تمام علاقوں اور تمام قومیتوں تک پہنچ سکیں۔ پاکستان نے چینی تعاون، خاص طور پر سولر لائٹنگ آلات اور ہیلتھ کٹس کی فراہمی، نیز گوادر کے علاقے میں پاک -چین دوستی ہسپتال، گوادر ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل سکول اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹ  جیسے اہم منصوبوں پر چین کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں فریقین نے سی پیک کے سماجی اور اقتصادی ترقیاتی ورکنگ گروپ کے فریم ورک کے تحت صحت، زراعت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور آفات سے بچاؤ کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو مستقل طور پر فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

    چین اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سالوں میں، دونوں ممالک نے باہمی افہام و تفہیم، اعتماد اور حمایت کے ذریعے ایک لازوال روایتی دوستی قائم کی ہے۔ ان کے درمیان تزویراتی باہمی اعتماد اور عملی تعاون نے دونوں ممالک کی ترقی کو مؤثر طریقے سے فروغ دیا ہے۔ بین الاقوامی حالات خواہ کتنے ہی کیوں نہ بدلیں، چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو اپنی ہمسایہ سفارت کاری میں ترجیح دیتا ہے۔ دونوں فریقین کو نئے دور میں ایک اور بھی زیادہ مضبوط چین - پاک مشترکہ مستقبل کی حامل برادری کی تشکیل کو تیز کرنا چاہیے، تاکہ ان کا سدا بہار تعاون مزید ثمرات لائے، دونوں ممالک کے عوام کو بہتر فائدہ پہنچے، علاقائی امن و استحکام میں حصہ ڈالا جا سکے، اور پڑوسی ممالک کے ساتھ مشترکہ مستقبل کی حامل کمیونٹی کی تشکیل کے لیے ایک مثال قائم کی جا سکے۔

    ویڈیوز

    زبان