• صفحہ اول>>دنیا

    امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع

    (CRI)2026-06-10

    9 جون کو، امریکی سنٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ صدر ٹرمپ کی ہدایت پر امریکی افواج نے امریکی مشرقی وقت کے مطابق شام 5 بجے ایران کے خلاف "دفاعی" کارروائی کا آغاز کیا۔امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک روز قبل امریکی "اپاچی" ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے واقعے کے ردعمل میں کی گئی۔ امریکی سنٹرل کمانڈ نے کہا کہ یہ کارروائی ایران کے "بلا اشتعال جارحانہ اقدام" کا جواب ہے۔

    امریکی فوج کی جانب سے بیان جاری ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے علاقوں سیریک، جزیرہ قشم اور میناب میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان علاقوں کو امریکی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے اطراف ایران کے متعدد فضائی دفاعی اور ریڈار نظاموں پر بھی حملے کیے ہیں۔

    9 جون کو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کے جوہری مسئلے کے حل سے متعلق معاہدہ آئندہ ایک ہفتے میں بھی طے پا سکتا ہے اور اس میں کئی ماہ بھی لگ سکتے ہیں، تاہم ان کے بقول نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل اس معاملے میں "یقینی طور پر" کوئی نتیجہ سامنے آ جائے گا۔

    دریں اثنا 10 جون کو ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا کہ اس نے علی الصبح بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ پر ڈرون حملہ کیا ہے۔

    ویڈیوز

    زبان