
(تصویر:چھین شیا/جی ٹی)
کچھ وقت پہلے تک ، چین کا سفر بین الاقوامی سیاحوں کے لیے ویزا فارم، زبان کی رکاوٹوں اور ادائیگی کے غیر معمولی نظاموں کا ایک گھن چکر محسوس ہوتا تھا، لیکن یہ سب باتیں تیزی سے ماضی کا قصہ بنتی جا رہی ہیں۔
ٹور اینڈ ٹریول ورلڈ (TTW) کے حالیہ تجزیے کے مطابق، چین اب امریکا، جرمنی اور جاپان جیسے بڑے سیاحتی ممالک سے آگے نکلنے کے لیے تیار ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سٹریٹجک پالیسی اصلاحات، بنیادی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی سرمایہ کاری اور تیز ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے، چین عالمی سیاحت میں ایک حقیقی رہنما کے طور پر ابھر رہا ہے۔
یہ صرف ایک "ہیڈ لائن" نہیں ہے ، یہ ایک "انویٹیشن" ہے۔
دنیا کو یہ دیکھنے کی دعوت دی جا رہی ہے کہ چین کا سیاحتی عروج بین الاقوامی سفر کے تانے بانے کو کس طرح دوبارہ تشکیل دے رہا ہے۔
اول تو یہ کہ ، چین میں رسائی بے مثل ہے۔ TTW کے مطابق، چین نے 50 سے زائد ممالک کے لیے ویزا فری پالیسیز نافذ کی ہیں، جس نے اندرون ملک اور بیرون ملک سفر کو مؤثر طور پر کھول دیا ہے۔
ویزا فری کی فہرست میں شامل ملک کا سیاح ، اب شہرِ ممنوعہ یعنی تاریخی فاربڈن سٹی یا ٹیرا کوٹا واریئرز جیسے شاندار تاریخی مقامات کو ایسی ہی آسانی سے دیکھ سکتا ہے جیسے پیرس یا روم کے لیے ویک اینڈ ٹرپ بک کرتا ہے۔
دوسرا، رابطے کا نظام بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ تیز رفتار ریلوے اور فضائی نیٹ ورکس اب نہ صرف بیجنگ اور شنگھائی جیسے بڑے شہروں کو بلکہ چھنگ دو، ہانگ جو اور شی آن جیسے زندہ دل شہروں کو بھی باہم منسلک کرتے ہیں جس سے ایک طرف سیاحوں کو مقامی ثقافتوں کا حقیقی تجربہ اور مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے اور دوسری طرف علاقائی اقتصادی ترقی کو بھی فروغ ملتا ہے۔
پھر باری آتی ہے ڈیجیٹل انقلاب کی ، چین نے موبائل ادائیگی، داخلے کے بائیو میٹرک نظام اور سمارٹ نیویگیشن ٹولز کا ایک ہموار نظام تیار کیا ہے۔یہ فکر مندی کہ "چین میں اپنے کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی نہیں ہوسکتی " بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ ٹور اینڈ ٹریول ورلڈ نے نشاندہی کی ہے کہ ، سفر کے بنیادی ڈھانچے میں ڈیجیٹل جدت کی شمولیت نے ایک ایسا آسان اور ہموار سلسلہ تخلیق کیا ہے جس کی نقل کرنے میں متعدد مغربی ممالک اب بھی مشکلات محسوس کر رہے ہیں۔
یہ محض باتیں نہیں ہیں ، اعداد و شمار خود بولتے ہیں۔ چین کی سیاحتی صنعت کا مارکیٹ سائز 2025 میں 1.8 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا، جو کہ سال بہ سال 9.9 فیصد کا اضافہ ہے اور اسی دورانیے میں بین الاقوامی آمد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
چین کی خاص بات اس کا ترقی کا "ڈوئل انجن ماڈل" ہے، جو اندرون ملک اور بیرون ملک سفر کو بیک وقت متحرک کرتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ چینی شہری دنیا کی سیر کر رہے ہیں اور اسی طرح مزید بین الاقوامی سیاح چین کی سیاحت کے لیے آرہے ہیں۔ یہ دو طرفہ بہاؤ، بڑے پیمانے پر ثقافتی سمجھ بوجھ کو بھی فروغ دیتا ہے۔
ٹی ٹی ڈبلیو کے ایڈیٹر ان چیف انوپ کمار کیشان کے الفاظ میں ، چین کا سفر اور سیاحت میں بے مثال عروج ، عالمی سیاحت کے نقشے کی تشکیل نو کررہا ہے، سٹریٹجک اصلاحات، جدید انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل جدت ، روایتی رہنماؤں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے ، اقتصادی ترقی کے لیے ایک نیا معیار قائم کرنے میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
آج، بیجنگ کے حو تھونگ یا ہانگ جوکی ویسٹ لیک کے کنارے چلتے ہوئے، آپ ایک ایسا ملک دیکھتے ہیں جو قدیم اور جدید دونوں کا امتزاج ہے اور ایسا ہم آہنگ امتزاج کہیں اور نہیں ملتا۔ کھانے، مناظر، زندگی کی رفتار، اور عام لوگوں کی مہمان نوازی سب آپ کے منتظر ہیں۔
لیکن چین کی ان سیاحتی کوششوں کے پیچھے سب سے گہرا پیغام خود اعتمادی کے ساتھ کھلنے کا ہے۔ ایک حقیقی بڑی طاقت ، دیواروں کے پیچھے نہیں چھپتی؛ یہ اپنے دروازے کھولتی ہے، دنیا بھر کے سیاحوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ عام چینی لوگوں کی روزمرہ زندگی کا تجربہ کریں اور عالمی ثقافتی ورثے کی شان و شوکت کو دیکھیں۔ یہ ایک ایسی تہذیب کا اعتماد ہے جو ہزاروں سالوں کو جھیل کر یہاں تک پہنچی ہے اور اب بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مستقبل کی جانب گامزن ہے۔
اپنا سامان باندھیں ، پرواز کی بکنگ کریں اور چین آئیں اور یہ سب خود دیکھیں ، پھر چاہے آپ شنگھائی کی شاندار سکائی لائن دیکھ کر حیرت زدہ ہوں، گوئیلن کے ڈھلوانوں پر بنے چاول کے تہہ در تہہ کھیتوں میں ایک افسانوی ماحول کو محسوس کریں یا یوننان کے ایک مقامی خاندان کے ساتھ مقامی چائے کا لطف اٹھائیں، آپ ہر جگہ سے ایک مختلف کہانی کے ساتھ واپس جائیں گے -ایک ایسی کہانی جو کسی نیوز آوٹ لیٹ یا خبر کے ذریعے مکمل طور پر بیان نہیں کی جاسکتی ہے ۔
اس نئے سیاحتی دور میں آپ کو خوش آمدید کہنے کے لیے چین تو تیار ہےلیکن ، کیا آپ تیار ہیں؟



