• صفحہ اول>>چینی معاشرت

    اپنے خوابوں کے تعاقب میں 12.9 ملین چینی نوجوانوں کی گاو کھاو  2026 میں شرکت

    (پیپلز ڈیلی آن لائن)2026-06-09

    7 جون 2026۔ چین کے صوبے شان دونگ کے شہر گاؤمی میں، کالج کے قومی داخلہ امتحان سے پہلے ، گاو کھاو سینٹر کے باہر معلمہ اپنے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے ساتھ تصویر بنوا رہی ہیں۔ (شنہوا۔ لِی ہائی تھاو )

    7 جون 2026۔ چین کے صوبے شان دونگ کے شہر گاؤمی میں، کالج کے قومی داخلہ امتحان سے پہلے ، گاو کھاو سینٹر کے باہر معلمہ اپنے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے ساتھ تصویر بنوا رہی ہیں۔ (شنہوا۔ لِی ہائی تھاو )

    9 جون 2026(پیپلز ڈیلی آن لائن)7 جون کو ، چین بھر میں تقریباً 12.9 ملین نوجوانوں نے کالج کے سالانہ داخلہ امتحان، یعنی گاوکھاؤ، میں شرکت کی۔ یہ امتحان چینی نوجوانوں کی زندگی کا اہم ترین سنگ میل ہے۔ 49 سال پہلے جب اس امتحان کا دوبارہ سے اجرا کیا گیا تھا اس وقت امتحان میں شرکت کرنے والے طلبہ کی تعداد ، 5.7 ملین تھی،رواں سال اس امتحان میں شریک ہونے والے طلبہ کی تعداد اس وقت کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے تاہم یہ ، پچھلے سال کے 13.35 ملین شرکا کی تعداد سے تھوڑی سی کم ہے۔

    منتخب مضامین کے لحاظ سے امتحان کا دورانیہ دو سے چار دن تک ہوگا۔ بیجنگ میں ، صبح 7 بجے کے بعد سے امیدوار ، بیجنگ ہائی سکول 101کے امتحانی مرکز پر پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔اس سال، اس سکول نے 27 امتحانی کمرے اور 3 بیک اپ کمرے تیار کیے ہیں۔ امتحانی مرکز کے باہر آندھی اور بارش سے محفوظ رہنے کے لیے 200 میٹر طویل راہداری اور ساتھ ہی ایک آرام گاہ بھی ہے جس میں 1,000 سے زائد نشستیں ہیں تاکہ امیدوار، امتحانی سیشنز کے درمیان وقفے میں آرام کر سکیں۔ اس کے علاوہ طلبہ کے ساتھ آنے والوں کے لیے مخصوص انتظار گاہیں بھی موجود ہیں۔ چار روزہ امتحان کے دوران شور کو کم کرنے کے لیے حکام کی جانب سےشہر میں بسوں کے راستے تبدیل کردیئے گئے ہیں اور تعمیراتی کاموں کو رکوا دیا گیا ہے۔

    وقت کے ساتھ بتدریج ارتقا

    چین کے مشرقی صوبے جیانگ شی کے دارالحکومت نان چھانگ میں، 79 سالہ گان فوباو ، 49 سال پہلے اس وقت کے ان 5.7 ملین طلبہ میں سے ایک تھے جنہوں نے 1977 میں بحال ہونے والے کالج کےپہلے قومی داخلہ امتحان میں شرکت کی تھی ۔

    1966 میں، جب وہ مڈل سکول سے گریجویٹ ہونے والے تھے تو ملک بھر میں یونیورسٹیز میں داخلے معطل کر دیئے گئے ، جس سے ان کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ بعد میں انہوں نے ایک فرنٹ لائن فیکٹری ورکر کے طور پر کام کرنا شروع کیا۔

    وہ کہتے ہیں کہ 1977 میں جب گاؤکھاو کا سلسلہ بحال ہوا تو ہماری خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا ۔ اگرچہ اس وقت ان کی عمر 30 سال کے لگ بھگ تھی لیکن ان کی خواہش تھی کہ وہ نوجوان امیدواروں کے ساتھ اس امتحان میں شریک ہوں کیونکہ وہ اپنے ملک کے لیے اپنا بہترین کردار ادا کرنا چاہتے تھے۔

    ان کے پاس تعلیمی مواد کا نیا مکمل سیٹ نہیں تھا ، انہوں نے نصاب کی پرانی کتب میں سے اہم نکات کو لکھ لکھ کر یاد کرنے کی کوشش کی۔وہ دن کے وقت فیکٹری میں کام کرتے تھے اور رات کے وقت پڑھائی کرتے تھے۔وہ بتاتے ہیں کہ سائنس کے امیدوار کے طور پر، چینی زبان کا امتحان نسبتاً آسان لگا جس میں "ناقابلِ فراموش لمحہ' کے عنوان پر ایک مضمون تحریر کرنے کے لیے کہا گیا تھااور انہوں نے لکھا کہ ، "میرے لیے، میری زندگی کا سب سے نا قابلِ فراموش لمحہ وہ تھا جب امتحان کا ایڈمٹ کارڈ ہاتھ میں پکڑا تھا ، جو کہ 11 سال کی محنت کے بعد ملاتھا ۔"ان کی محنت رنگ لائی اور آخر کار انہیں اس وقت کی جیانگ شی یونیورسٹی کے شعبہِ طبیعیات میں داخلہ مل گیا۔ اس امتحان نے ان کی زندگی کا رخ ہی تبدیل کردیا ۔ گریجویشن کے بعد انہوں نے ٹیلی ویژن تیار کرنے والی ایک مقامی فیکٹری میں ٹیکنیشن کی حیثیت سے نوکری حاصل کی۔

    6 جون 2026۔ 79 سالہ گان فوباو ، 1977 میں دوبارہ سے بحال ہونے کے بعد کالج کےپہلے قومی داخلہ امتحان کے لیے ملنے والا اپنا ایڈمٹ کارڈ دکھا رہے ہیں ۔(شنہوا۔ وان شیانگ)

    6 جون 2026۔ 79 سالہ گان فوباو ، 1977 میں دوبارہ سے بحال ہونے کے بعد کالج کےپہلے قومی داخلہ امتحان کے لیے ملنے والا اپنا ایڈمٹ کارڈ دکھا رہے ہیں ۔(شنہوا۔ وان شیانگ)

    نئے تعلیمی راستے

    چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے مطابق، ملک کی وہ معروف جامعات ، جن کا موازنہ اکثر ،امریکا کے آئیوی لیگ سکولز سے کیا جاتا ہے، پانچ سال کی مدت میں انڈرگریجویٹ داخلے کی 100,000 سے زیادہ نئی جگہیں تخلیق کریں گی۔2025 میں، 29 نئے انڈرگریجویٹ مضامین، جن میں کاربن نیوٹرلٹی سائنس اور انجینئرنگ، کم ارتفاع کی ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ، اور صنعتی سافٹ ویئر شامل ہیں، اعلیٰ تعلیم کے قومی کیٹلاگ میں شامل کیے گئے، جب کہ جنرل مارکیٹنگ اور جاپانی زبان کے مطالعے جیسے پروگرامز کو بہت سے سکولز میں ختم کر دیا گیا ۔

    اعلیٰ تعلیم کو ملک کی سب سے اہم ورک فورس میں موجود کمی کو حل کرنے کی طرف لے جانے کی ایک حکمت عملی کے تحت ،2026 کے کیٹلاگ میں مزید 38 نئے مضامین، جن میں ایمباڈیڈ انٹیلیجنس اور ریئر ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ کو شامل کیا گیا ہے ۔صوبہ جیانگ شی کے شہر گان جو کی جیانگ شی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی۔، ملک کی پہلی یونیورسٹی ہے جہاں ریئر ارتھ سائنس اینڈ انجینئرنگ کا مضمون پیش کیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے سکول آف ریئر ارتھ کے ایگزیکٹو ڈین، شیاو یان فئے کے مطابق، ریئر ارتھ سے متعلقہ شعبوں میں انڈرگریجویٹ ٹیلنٹ کا ذخیرہ بڑھانا ، صنعت کی صلاحیت کی سطح کی ساخت کو بہتر بنانے اور درمیانے سے سینئر عہدوں کے لیے ٹیلنٹ کے خلا کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ چین، دنیا کا سب سے بڑا ریئر ارتھ منرل سپلائر ہے اور جیانگ شی نے چین کی سرکردہ کمپنیز کو اکٹھا کیا ہے اور سینکڑوں ارب یوان کا صنعتی کلسٹر تشکیل دیا ہے۔

    کالج کے وہ طلبہ، جنہوں نے اپنے شعبے کا انتخاب کر لیا ہے ان کے لیے کیمپس میں اپنے سیکھنے کے راستے کو ترتیب دینے اور بہتر بنانے کے لیے انتخاب میں لچک موجود ہے۔ بہت سی جامعات اب، مصنوعی ذہانت سے لے کر کم ارتفاع کی معیشت تک کے ہائی ڈیمانڈ والے جدید شعبوں میں مائیکرو-میجرز اور ماڈیولر کورسز پیش کرتی ہیں، جو طلبہ کو تیزی سے ترقی پذیر صنعت کی ضروریات کے مطابق مہارتیں حاصل کرنے میں مددگار ہیں۔

    چین کے آٹھ قومی کمپیوٹنگ مراکز میں سے ایک صوبہ گانسو کا شہر چھنگ یانگ، ڈیجیٹل ترقی کے دور سے گزر رہا ہے اور یہ صوبے کا پہلا "کم ارتفاع کی معیشت کا شہر" تشکیل دے رہا ہے۔ 20 سالہ جانگ لِن شینگ جو ، چھنگ یانگ کی لونگ دونگ یونیورسٹی میں مکینیکل ڈیزائن، مینیوفیکچرنگ اینڈ آٹو میشن میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں انہیں جب معلوم ہوا کہ ان کی یونیورسٹی نے بغیر پائلٹ والےہوائی جہاز (UAV) کی ٹیکنالوجی اور کم ارتفاع کی معیشت میں ایک نیا مائیکرو میجر شروع کیا ہے ،تو انہیں بے حد خوشی ہوئی ۔ جانگ لِن شینگ کوUAV میں بہت دلچسپی تھی تاہم جن جامعات میں انہوں نے اپنی انڈرگریجویٹ تعلیم کے لیے درخواست دی تھی وہاں ایسا کوئی میجر نہیں تھا۔ اس وقت وہ صرف کتابیں پڑھ کر اور آن لائن معلومات تلاش کر کے متعلقہ صنعتوں کے بارے میں خود کو سکھا سکتے تھے۔ جانگ اور ان جیسے کئی اور نوجوانوں کو کچھ معلوم نہیں تھا کہ اس سلسلے کو کہاں سے شروع کیا جائے اور ساتھ ہی اس فیلڈ کے بارے میں جو بہت سی غلط فہمیاں تھیں ان کو کیسے دور کیا جائے۔جب یونیورسٹی میں اس نئے مائیکرو میجر کا علم ہوا تو انہوں نے اس کے لیے سائن اپ کیا، انتخابی عمل میں کامیابی کے بعد اس سمسٹر کے آغاز میں، انہوں نے کم ارتفاع کی معیشت کے گروپ میں داخلہ حاصل کر لیا ہے ۔جانگ کی رائے میں یہ نئے پروگرام اور کورسز انہیں کاروباری اداروں کے ساتھ براہ راست کام کرنے نیز مارکیٹ اور وسیع تر صنعت کے ساتھ عملی تجربہ حاصل کرنے کے مزید مواقع فراہم کر رہے ہیں اور اب ا ن کےمستقبل کا راستہ اور طویل مدتی زندگی کے اہداف زیادہ واضح ہیں۔

    7 جون 2026۔ چین کے جنوب مغربی صوبے گوئے جو میں، کالج کے قومی داخلہ امتحان مرکز کے باہر اساتذہ اور والدین، طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے بینرز لیے موجود ہیں۔ (شنہوا- یوان فوہونگ)

    7 جون 2026۔ چین کے جنوب مغربی صوبے گوئے جو میں، کالج کے قومی داخلہ امتحان مرکز کے باہر اساتذہ اور والدین، طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے بینرز لیے موجود ہیں۔ (شنہوا- یوان فوہونگ)

    چھو جاو حوئی کا کہنا ہے کہ چین اپنے انڈرگریجویٹ مضامین کو بنیادی شعبوں کے گرد نئے سرے سے ترتیب دے رہا ہے، جن میں قومی سٹریٹجک ترجیحات کے لیے ہارڈ ٹیک ، نئے اقتصادی شعبے، روایتی صنعتوں اور ثقافتی شعبوں کی ترقی کے لیے ٹیکنالوجی شامل ہیں۔یہ صرف مضامین کی فہرست میں توسیع نہیں ہے، بلکہ یہ چین کے اعلیٰ تعلیم کے نظام کی جانب سے ایک سٹریٹجک اقدام ہے تاکہ سپلائی کو بہتر بنایا جا سکے، صلاحیتوں کی نشوونما کی تشکیل نو کی جا سکے اور قومی ٹیکنالوجی کی خود انحصاری اور اعلیٰ معیار کی ترقی کی معاونت کی جا سکے۔

    چینی پالیسی سازوں کا مقصد مستقبل کی ورک فورس تیار کرنا ہے جو بنیادی مہارتوں سے لیس ہو: تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور موافقت۔ اسی کے مطابق، گاوکھاؤ نے یاد کرنے یا رٹا لگانے کے روایتی طریقے کی بجائے طلباء کی مشاہدے اور عملی مسئلہ حل کرنے کی صلاحیتوں کا اندازہ لگانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔

    ویڈیوز

    زبان